حدیث نمبر: 3304
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ صَنْعَاءَ قَالَ : كُنَّا بِمَكَّةَ فَجَلَسْنَا إِلَى عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ إِلَى جَنْبِ جِدَارِ الْمَسْجِدِ فَلَمْ نَسْأَلْهُ وَلَمْ يُحَدِّثْنَا قَالَ : ثُمَّ جَلَسْنَا إِلَى ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - مِثْلَ مَجْلِسِكُمْ هَذَا فَلَمْ نَسْأَلْهُ وَلَمْ يُحَدِّثْنَا فَقَالَ : مَا لَكُمْ لَا تَكَلَّمُونَ وَلَا تَذْكُرُونَ اللَّهَ ؟ قُولُوا : اللَّهُ أَكْبَرُ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ بِوَاحِدٍ عَشْرٌ وَبِعَشْرٍ مِائَةٌ مَنْ زَادَ زَادَهُ اللَّهُ وَمَنْ سَكَتَ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ خَمْسًا سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قُلْنَا : بَلَى ، قَالَ : " وَرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ حَافِظُوا عَلَيْهِمَا فَإِنَّ فِيهِمَا الرَّغَائِبَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین

صنعاء سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : میں مکہ میں موجود تھا ہم لوگ عطاء خراسانی کے پاس ایک مسجد کی دیوار کے پہلو میں بیٹھے ہوئے تھے ، نہ تو ہم نے اُن سے کوئی سوال کیا ، اور نہ ہی اُنہوں نے ہمیں کوئی حدیث بیان کی ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر ہم لوگ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر بیٹھے ، جس طرح تم لوگ بیٹھے ہوئے ہو ، ہم نے ان سے بھی کوئی سوال نہیں کیا ، اور انہوں نے بھی ہمیں کوئی حدیث بیان نہیں کی ، پھر انہوں نے ارشاد فرمایا : کیا وجہ ہے ؟ تم لوگ کیوں بات نہیں کر رہے ہو ؟ تم اللہ تعالیٰ کا ذکر کیوں نہیں کر رہے ؟ تم لوگ کہو : «الله اكبر» اور «سبحان الله و بحمده» ایک کے بدلے میں دس ہوں گے ، دس کے بدلے میں سو ہوں گے ، جو شخص زیادہ کرے گا ، تو اللہ تعالیٰ اسے مزید اجر و ثواب عطا کرے گا ، جو شخص خاموش رہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کرے ، کیا میں تمہیں پانچ چیزوں کے بارے میں نہ بتاؤں ، جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہیں ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں ! سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بتایا : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا : ) ” فجر کی دو رکعات کو تم باقاعدگی سے ادا کرنا ، کیونکہ ان دونوں میں رغبت پائی جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، جسے امام ابوداؤد نے بھی روایت کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3304
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف لِجَہَالَۃِ الرَّاوِی