حدیث نمبر: 2335
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَمَّ قَوْمًا فَلْيَتَّقِ اللَّهَ وَلْيَعْلَمْ أَنَّهُ ضَامِنٌ مَسْئُولٌ لِمَا ضَمِنَ، فَإِنْ أَحْسَنَ كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ صَلَّى خَلْفَهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْتَقِصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَا كَانَ مِنْ نَقْصٍ فَهُوَ عَلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مُعَارِكُ بْنُ عَبَّادٍ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَالْبُخَارِيُّ وَأَبُو زُرْعَةَ وَالدَّارَقُطْنِيُّ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص لوگوں کی امامت کرتا ہے ، اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے اور اسے یہ بات جان لینی چاہیے کہ وہ ضامن ہے ، اور جس چیز کا وہ ضامن ہے ، اس چیز کے حوالے سے اس سے حساب لیا جائے گا اگر اس نے اچھا کام کیا ہو گا ، تو اسے اجر ملے گا ، اور جن لوگوں نے اس کے پیچھے نماز ادا کی تھی ان جتنا اجر ملے گا ، اور ان لوگوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہو گی ، اور ( امام کی طرف سے ) جو کوتاہی ہو گی تو اس کا وبال اس ( امام ) پر ہی ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی معارک بن عباد ہے ، جسے امام أحمد امام بخاری رحمہ اللہ امام ابوزرعہ اور امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی معارک بن عباد ہے ، جسے امام أحمد امام بخاری رحمہ اللہ امام ابوزرعہ اور امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2336
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْإِمَامُ ضَامِنٌ فَمَا صَنَعَ فَاصْنَعُوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ: مُوسَى بْنُ شَيْبَةَ مِنْ وَلَدِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ ، وَوَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ أَيْضًا . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي قَوْلِهِ : " الْإِمَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ " فِي الْأَذَانِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” امام ضامن ہوتا ہے ، جو وہ کرے تم بھی وہی کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن شیبہ ہے ، جو سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہے امام أحمد نے اسے ضعیف قرار دیا ہے امام ابوحاتم نے اسے ” ثقہ “ کہا: ہے ۔ ابن حبان نے بھی اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے احادیث گزر چکی ہیں جو اذان سے متعلق باب میں گزری ہیں ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بارے میں ہیں : ” امام ضامن ہوتا ہے ، اور مؤذن امین ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن شیبہ ہے ، جو سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہے امام أحمد نے اسے ضعیف قرار دیا ہے امام ابوحاتم نے اسے ” ثقہ “ کہا: ہے ۔ ابن حبان نے بھی اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے احادیث گزر چکی ہیں جو اذان سے متعلق باب میں گزری ہیں ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بارے میں ہیں : ” امام ضامن ہوتا ہے ، اور مؤذن امین ہوتا ہے “ ۔