مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ إِمَامَةِ الرَّجُلِ فِي رَحْلِهِ . باب: کسی شخص کا اپنے پالان میں رہتے ہوئے امامت کرنا
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ : أَتَى عَبْدُ اللَّهِ أَبَا مُوسَى فَتَحَدَّثَ عِنْدَهُ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلَمَّا أُقِيمَتْ تَأَخَّرَ أَبُو مُوسَى ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ : أَبَا مُوسَى لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ مِنَ السُّنَّةِ أَنْ يَتَقَدَّمَ صَاحِبُ الْبَيْتِ ، فَأَبَى أَبُو مُوسَى حَتَّى تَقَدَّمَ مَوْلًى لِأَحَدِهِمَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ابراہیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ، سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان کے پاس بیٹھے بات چیت کرتے رہے ، جب نماز کا وقت ہوا اور نماز کھڑی ہو گئی ، تو سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ کو تاخیر ہو گئی سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے ابوموسیٰ ! آپ یہ بات جانتے ہیں کہ سنت میں یہ بات شامل ہے کہ گھر والا شخص آگے بڑھ کر ( لوگوں کو نماز پڑھائے ) تو سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ نے ان کی یہ بات نہیں مانی یہاں تک کہ ان دونوں حضرات میں سے کسی ایک کے غلام نے آگے بڑھ کر ( ان حضرات کی امامت کی ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔