کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نابینا شخص کا امامت کرنا
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَخْلَفَ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ عَلَى الْمَدِينَةِ يُصَلِّي بِالنَّاسِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : " اسْتُخْلِفَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ عَلَى الْمَدِينَةِ مَرَّتَيْنِ يُصَلِّي بِالنَّاسِ " وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں اپنا قائم مقام مقرر کیا تھا وہ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو دو مرتبہ مدینہ منورہ میں قائم مقام مقرر کیا گیا اور وہ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے “ ۔ امام ابویعلیٰ کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2328
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : اسْتَخْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ عَلَى الْمَدِينَةِ يُصَلِّي بِالنَّاسِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں اپنا قائم مقام مقرر کیا تھا وہ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2329
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُحَيْنَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا سَافَرَ اسْتَخْلَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ فَكَانَ يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ فَيُصَلِّي بِهِمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ الْوَاقِدِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن بحسینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے تھے تو سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں اپنا قائم مقام مقرر کر دیتے تھے وہ اذان دیتے تھے اقامت کہتے تھے ، اور لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2330
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ إِمَامِ بَنِي خَطْمَةَ أَنَّهُ كَانَ إِمَامًا لَبَنِي خَطْمَةَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ أَعْمَى ، وَغَزَا مَعَهُ وَهُوَ أَعْمَى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمیر رضی اللہ عنہ جو بنو خطمہ کے امام ہیں ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں بنو خطمہ کے امام تھے وہ نابینا تھے انہوں نے نابینا ہونے کے باوجود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں شرکت کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2331
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔