حدیث نمبر: 3297
عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ - يَعْنِي : ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ - رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا - قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا إِلَى جَنْبِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَمَرَّ شَيْخٌ جَمِيلٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ وَفِي أُذُنَيْهِ صَمَمٌ - أَوْ قَالَ : وَقْرٌ - فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ حُمَيْدٌ فَلَمَّا أَقْبَلْ قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي أَوْسِعْ لَهُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكَ فَإِنَّهُ قَدْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَقَالَ لَهُ حُمَيْدٌ : حَدِّثْنِي بِالْحَدِيثِ الَّذِي حَدَّثْتَنِي بِهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ تَعَالَى وَآلِهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ الشَّيْخُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يُنْشِئُ السَّحَابَ فَيَنْطِقُ أَحْسَنَ النُّطْقِ وَيَضْحَكُ أَحْسَنَ الضَّحِكِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سعد بن ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف بیان کرتے ہیں : میں حمید بن عبدالرحمن کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران بنی غفار سے تعلق رکھنے والے ایک خوبصورت بزرگ گزرے ، جن کی سماعت کمزور تھی ، حمید نے انہیں پیغام بھیجا ، جب وہ آئے تو انہوں نے کہا: میرے بھانجے ! تم ان کے لئے اور میرے لئے جگہ کشادہ کر دو ، کیونکہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ، وہ صاحب تشریف لائے ، اور میرے اور حمید کے درمیان تشریف فرما ہوئے ، حمید نے اُن سے کہا: آپ مجھے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے ، جو آپ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کریں ، تو اُن بزرگ نے بتایا : کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک اللہ تعالی بادل کو پیدا کرتا ہے ، اور وہ عمدہ کلام کرتا ہے ، اور اچھی طرح سے ہنستا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3297
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔