مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ إِمَامَةِ الرَّجُلِ فِي رَحْلِهِ . باب: کسی شخص کا اپنے پالان میں رہتے ہوئے امامت کرنا
وَعَنْ عَلْقَمَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ أَتَى أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ فِي مَنْزِلِهِ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَقَالَ أَبُو مُوسَى : تَقَدَّمْ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَإِنَّكَ أَقْدَمُ سِنًّا وَأَعْلَمُ قَالَ : بَلْ أَنْتَ تَقَدَّمْ فَإِنَّمَا أَتَيْنَاكَ فِي مَنْزِلِكَ وَمَسْجِدِكَ، فَأَنْتَ أَحَقُّ قَالَ : فَتَقَدَّمَ أَبُو مُوسَى فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ لَهُ : مَا أَرَدْتَ إِلَى خَلْعِهِمَا أَبِالْوَادِي الْمُقَدَّسِ أَنْتَ ؟ ! رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُتَّصِلًا بِرِجَالٍ ثِقَاتٍ . ¤علقمہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ہاں ان کے گھر آئے نماز کا وقت ہوا تو سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوعبدالرحمن آپ آگے بڑھیں کیونکہ آپ عمر میں بھی زیادہ ہیں ، اور علم میں بھی زیادہ ہیں تو سیدنا عبداللہ بن سعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی نہیں بلکہ تم آگے بڑھو ہم تمہارے پاس تمہارے گھر اور تمہاری نماز کی مخصوص جگہ پر آئے ہیں تو تم اس بات کے زیادہ حق دار ہو ( کہ تم ہماری امامت کرو ) راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور انہوں نے جوتے اتار دیے جب انہوں نے سلام پھیرا تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ نے یہ جوتے کیوں اتارے تھے ؟ کیا آپ وادی مقدس میں تھے ؟
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے یہ روایت امام طبرانی نے ” ثقہ “ رجال کے حوالے سے متصل روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔