عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ - يَعْنِي : ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ - رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا - قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا إِلَى جَنْبِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَمَرَّ شَيْخٌ جَمِيلٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ وَفِي أُذُنَيْهِ صَمَمٌ - أَوْ قَالَ : وَقْرٌ - فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ حُمَيْدٌ فَلَمَّا أَقْبَلْ قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي أَوْسِعْ لَهُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكَ فَإِنَّهُ قَدْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَقَالَ لَهُ حُمَيْدٌ : حَدِّثْنِي بِالْحَدِيثِ الَّذِي حَدَّثْتَنِي بِهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ تَعَالَى وَآلِهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ الشَّيْخُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يُنْشِئُ السَّحَابَ فَيَنْطِقُ أَحْسَنَ النُّطْقِ وَيَضْحَكُ أَحْسَنَ الضَّحِكِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سعد بن ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف بیان کرتے ہیں : میں حمید بن عبدالرحمن کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران بنی غفار سے تعلق رکھنے والے ایک خوبصورت بزرگ گزرے ، جن کی سماعت کمزور تھی ، حمید نے انہیں پیغام بھیجا ، جب وہ آئے تو انہوں نے کہا: میرے بھانجے ! تم ان کے لئے اور میرے لئے جگہ کشادہ کر دو ، کیونکہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ، وہ صاحب تشریف لائے ، اور میرے اور حمید کے درمیان تشریف فرما ہوئے ، حمید نے اُن سے کہا: آپ مجھے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے ، جو آپ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کریں ، تو اُن بزرگ نے بتایا : کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک اللہ تعالی بادل کو پیدا کرتا ہے ، اور وہ عمدہ کلام کرتا ہے ، اور اچھی طرح سے ہنستا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ قَالَ : رَأَى أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَحَابَةً فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنَّا نَرْجُوا أَنْ تُمْطِرَنَا هَذِهِ السَّحَابَةُ فَقَالَ : " إِنَّ هَذِهِ أُمِرَتْ أَنْ تُمْطِرَ بَلَيْلٍ " ، - يَعْنِي وَادِيًا يُقَالُ لَهُ : بِلَيْلٍ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سبرہ بن معبد بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے بادل دیکھا ، تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمیں یہ امید ہے کہ اس بادل کے ذریعے ہم پر بارش نازل ہو گی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسے یہ حکم دیا گیا ہے کہ یہ ” بلیل “ ( نامی راوی ) میں بارش نازل کرے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ایک وادی تھی ، جس کا نام ” بلیل“ تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا حَرَّكَتِ الْجَنُوبُ قُعْرَةً مِنْ قَعْرِ وَادٍ إِلَّا أَسَالَتْهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ عَطَاءٍ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَ لَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جنوب سے چلنے والی ہوا ، جب بھی کسی وادی کے گڑھے ( یعنی نشیبی حصے ) میں حرکت کرتی ہے ، تو اس کو پانی سے بھر دیتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن عطاء ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن عطاء ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا نَشَأَتْ بَحْرِيَّةٌ ثُمَّ تَشَاءَمَتْ فَهِيَ عَيْنٌ غَدِيقَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : تَفَرَّدَ بِهِ الْوَاقِدِيُّ ، قُلْتُ : وَفِي الْوَاقِدِيِّ كَلَامٌ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ لَا بَأْسَ بِهِمْ وَقَدْ وُثِّقُوا . وَاللَّهُ أَعْلَمُ ¤ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَبِهِ نَسْتَعِينُ رَبِّ يَسِّرْ وَتَمِّمْ بِالْخَيْرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب سمندر ( یعنی مدینہ منورہ کے مغرب ) کی طرف سے ہوا چلے اور وہ شام ( یعنی مدینہ منورہ کے شمال ) کی طرف جائے ، تو وہ بھر پور بارش والی ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : واقدی اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : واقدی کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، ایک سے زیادہ حضرات نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال میں کوئی حرج نہیں ہے ، ان کی توثیق کی گئی ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : واقدی اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : واقدی کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، ایک سے زیادہ حضرات نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال میں کوئی حرج نہیں ہے ، ان کی توثیق کی گئی ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔