حدیث نمبر: 3278
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " قَالَ رَبُّكُمْ - عَزَّ وَجَلَّ - : لَوْ أَنَّ عَبِيدِي أَطَاعُونِي لَأَسْقَيْتُهُمُ الْمَطَرَ بِاللَّيْلِ وَأَطْلَعْتُ عَلَيْهِمُ الشَّمْسَ بِالنَّهَارِ وَلَمَا أَسْمَعْتُهُمْ صَوْتَ الرَّعْدِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَزَادَ فِيهِ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " جَدِّدُوا إِيمَانَكُمْ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ نُجَدِّدُ إِيمَانَنَا ؟ قَالَ : " جَدِّدُوا إِيمَانَكُمْ بِقَوْلِ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " . ¤ وَقَالَ : لَا يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، قُلْتُ : وَمَدَارُهُ عَلَى صَدَقَةَ بْنِ مُوسَى الدَّقِيقِيِّ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ وَقَالَ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ : حَدَّثَنَا صَدَقَةُ الدَّقِيقِيُّ ، وَكَانَ صَدُوقًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” پروردگار فرماتا ہے : اگر میرے بندے میری اطاعت کریں ، تو میں انہیں رات کے وقت بارش کے ذریعے سیراب کروں گا ، اور دن کے وقت سورج کو طلوع کروں گا ، اور میں انہیں بجلی کی کڑک نہیں سنواؤں گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، انہوں نے اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنے ایمان کی تجدید کرو ! لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم اپنے ایمان کی تجدید کیسے کریں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لا الہ الا اللہ پڑھ کر اپنے ایمان کی تجدید کرو ! “ ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے
یہ روایت صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کا مدار صدقہ بن موسیٰ دقیقی پر ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، مسلم بن ابراہیم کہتے ہیں : ہمیں صدقہ دقیقی نے حدیث بیان کی ، وہ صدوق ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، انہوں نے اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنے ایمان کی تجدید کرو ! لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم اپنے ایمان کی تجدید کیسے کریں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لا الہ الا اللہ پڑھ کر اپنے ایمان کی تجدید کرو ! “ ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے
یہ روایت صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کا مدار صدقہ بن موسیٰ دقیقی پر ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، مسلم بن ابراہیم کہتے ہیں : ہمیں صدقہ دقیقی نے حدیث بیان کی ، وہ صدوق ہیں ۔
حدیث نمبر: 3279
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا هَاجَتِ الرِّيحُ عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب تیز ہوا چلتی تھی ، تو پریشانی کے آثار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر پہچانے جاتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 3280
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ اللَّيْثِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَكُونُ النَّاسُ مُجْدِبِينَ فَيُنْزِلُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَيْهِمْ رِزْقًا مِنْ رِزْقِهِ فَيُصْبِحُونَ مُشْرِكِينَ " فَقِيلَ لَهُ : وَكَيْفَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " يَقُولُونَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ لیثی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” لوگ قحط سالی کا شکار ہوں گے ، تو اللہ تعالیٰ ان پر اپنے رزق میں سے رزق نازل کرے گا ، تو وہ لوگ مشرک ہو جائیں گے آپ کی خدمت میں عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! یہ کیسے ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ لوگ یہ کہیں گے : فلاں ، فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش نازل ہوئی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 3281
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَحَطَ الْمَطَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلْنَا نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَسْتَسْقِيَ لَنَا ، فَاسْتَسْقَى ، فَغَدَا نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا هُوَ بِقَوْمٍ يَتَحَدَّثُونَ فَقَالُوا : سُقِينَا اللَّيْلَةَ بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَى قَوْمٍ نِعْمَةً إِلَّا أَصْبَحُوا بِهَا كَافِرِينَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بارش کا قحط ہو گیا ، ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ ہمارے لئے بارش کے نزول کی دعا کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اگلے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، تو کچھ لوگ آپس میں یہ بات چیت کر رہے تھے ، کہ گزشتہ رات فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب بھی اللہ تعالیٰ کسی قوم کو نمت عطا کرتا ہے ، تو وہ اس ( نعمت ) کے حوالے سے کافر ہو جاتے ہیں“ ۔
یہ روایت امام بزار نے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عیاش ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عیاش ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3282
وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ السُّنَّةِ فِي صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ فَقَالَ : السُّنَّةُ فِي صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ مِثْلُ السُّنَّةِ فِي صَلَاةِ الْعِيدِ ، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْتَسْقِي فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَقَرَأَ فِيهِمَا وَكَبَّرَ فِي الْأُولَى سَبْعَ تَكْبِيرَاتٍ وَفِي الثَّانِيَةِ خَمْسَ تَكْبِيرَاتٍ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي السُّنَنِ مِنْ غَيْرِ بَيَانٍ لِلتَّكْبِيرِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ الزُّهْرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
طلحہ بن عبداللہ بن عوف بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نماز استسقاء کے سنت طریقے کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے فرمایا : نماز استقاء کا طریقہ وہی ہے ، جو نماز عید کا طریقہ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بارش کے نزول کے لیے دعا کرنے کے لیے ) تشریف لے گئے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات ادا کی تھیں ، ان دونوں میں قرأت کی تھی ، پہلی رکعت میں سات تکبیریں کہی تھیں ، اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں کہی تھیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” سنن “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں تکبیروں کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالعزیز بن عمر زہری ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” سنن “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں تکبیروں کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالعزیز بن عمر زہری ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 3283
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : أَمْحَلَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَاهُ الْمُسْلِمُونَ فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ قَحَطَ الْمَطَرُ وَيَبِسَ الشَّجَرُ ( وَهَلَكَتِ الْمَوَاشِي ) وَأَسِنَتِ النَّاسُ فَاسْتَسْقِ لَنَا رَبَّكَ ، فَقَالَ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ كَذَا وَكَذَا فَاخْرُجُوا وَاخْرُجُوا مَعَكُمْ بِصَدَقَاتٍ " ، فَلَمَّا كَانَ ذَلِكَ الْيَوْمُ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالنَّاسُ ، يَمْشِي وَيَمْشُونَ وَعَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ ، حَتَّى أَتَى الْمُصَلَّى فَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ يَجْهَرُ فِيهِمَا بِالْقِرَاءَةِ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ وَالِاسْتِسْقَاءِ فِي الرَّكْعَةِ الْأَوْلَى بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ، وَفِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ اسْتَقْبَلَ الْقَوْمَ بِوَجْهِهِ ، وَقَلَبَ رِدَاءَهُ ثُمَّ جَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَكَبَّرَ تَكْبِيرَةً قَبْلَ أَنْ يَسْتَسْقِيَ ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا رَحْبًا رَبِيعًا وَجَدًّا غَدَقًا طَبَقًا مُغْدِقًا هَنِيئًا مُرِيعًا مُرْبِعًا وَابِلًا شَامِلًا مُسْبِلًا نَجْلًا دَائِمًا دَرَرًا نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ عَاجِلًا غَيْرَ رَائِثٍ ، اللَّهُمَّ تُحْيِي بِهِ الْبِلَادَ وَتُغِيثُ بِهِ الْعِبَادَ وَتَجْعَلُهُ بَلَاغًا لِلْحَاضِرِ مِنَّا وَالْبَادِ ، اللَّهُمَّ أَنْزِلْ عَلَيْنَا فِي أَرْضِنَا زِينَتَهَا وَأَنْزِلْ ( عَلَيْنَا )فِي أَرْضِنَا سَكَنَهَا اللَّهُمَّ أَنْزِلْ عَلَيْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا فَأَحْيِي بِهِ بَلْدَةً مَيْتَةً وَاسْقِهِ مَا خَلَقْتَ أَنْعَامًا وَأَنَاسِيَّ كَثِيرًا " ، قَالَ : فَمَا بَرِحُوا حَتَّى أَقْبَلَ قَزَعٌ مِنَ السَّحَابِ فَالْتَأَمَ بَعْضُهُ إِلَى بَعْضٍ ثُمَّ مَطَرَتْ عَلَيْهِمْ سَبْعَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ لَا تُقْلِعُ عَنِ الْمَدِينَةِ . ¤ قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ مَا فِي الصَّحِيحِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُجَاشِعُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ ابْنُ مَعِينٍ : قَدْ رَأَيْتُهُ أَحَدَ الْكَذَّابِينَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں بارش نہیں ہوئی ، مسلمان آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بارش کا قحط ہو گیا ہے ، درخت خشک ہو گئے ہیں ، مویشی ہلاکت کا شکار ہو رہے ہیں اور لوگ بیمار ہو رہے ہیں ، آپ اپنے پروردگار سے ہمارے لئے بارش کی دعا کیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب فلاں دن آئے گا ، تو تم لوگ نکلنا اور تم لوگ اپنے ساتھ اپنے صدقات لے کے آنا ، جب وہ مخصوص دن آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگ نکلے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پیدل چلتے ہوئے تشریف لے گئے اور لوگ بھی پیدل گئے ، ان سب لوگوں پر سکینت اور وقار تھا ، یہاں تک کہ وہ لوگ عید گاہ آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے ، آپ نے اُن لوگوں کو دو رکعات پڑھائیں ، جن میں آپ نے بلند آواز میں قرأت کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کی نماز میں اور استقاء کی نماز میں پہلی رکعت میں ، سورہ فاتحہ اور سورت الاعلیٰ پڑھتے تھے ، اور دوسری رکعت میں سورت فاتحہ اور سورت الغاشیہ پڑھتے تھے ، جب آپ نے نماز مکمل کی ، تو آپ نے لوگوں کی طرف رخ کیا ، اور اپنی چادر کو الٹا لیا ، پھر آپ گھٹنوں کے بل جھک گئے ، دونوں ہاتھ بلند کر لئے اور بارش کے نزول کی دعا کرنے سے پہلے آپ نے تکبیر کہی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی : ” اے اللہ ! تو ہمیں ایسے بادل کے ذریعے سیراب فرما ! جو برسنے والا ہو ، وسیع ہو ، پیداوار کرنے والا ہو ، بھر پور ہو ، زیادہ بارش والا ہو ، تہوں والا ہو ، سیراب کرنے والا ہو ، عام ہو ، سر سبز و شاداب کر دے ، گھاس پھوس پیدا کرنے والا ہو ، موسلا دھار ہو ، شامل ہو ، لٹکانے والا ہو ، تیزی سے چلنے والا ہو ، مستقل ہو ، لبریز ہو ، نفع بخش ہو ، نقصان دہ نہ ہو ، جلدی ہو تاخیر سے نہ ہو ، اے اللہ ! تو اُس کے ذریعے شہروں کو زندگی دے دے ، اور بندوں کی مدد کر دے ، تو اسے ہم میں سے شہریوں اور باہر سے آنے والوں کے لئے سہولت کا باعث بنا دے ، اے اللہ ! ہم پر ہماری زمین میں اس کی زینت نازل کر دے ، اور ہم پر ہماری زمین میں اس کی سکینت نازل کر دے ، اے اللہ ! ہم پر آسمان سے پاک پانی نازل کر دے ، اور اس کے ذریعے بنجر شہر کو زندگی دے دے ، اور اسے سیراب کر دے اور اس کے ذریعے جانوروں کو اور بہت سے لوگوں کو جنہیں تو نے پیدا کیا ہے ، سیراب کر دے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ابھی وہ لوگ اسی حالت میں تھے کہ اس دوران بادل کا ایک ٹکڑا آیا ، پھر وہ ٹکڑے ایک دوسرے سے مل گئے ، پھر ان لوگوں پر مسلسل سات دن بارش ہوتی رہی ، جو مدینہ منورہ میں رکی نہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے اس کی مانند حدیث ذکر کی ہے ، جو ” صحیح “ میں منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجاشع بن عمرو ہے ، یحیی بن معین کہتے ہیں : اس کے بارے میں میری یہ رائے ہے کہ وہ جھوٹے لوگوں میں سے ایک ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے اس کی مانند حدیث ذکر کی ہے ، جو ” صحیح “ میں منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجاشع بن عمرو ہے ، یحیی بن معین کہتے ہیں : اس کے بارے میں میری یہ رائے ہے کہ وہ جھوٹے لوگوں میں سے ایک ہے ۔
حدیث نمبر: 3284
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَنَسٍ قَالَا : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا اسْتَسْقَى قَالَ : " اللَّهُمَّ اسْقِنَا سَقْيًا وَادِعَةً نَافِعَةً تُشْبِعُ بِهَا الْأَمْوَالَ وَالْأَنْفُسَ غَيْثًا ( هَنِيئًا ) مَرِيئًا طَبَقًا مُجَلَّلًا يَتَّسِعُ بِهِ بَادِينَا وَحَاضَرُنَا ، تُنْزِلُ بِهِ مِنْ بَرَكَاتِ السَّمَاءِ وَتُخْرِجُ لَنَا ( بِهِ ) مِنْ بَرَكَاتِ الْأَرْضِ وَتَجْعَلُنَا - عِنْدَهُ مِنَ الشَّاكِرِينَ إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحَارِثُ التَّيْمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش کے نزول کے لئے دعا مانگتے تھے ، تو یہ دعا کرتے تھے : ” اے اللہ ! تو ہمیں ایسے طریقے سے سیراب کر دے ، جو اطمینان بخش ہو ، جس کے ذریعے تو اموال ( یعنی جانوروں ) اور نفوس ( یعنی انسانوں ) کو سیراب کر دے ، ایسا بادل ہو ، جو سیر کر دے ، پیاس ختم کر دے ، تہہ دار ہو ، زمین میں نباتات پیدا کر دے ، جس کے ذریعے ہمارے دیہاتوں اور شہروں کے لوگوں کو سہولت حاصل ہو ، تو اس کے ذریعے آسان کی برکتیں نازل فرما ، اور اس کے ذریعے ہمارے لئے زمین کی برکتیں نکال دے اور اس وقت تو ہمیں شکر کرنے والوں میں سے بنا دینا ، بے شک تو دعا کو سننے والا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن محمد بن ابراہیم حارث تیمی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن محمد بن ابراہیم حارث تیمی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حدیث نمبر: 3285
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَسْقَى فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا مَرِيعًا طَبَقًا عَاجِلًا غَيْرَ رَائِثٍ نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ " ، فَمَا لَبِثْنَا أَنْ مُطِرْنَا حَتَّى سَالَ كُلُّ شَيْءٍ حَتَّى أَتَوْهُ فَقَالُوا : قَدْ غَرِقْنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کے نزول کے دعا کرتے ہوئے یہ دعا کی : ” اے اللہ ! تو ہمیں سیراب کرنے والے بادل سے سیراب کر دے ، جو سبزہ پیدا کرنے والا ہو ، تہہ دار ہو ، جلدی آئے ، تاخیر سے نہ آئے ، نفع بخش ہو ، نقصان دہ نہ ہو “ ۔
( راوی بیان کرتے ہیں : ) اس کے بعد زیادہ دیر نہیں گزری تھی ، کہ ہم پر بارش نازل ہونے لگی ، یہاں تک کہ ہر چیز بہنے لگی ، یہاں تک کہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : ہم ڈوب رہے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! ہمارے آس پاس ( بارش ہو ) اور ہم پر نہ ہو !
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ۔
( راوی بیان کرتے ہیں : ) اس کے بعد زیادہ دیر نہیں گزری تھی ، کہ ہم پر بارش نازل ہونے لگی ، یہاں تک کہ ہر چیز بہنے لگی ، یہاں تک کہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : ہم ڈوب رہے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! ہمارے آس پاس ( بارش ہو ) اور ہم پر نہ ہو !
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3286
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَسْجِدِ ضُحًى فَكَبَّرَ ثَلَاثَ تَكْبِيرَاتٍ ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ اسْقِنَا - ثَلَاثًا - اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا سَمْنًا وَلَبَنًا وَشَحْمًا وَلَحْمًا " ، وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ سَحَابًا ، فَثَارَتْ رِيحٌ وَغُبْرَةٌ ثُمَّ اجْتَمَعَ سَحَابٌ فَصَبَّتِ السَّمَاءُ فَصَاحَ أَهْلُ الْأَسْوَاقِ وَثَارُوا إِلَى سَقَائِفِ الْمَسْجِدِ وَإِلَى بُيُوتِهِمْ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَائِمٌ فَسَالَتِ الطَّرِيقُ وَرَأَيْنَا ذَلِكَ الْمَطَرَ عَلَى أَطْرَافِ شَعْرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَى كَتِفَيْهِ وَمَنْكِبَيْهِ كَأَنَّهُ الْجُمَانُ ، فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَانْصَرَفْتُ أَمْشِي عَلَى مَشْيِهِ وَهُوَ يَقُولُ : " هَذَا أَحْدَثُكُمْ بِرَبِّهِ " قَالَ أَبُو أُمَامَةَ : مَا رَأَيْتُ عَامًا قَطُّ أَكْثَرَ سَمْنًا وَلَبَنًا وَشَحْمًا وَلَحْمًا ، إِنْ هُوَ إِلَّا فِي الطَّرِيقِ مَا يَكَادُ يَشْتَرِيهِ أَحَدٌ ، ثُمَّ انْصَرَفَ نَحْوَ الرِّجَالِ فَوَعَظَهُمْ وَنَهَاهُمْ ثُمَّ انْصَرَفَ نَحْوَ النِّسَاءِ فَوَعَظَهُنَّ فَشَدَّدَ عَلَيْهِنَّ فِي الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ ، فَأَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْبَنِي عَامِرٍ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ بَلَغَنَا أَنَّكَ شَدَّدْتَ فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنِّي لَأُحِبُّ الْجَمَالَ ، حَتَّى مِنْ حُبِّي الْجَمَالَ جَعَلْتُ حِرَازَ سَوْطِي هَذَا مِنْ جِلْدِ نَمِرٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ ، وَإِنَّمَا الْكِبْرُ مَنْ جَهِلَ الْحَقَّ وَغَمَصَ النَّاسَ بِعَيْنَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کے وقت مسجد میں کھڑے ہوئے ، آپ نے تین تکبیریں کہیں ، پھر آپ نے یہ دعا کی : ” اے اللہ ! تو ہمیں سیراب کر دے ( یہ کلمہ آپ نے تین مرتبہ فرمایا ، اور پھر یہ کہا: ) اے اللہ ! تو ہمیں گھی ، دودھ ، چربی اور گوشت نصیب فرما دے ! “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ہمیں آسمان میں کوئی بادل دکھائی نہیں دے رہا تھا ، پھر ہوا چلی ، غبار اڑا اور بادل اکٹھا ہو گیا اور بارش شروع ہو گئی ، یہاں تک کہ بازار کے لوگوں نے چیخ و پکار شروع کی اور مسجد کی چھت کے نیچے اور گھروں کی طرف لپکے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تھے ، اسی دوران راستوں میں پانی بہنے لگا ، اور ہم نے اس بارش کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کے کناروں پر اور آپ کے کندھوں پر دیکھا کہ وہ بارش کے قطرے موتیوں کی طرح تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے ، میں بھی آپ کے ساتھ چلتا ہوا واپس آیا ، آپ یہ کہہ رہے تھے : یہ تمہارے پروردگار کی بارگاہ سے آئی ہے ۔ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ایسا کوئی سال نہیں دیکھا ، جس میں اُس سال سے زیادہ لوگوں کی صحت ہوئی ہو ، زیادہ دودھ ، زیادہ چربی ، زیادہ گوشت ( کی پیداوار ہوئی ) ہو ، یہ چیزیں راستے میں پڑی ہوتی تھیں ، اور انہیں خریدنے والا کوئی نہیں ہوتا تھا ، اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف مڑے آپ نے انہیں وعظ و نصیحت کی ، آپ نے انہیں منع کیا ، پھر آپ خواتین کی طرف تشریف لے گئے ، آپ نے انہیں وعظ کیا ، اور آپ نے انہیں ریشم اور سونے کے حوالے سے شدید تاکید کی ، بنو عامر سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آگے آیا ، اُس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم تک یہ روایت پہنچی ہے کہ آپ ریشم اور سونا پہنے کے بارے میں شدید تاکید کرتے ہیں ( کہ اس کو نہیں پہننا ) اس ذات کی قسم ! جس ذات نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں جمال کو پسند کرتا ہوں ، اور جمال کو پسند کرنے میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ میری اس چھڑی کا غلاف چیتے کی کھال کا ہو ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ جمیل ہے ، وہ جمال کو پسند کرتا ہے ، تکبر یہ ہے کہ کوئی شخص حق سے ناواقف رہے ، اور لوگوں کو اپنی نظر میں کم تر سمجھے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے ، اسے عبیداللہ بن زحر نے علی بن یزید سے روایت کیا ہے ، اور یہ دونوں راوی ضعیف ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے ، اسے عبیداللہ بن زحر نے علی بن یزید سے روایت کیا ہے ، اور یہ دونوں راوی ضعیف ہیں ۔
حدیث نمبر: 3287
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ خَارِجَةَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ جَدِّهِ سَعْدٍ أَنَّ قَوْمًا شَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَحْطَ الْمَطَرِ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَجْثُوا عَلَى الرُّكَبِ ، فَجَثَوْا ، قَالَ : " فَقُولُوا : يَا رَبِّ " فَفَعَلُوا ، فَسُقُوا حَتَّى أَحَبُّوا أَنْ يَكْشِفَ عَنْهُمْ . ¤ هَذَا لَفْظُهُ عِنْدَ الْبَزَّارِ ، وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ : عَامِرُ بْنُ خَارِجَةَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ سَعْدٍ أَنَّ قَوْمًا شَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَحْطَ الْمَطَرِ فَقَالَ : " اجْثُوا عَلَى الرُّكَبِ وَقُولُوا : يَا رَبِّ يَا رَبِّ " وَرَفَعَ السَّبَّابَةَ إِلَى السَّمَاءِ ، فَسَقَوْا حَتَّى أَحَبُّوا أَنْ يَكْشِفَ عَنْهُمْ . ¤ وَالصَّوَابُ رِوَايَةُ الطَّبَرَانِيِّ ، وَقَوْلُهُ : عَامِرٌ كَذَلِكَ ذَكَرَهُ الذَّهَبِيُّ فِي تَرْجَمَةِ عَامِرِ بْنِ خَارِجَةَ وَضَعَّفَهُ . ¤
محمد محی الدین
عمر بن خارجہ بن سعد نے ، اپنے دادا سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : کچھ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بارش نہ ہونے کی شکایت کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ گھٹنوں کے بل کھڑے ہو جائیں ، تو وہ لوگ گھٹنوں کے بل کھڑے ہو گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ یہ پڑھو : ” اے ہمارے پروردگار ! “ ۔ اُن لوگوں نے ایسا ہی کیا ، تو ان لوگوں پر بارش نازل ہونا شروع ہوئی ، ( اور اتنی دیر تک ہوتی رہی ) یہاں تک کہ انہوں نے یہ خواہش کی : کہ کاش کہ یہ بارش ختم ہو جائے ۔ روایت کے یہ الفاظ امام بزار کے نقل کردہ ہیں ، اسے امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کیا ہے ، عامر بن خارجہ بن سعد نے اپنے والد کے حوالے سے ، اپنے دادا سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے : ” کچھ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بارش نہ ہونے کی شکایت کی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ گھٹنوں کے بل جھک جاؤ اور یہ کہو : اے ہمارے پروردگار ! اے ہمارے پروردگار ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی انگلی آسمان کی طرف بلند کی ، تو لوگوں پر بارش نازل ہونا شروع ہو گئی ، ( اور اتنی دیر تک ہوتی رہی ) یہاں تک کہ لوگوں نے یہ خواہش کی : کہ اب یہ بارش ختم ہو جائے “ ۔
امام طبرانی کی نقل کردہ روایت درست ہے ، انہوں نے لفظ عام نقل کیا ہے وہ اس طرح ہے ، امام ذہبی نے عامر بن خارجہ کے حالات میں اس شخص کا ذکر اسی طرح کیا ہے ، اور اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
امام طبرانی کی نقل کردہ روایت درست ہے ، انہوں نے لفظ عام نقل کیا ہے وہ اس طرح ہے ، امام ذہبی نے عامر بن خارجہ کے حالات میں اس شخص کا ذکر اسی طرح کیا ہے ، اور اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3288
وَعَنْ رَقِيقَةَ بِنْتِ أَبِي صَيْفِيِّ بْنِ هَاشِمٍ - وَكَانَتْ وَالِدَةَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ - قَالَتْ : تَتَابَعَتْ عَلَى قُرَيْشٍ سِنُونَ أَقْحَلَتِ الضَّرْعَ وَأَدَقَّتِ الْعَظْمَ ، فَبَيْنَا أَنَا رَاقِدَةُ الْهَمِّ - أَوْ مَهْمُومَةٌ - إِذَا هَاتِفٌ يَصْرُخُ صَوْتُ صَحَلٍ يَقُولُ : يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ إِنَّ هَذَا النَّبِيَّ مَبْعُوثٌ قَدْ أَظَلَّتْكُمْ أَيَّامُهُ وَهَذَا إِبَّانُ نُجُومِهِ فَحَيَّهَلَا بِالْحَيَاءِ وَالْخِصْبِ أَلَا فَانْظُرُوا رَجُلًا مِنْكُمْ وَسِيطًا عَظِيمًا جُسَامًا أَبْيَضَ وَضَّاءً أَوْطَفَ أَهْدَبَ سَهْلَ الْخَدَّيْنِ أَشَمَّ الْعِرْنِينِ لَهُ فَخْرٌ يَكْظِمُ عَلَيْهِ ، وَسُنَّةٌ يَهْدِي إِلَيْهِ فَلْيُخَلِّصْ هُوَ وَوَلَدُهُ وَلْيَهْبِطْ إِلَيْهِ مِنْ كُلِّ بَطْنٍ رَجُلٌ فَلْيَشُنُّوا مِنَ الْمَاءِ وَلْيَمَسُّوا مِنَ الطِّيبِ وَلْيَسْتَلِمُوا الرُّكْنَ ثُمَّ لْيَرْقُوا أَبَا قُبَيْسٍ ثُمَّ لْيَدْعُ الرَّجُلُ وَلْيُؤُمِّنِ الْقَوْمُ فَغُثْتُمْ مَا شِئْتُمْ فَأَصْبَحْتُ - عَلِمَ اللَّهُ - فَاقْشَعَرَّ جِلْدِي وَوَلِهَ عَقْلِي وَاقْتَصَصْتُ رُؤْيَايَ وَنِمْتُ فِي شِعَابِ مَكَّةَ فَوَالْحُرْمَةِ وَالْحَرَمِ مَا بَقِيَ بِهَا أَبْطَحُ إِلَّا قَالَ : هَذَا شَيْبَةُ الْحَمْدِ وَتَنَاهَتْ إِلَيْهِ رِجَالَاتُ قُرَيْشٍ وَهَبَطَ إِلَيْهِ مِنْ كُلِّ بَطْنٍ رَجُلٌ فَشَنُّوا وَمَشَوْا وَاسْتَلَمُوا ثُمَّ ارْتَقَوْ أَبَا قُبَيْسٍ وَاصْطَفُّوا حَوْلَهُ مَا يَبْلُغُ سَعْيُهُمْ مَهْلَهُ حَتَّى إِذَا اسْتَوَوْا بِذُرْوَةِ الْجَبَلِ قَامَ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ وَمَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غُلَامٌ قَدْ أَيْفَعَ أَوْ كَرُبَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ : " اللَّهُمَّ سَادَّ الْخَلَّةَ كَاشِفَ الْكُرْبَةِ أَنْتَ مُعَلِّمٌ غَيْرُ مُعَلَّمٍ وَمَسْئُولٌ غَيْرُ مُبَخَّلٍ وَهَذِهِ عَبِيدُكَ وَإِمَاؤُكَ وَبِعَذَرَاتِ حُرَمِكَ يَشْكُونَ إِلَيْكَ سَنَتُهُمْ ، أَذْهَبَ الْخُفَّ وَالظَّلَفَ ، اللَّهُمَّ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا غَيْثًا مُغْدِقًا مُرِيعًا ، فَوَرَبِّ الْكَعْبَةِ مَا رَامُوا حَتَّى تَفَجَّرَتِ السَّمَاءُ بِمَائِهَا وَاكْتَظَّ الْوَادِي بِثَجِيجِهِ فَسَمِعْتُ شِيخَانَ قُرَيْشٍ وَجِلَّتَهَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جُدْعَانَ وَحَرْبَ بْنَ أُمَيَّةَ وَهِشَامَ بْنَ الْمُغِيرَةِ يَقُولُونَ لِعَبْدِ الْمُطَّلِبِ : هَنِيئًا لَكَ أَبَا الْبَطْحَاءِ وَفِي ذَلِكَ تَقُولُ رَقِيقَةُ بِنْتُ أَبِي صَيْفِيٍّ : ¤ لِشَيْبَةِ الْحَمْدِ أَسْقَى اللَّهُ بَلْدَتَنَا وَقَدْ فَقَدْنَا الْحَيَا وَاجْلَوَّذَ الْمَطَرُ فَجَادَ بِالْمَاءِ جُونِيٌّ لَهُ سُبُلُ ¤ سَحًّا فَعَاشَتْ بِهِ الْأَنْعَامُ وَالشَّجَرُ مَنًّا مِنَ اللَّهِ بِالْمَيْمُونِ طَائِرُهُ ¤ وَخَيْرُ مَنْ بُشِّرَتْ يَوْمًا بِهِ مُضَرُ مُبَارَكُ الْأَمْرِ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِهِ ¤ مَا فِي الْأَنَامِ لَهُ عَدْلٌ وَلَا خَطَرُ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ زَحْرُ بْنُ حِصْنٍ قَالَ الذَّهَبِيُّ : لَا يُعْرَفُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ رقیقہ رضی اللہ عنہا بنت ابوصیفی بن ہاشم ، جو جناب عبدالمطلب کی والدہ ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : ” قریش پر یکے بعد دیگرے ( قحط سالی کے ) چند ایسے سال آئے ، جنہوں نے ( جانوروں کے ) تھن خشک کر دیے اور ہڈیاں کمزور کر دیں ، ایک مرتبہ میں پریشانی کے عالم میں سوئی ہوئی تھی ، ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) کہ اسی دوران کسی ہاتف نے گونج دار آواز میں یہ کہا: اے قریش کے گروہ ! یہ نبی مبعوث ہو گئے ہیں ، ان کے زمانے نے تم پر سایہ کر دیا ہے ، اور ان کے ستارے ظاہر ہونے لگے ہیں ، تو سیرابی اور شادابی کی طرف آ جاؤ ، تم لوگ اپنے میں سے کوئی ایسا شخص تلاش کرو ، جو صحت مند اور مضبوط جسم ، اور سفید چمکدار رنگت کا مالک ہو ، بلند حیثیت کا ہو ، لمبی پلکوں والا ہو ، نرم رخساروں ، ستواں ناک والا ہو ، اس میں ایسی چیز ہو کہ وہ غصہ پر ق ابورکھتا ہو ، اور ایسی عمر رسیدگی ہو کہ اس کی طرف رجوع کیا جاتا ہو ، وہ اور اُس کی اولاد نکلیں ، اور ( قبیلے کی ) ہر شاخ میں سے ایک شخص نکلے ، وہ لوگ غسل کر لیں خوشبو لگا لیں ، رکن کا استلام کریں اور پھر جبل ابوقبیس پر چڑھ جائیں ، پھر وہ شخص دعا کرے ( اور باقی لوگ ) آمین کہیں ، تو تم جتنی چاہو گے ، بارش ہو جائے گی ۔
( سیدہ رقیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ) جب صبح ہوئی ، تو میں حیران و پریشان تھی ، میں نے اپنا خواب بیان کیا ، میں مکہ میں مختلف جگہوں پر گئی ، تو ہر شخص نے یہی کہا: اس سے مراد ” شیبۃ الحمد “ ( یعنی جناب عبدالمطلب ) ہوں گے ، قریش کے اُمور انہی کے پاس لائے جاتے تھے ، تو ( قبیلے کی ) ہر ایک شاخ کا ایک فرد ان کے پاس آیا ، انہوں نے غسل کیا اور پیدل چل کے جا کر ، حجر اسود کا استلام کیا ، پھر وہ لوگ جبل ابوقیس پر چڑھ گئے ، دیگر لوگ جناب عبدالمطلب کے ارد گرد اکٹھے ہو گئے ، جتنا بھی وہ بھلائی میں پیش رفت کر سکتے تھے ، یہاں تک کہ جب پہاڑ کی چوٹی پر وہ سب لوگ پہنچ گئے ، تو جناب عبدالمطلب کھڑے ہوئے ، اُن کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تھے ، جو اس وقت نوجوان تھے ، یا اس کے قریب کی عمر کے تھے ، انہوں نے دونوں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا کی : ” اے اللہ ! مشکل کو بند کرنے والے ، پریشانی کو ختم کرنے والے ! تو علم عطا کرنے والا ہے ، تجھ کو معلومات نہیں دی جاتی ہیں ، تجھ سے مانگا جاتا ہے ، تو بخل والا نہیں ہے ، یہ تیرے بندے اور تیری کنیزیں ہیں ، اور یہ تیرے حرم کی حدود میں موجود ہیں ، یہ تیری بارگاہ میں قحط سالی کی شکایت کر رہے ہیں ، ( جانوروں کے ) سینگ اور کھر رخصت ہو گئے ہیں ( یعنی جانور قحط سالی کی وجہ سے مر رہے ہیں ) ، اے اللہ ! تو ہم پر ایسی بارش نازل فرما ! جو زیادہ اور بھر پور ہو اور سرسبز و شاداب کر دے “ رب کعبہ کی قسم ! ابھی وہ لوگ واپس نہیں آئے تھے ، کہ آسمان سے بارش نازل ہونا شروع ہو گئی اور وادی میں پانی بہنے لگا ، میں نے قریش کے بزرگوں اور جلیل القدر افراد ، عبداللہ بن جدعان ، حرب بن امیہ ، اور ہشام بن مغیرہ کو جناب عبدالمطلب سے یہ کہتے ہوئے سنا : اے ابوبطحاء ! آپ کو مبارک ہو ! سیدہ رقیقہ رضی اللہ عنہا بنت ابوصیفی اس واقعہ کے بارے میں یہ ( اشعار ) کہتی ہیں : ” اے شبیہ الحمد ! اللہ تعالیٰ نے ہمارے شہر کو سیراب کر دیا ، پہلے ہم زندگی کو غیر موجود پاتے تھے ، لیکن پھر بھر پور بارش شروع ہو گئی ، پانی آ گیا اور اس نے نشیبی علاقے میں راستے بنا لیے ، جس نے جانوروں اور درختوں کو زندگی دیدی ، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے احسان ہے ، جس کی آمد بابرکت ہے ، اور آج کے دن مضر ( قبیلے کے افراد کو ) دی جانے والی سب سے بہتر خوشخبری ہے ، وہ بابرکت معاملے والے ہیں ، ان کے وسیلے سے بارش مانگی گئی ، مخلوق میں کوئی بھی ان کے برابر کا نہیں اور نہ ہی ( کسی کے بارے میں ایسا سوچا جا سکتا ہے “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زحر بن حصن ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : یہ معروف نہیں ہے ۔
( سیدہ رقیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ) جب صبح ہوئی ، تو میں حیران و پریشان تھی ، میں نے اپنا خواب بیان کیا ، میں مکہ میں مختلف جگہوں پر گئی ، تو ہر شخص نے یہی کہا: اس سے مراد ” شیبۃ الحمد “ ( یعنی جناب عبدالمطلب ) ہوں گے ، قریش کے اُمور انہی کے پاس لائے جاتے تھے ، تو ( قبیلے کی ) ہر ایک شاخ کا ایک فرد ان کے پاس آیا ، انہوں نے غسل کیا اور پیدل چل کے جا کر ، حجر اسود کا استلام کیا ، پھر وہ لوگ جبل ابوقیس پر چڑھ گئے ، دیگر لوگ جناب عبدالمطلب کے ارد گرد اکٹھے ہو گئے ، جتنا بھی وہ بھلائی میں پیش رفت کر سکتے تھے ، یہاں تک کہ جب پہاڑ کی چوٹی پر وہ سب لوگ پہنچ گئے ، تو جناب عبدالمطلب کھڑے ہوئے ، اُن کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تھے ، جو اس وقت نوجوان تھے ، یا اس کے قریب کی عمر کے تھے ، انہوں نے دونوں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا کی : ” اے اللہ ! مشکل کو بند کرنے والے ، پریشانی کو ختم کرنے والے ! تو علم عطا کرنے والا ہے ، تجھ کو معلومات نہیں دی جاتی ہیں ، تجھ سے مانگا جاتا ہے ، تو بخل والا نہیں ہے ، یہ تیرے بندے اور تیری کنیزیں ہیں ، اور یہ تیرے حرم کی حدود میں موجود ہیں ، یہ تیری بارگاہ میں قحط سالی کی شکایت کر رہے ہیں ، ( جانوروں کے ) سینگ اور کھر رخصت ہو گئے ہیں ( یعنی جانور قحط سالی کی وجہ سے مر رہے ہیں ) ، اے اللہ ! تو ہم پر ایسی بارش نازل فرما ! جو زیادہ اور بھر پور ہو اور سرسبز و شاداب کر دے “ رب کعبہ کی قسم ! ابھی وہ لوگ واپس نہیں آئے تھے ، کہ آسمان سے بارش نازل ہونا شروع ہو گئی اور وادی میں پانی بہنے لگا ، میں نے قریش کے بزرگوں اور جلیل القدر افراد ، عبداللہ بن جدعان ، حرب بن امیہ ، اور ہشام بن مغیرہ کو جناب عبدالمطلب سے یہ کہتے ہوئے سنا : اے ابوبطحاء ! آپ کو مبارک ہو ! سیدہ رقیقہ رضی اللہ عنہا بنت ابوصیفی اس واقعہ کے بارے میں یہ ( اشعار ) کہتی ہیں : ” اے شبیہ الحمد ! اللہ تعالیٰ نے ہمارے شہر کو سیراب کر دیا ، پہلے ہم زندگی کو غیر موجود پاتے تھے ، لیکن پھر بھر پور بارش شروع ہو گئی ، پانی آ گیا اور اس نے نشیبی علاقے میں راستے بنا لیے ، جس نے جانوروں اور درختوں کو زندگی دیدی ، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے احسان ہے ، جس کی آمد بابرکت ہے ، اور آج کے دن مضر ( قبیلے کے افراد کو ) دی جانے والی سب سے بہتر خوشخبری ہے ، وہ بابرکت معاملے والے ہیں ، ان کے وسیلے سے بارش مانگی گئی ، مخلوق میں کوئی بھی ان کے برابر کا نہیں اور نہ ہی ( کسی کے بارے میں ایسا سوچا جا سکتا ہے “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زحر بن حصن ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : یہ معروف نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 3289
وَعَنْ أَبِي لُبَابَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ قَالَ : اسْتَسْقَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ : إِنَّ التَّمْرَ فِي الْمَرَابِدِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اسْقِنَا حَتَّى يَقُومَ أَبُو لُبَابَةَ عُرْيَانًا فَيَسُدَّ مَبْعَثَ مِرْبَدِهِ بِإِزَارِهِ " وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ سَحَابًا فَأَمْطَرَتْ فَاجْتَمَعُوا إِلَى أَبِي لُبَابَةَ فَقَالُوا : إِنَّهَا لَا تُقْلِعُ حَتَّى تَقُومَ عُرْيَانًا وَتَسُدَّ مَبْعَثَ مِرْبَدِكَ بِإِزَارِكَ فَفَعَلَ فَأَصْحَتْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَا يُعْرَفُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابولبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کے نزول کی دعا کی ، تو سیدنا ابولبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کھجوریں گوداموں میں پڑی ہوئی ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی : ” اے اللہ ! ہم پر اتنی بارش نازل فرما کہ ابولبابہ کو اضافی کپڑے اتار کر اپنے تہبند کے ذریعے گودام تک پانی کے راستے کو روکنا پڑے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : آسمان میں کوئی بادل نظر نہیں آ رہا تھا ، پھر بارش نازل ہونا شروع ہوئی ، ( اور مسلسل ہوتی رہی ) لوگ اکھٹے ہو کر سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور انہوں نے یہ کہا: کہ یہ بارش اُس وقت تک نہیں رکے گی ، جب تک آپ اضافی کپڑے اتار کر اپنے تہبند کے ذریعے گودام تک پانی جانے کو نہیں روکیں گے ، انہوں نے ایسا ہی کیا ، تو بارش رک گئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جو معروف نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جو معروف نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 3290
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا - قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا رَأَى الْمَطَرَ قَالَ : " اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمِ بْنِ صُهَيْبٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش دیکھتے تھے ، تو یہ دعا کرتے تھے : ” اے اللہ ! یہ تیز بارش ہو اور نفع دینے والی ہو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن عاصم بن صہیب ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن عاصم بن صہیب ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3291
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَدْعُو إِذَا اسْتَسْقَى : " اللَّهُمَّ أَنْزِلْ فِي أَرْضِنَا بَرَكَتَهَا وَزِينَتَهَا وَسَكَنَهَا " . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : " وَارْزُقْنَا وَأَنْتَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ " . ¤ رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ أَوْ صَحِيحٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش کے نزول کی دعا کرتے تھے ، تو یہ کہتے تھے : ” اے اللہ ! ہماری زمین میں ، اس کی برکت ، اس کی زینت اور اس کا سکون نازل فرما ! “ ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” تو ہمیں رزق نصیب فرما ! بے شک تو بہترین رزق دینے والا ہے “ ۔
یہ دونوں روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں ، امام بزار نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اس کی سند حسن ہے یا صحیح ہے ۔
یہ دونوں روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں ، امام بزار نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اس کی سند حسن ہے یا صحیح ہے ۔
حدیث نمبر: 3292
وَعَنِ الشِّفَاءِ أُمِّ سُلَيْمَانَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسُلَّمَ - اسْتَسْقَى يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي الْمَسْجِدِ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ : " اسْتَغْفَرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا " وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ وَهُوَ ضَعِيفٌ لَيْسَ بِشَيْءٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ شفاء أم سلیمان رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن مسجد میں بارش کے نزول کی دعا کی ، آپ نے دونوں ہاتھ بلند کیے اور آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنے پروردگار سے مغفرت طلب کرو ، بے شک وہ بہت زیادہ مغفرت کرنے والا ہے پھر آپ اپنی چادر کو پلٹا دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن الیاس ہے ، وہ ضعیف ہے ، اور وہ کوئی چیز نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن الیاس ہے ، وہ ضعیف ہے ، اور وہ کوئی چیز نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 3293
وَعَنْ سَمُرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا خَطَبَ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبِطَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ إِلَّا أَنِّي لَمْ أَجِدْ مُحَمَّدَ بْنَ رَاشِدٍ الْأَصْبَهَانِيَّ شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے دوران دونوں ہاتھ بلند کرتے تھے ، یہاں تک کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آتی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ میں نے راشد اصبہانی نامی راوی ( کا تذکرہ ) نہیں پایا ، جو امام طبرانی کے استاد ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ میں نے راشد اصبہانی نامی راوی ( کا تذکرہ ) نہیں پایا ، جو امام طبرانی کے استاد ہیں ۔
حدیث نمبر: 3294
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطِيمِيِّ أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ خَرَجَ يَسْتَسْقِي بِالنَّاسِ فَخَطَبَ ثُمَّ صَلَّى بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ، وَفِي النَّاسِ يَوْمَئِذٍ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ وَزَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبدالله بن یزید خطیمی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما لوگوں کے لئے بارش کے نزول کی دعا کرنے کے لئے نکلے انہوں نے خطبہ دیا ، پھر اذان اور اقامت کے بغیر نماز پڑھائی ، جب کہ لوگوں میں اس وقت سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 3295
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْمَطَرُ بِالْمَدِينَةِ فَسَالَتِ الْمَيَازِيبُ فَقَالَ : " لَا مَحْلَ عَلَيْكُمُ الْعَامَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ قُدَامَةَ وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ الْبَزَّارُ : إِذَا تَفَرَّدَ بِحَدِيثٍ فَلَا يُحْتَجُّ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب لوگوں کو مدینہ منورہ میں بارش لاحق ہوئی ، اور پرنالے بہنے لگے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس سال تم پر شدت ( یعنی قحط سالی کی پریشانی ) نہیں آئے گی ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن قدامہ ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، امام بزار کہتے ہیں : جب یہ کسی حدیث کو نقل کرنے میں منفرد ہو ، تو پھر اس سے استدلال نہیں کیا جائے گا ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن قدامہ ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، امام بزار کہتے ہیں : جب یہ کسی حدیث کو نقل کرنے میں منفرد ہو ، تو پھر اس سے استدلال نہیں کیا جائے گا ۔
حدیث نمبر: 3296
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّمَا الصَّيِّبُ هَاهُنَا " وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى السَّمَاءِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک تیز بارش یہاں سے ہوتی ہے “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے آسمان کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔