حدیث نمبر: 3300
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا نَشَأَتْ بَحْرِيَّةٌ ثُمَّ تَشَاءَمَتْ فَهِيَ عَيْنٌ غَدِيقَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : تَفَرَّدَ بِهِ الْوَاقِدِيُّ ، قُلْتُ : وَفِي الْوَاقِدِيِّ كَلَامٌ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ لَا بَأْسَ بِهِمْ وَقَدْ وُثِّقُوا . وَاللَّهُ أَعْلَمُ ¤ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَبِهِ نَسْتَعِينُ رَبِّ يَسِّرْ وَتَمِّمْ بِالْخَيْرِ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب سمندر ( یعنی مدینہ منورہ کے مغرب ) کی طرف سے ہوا چلے اور وہ شام ( یعنی مدینہ منورہ کے شمال ) کی طرف جائے ، تو وہ بھر پور بارش والی ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : واقدی اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : واقدی کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، ایک سے زیادہ حضرات نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال میں کوئی حرج نہیں ہے ، ان کی توثیق کی گئی ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3300
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «موطا مالك كتاب الاستسقاء ، باب الاستمطار بالنجوم 453 ، المعجم الاوسط للطبراني باب العين باب الميم من اسمه محمد 7901»