عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ قَالَ : كُنَّا فِي مَنْزِلِ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ وَمَعَنَا نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْنَا لَهُ : تَقَدَّمْ فَقَالَ : مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَنْظَلَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الرَّجُلُ أَحَقُّ بِصَدْرِ فِرَاشِهِ، وَأَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِهِ، وَأَحَقُّ أَنْ يَؤُمَّ فِي بَيْتِهِ" فَأَمَرَ مَوْلًى لَهُ فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ وَالْبُخَارِيُّ وَوَثَّقَهُ يَعْقُوبُ بْنُ شَيْبَةَ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
«»سیدنا عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھے ہمارے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب موجود تھے ہم نے ان سے کہا: آپ آگے بڑھیں تو انہوں نے فرمایا : میں آگے نہیں بڑھوں گا ، تو سیدنا عبداللہ بن حنظلہ نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : آدمی اپنے بچھونے پر درمیان میں بیٹھنے کا زیادہ حق دار ہے ، اور اپنی سواری پر آگے بیٹھنے کا زیادہ حق دار ہے ، اور اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اپنے گھر میں وہ امامت کرے ۔ تو ان صاحب نے اپنے ایک غلام کو ہدایت کی وہ آگے بڑھا اور اس نے نماز پڑھائی ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن یحیی بن طلحہ ہے ، جسے امام أحمد ابن معین امام بخاری رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے یعقوب بن شیبہ نے ” ثقہ “ کہا: ہے ، اور امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن یحیی بن طلحہ ہے ، جسے امام أحمد ابن معین امام بخاری رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے یعقوب بن شیبہ نے ” ثقہ “ کہا: ہے ، اور امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ : أَتَى عَبْدُ اللَّهِ أَبَا مُوسَى فَتَحَدَّثَ عِنْدَهُ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلَمَّا أُقِيمَتْ تَأَخَّرَ أَبُو مُوسَى ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ : أَبَا مُوسَى لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ مِنَ السُّنَّةِ أَنْ يَتَقَدَّمَ صَاحِبُ الْبَيْتِ ، فَأَبَى أَبُو مُوسَى حَتَّى تَقَدَّمَ مَوْلًى لِأَحَدِهِمَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابراہیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ، سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان کے پاس بیٹھے بات چیت کرتے رہے ، جب نماز کا وقت ہوا اور نماز کھڑی ہو گئی ، تو سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ کو تاخیر ہو گئی سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے ابوموسیٰ ! آپ یہ بات جانتے ہیں کہ سنت میں یہ بات شامل ہے کہ گھر والا شخص آگے بڑھ کر ( لوگوں کو نماز پڑھائے ) تو سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ نے ان کی یہ بات نہیں مانی یہاں تک کہ ان دونوں حضرات میں سے کسی ایک کے غلام نے آگے بڑھ کر ( ان حضرات کی امامت کی ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَلْقَمَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ أَتَى أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ فِي مَنْزِلِهِ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَقَالَ أَبُو مُوسَى : تَقَدَّمْ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَإِنَّكَ أَقْدَمُ سِنًّا وَأَعْلَمُ قَالَ : بَلْ أَنْتَ تَقَدَّمْ فَإِنَّمَا أَتَيْنَاكَ فِي مَنْزِلِكَ وَمَسْجِدِكَ، فَأَنْتَ أَحَقُّ قَالَ : فَتَقَدَّمَ أَبُو مُوسَى فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ لَهُ : مَا أَرَدْتَ إِلَى خَلْعِهِمَا أَبِالْوَادِي الْمُقَدَّسِ أَنْتَ ؟ ! رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُتَّصِلًا بِرِجَالٍ ثِقَاتٍ . ¤
محمد محی الدین
علقمہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ہاں ان کے گھر آئے نماز کا وقت ہوا تو سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوعبدالرحمن آپ آگے بڑھیں کیونکہ آپ عمر میں بھی زیادہ ہیں ، اور علم میں بھی زیادہ ہیں تو سیدنا عبداللہ بن سعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی نہیں بلکہ تم آگے بڑھو ہم تمہارے پاس تمہارے گھر اور تمہاری نماز کی مخصوص جگہ پر آئے ہیں تو تم اس بات کے زیادہ حق دار ہو ( کہ تم ہماری امامت کرو ) راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور انہوں نے جوتے اتار دیے جب انہوں نے سلام پھیرا تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ نے یہ جوتے کیوں اتارے تھے ؟ کیا آپ وادی مقدس میں تھے ؟
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے یہ روایت امام طبرانی نے ” ثقہ “ رجال کے حوالے سے متصل روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے یہ روایت امام طبرانی نے ” ثقہ “ رجال کے حوالے سے متصل روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔