مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ إِمَامَةِ الرَّجُلِ فِي رَحْلِهِ . باب: کسی شخص کا اپنے پالان میں رہتے ہوئے امامت کرنا
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ قَالَ : كُنَّا فِي مَنْزِلِ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ وَمَعَنَا نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْنَا لَهُ : تَقَدَّمْ فَقَالَ : مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَنْظَلَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الرَّجُلُ أَحَقُّ بِصَدْرِ فِرَاشِهِ، وَأَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِهِ، وَأَحَقُّ أَنْ يَؤُمَّ فِي بَيْتِهِ" فَأَمَرَ مَوْلًى لَهُ فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ وَالْبُخَارِيُّ وَوَثَّقَهُ يَعْقُوبُ بْنُ شَيْبَةَ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤«»سیدنا عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھے ہمارے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب موجود تھے ہم نے ان سے کہا: آپ آگے بڑھیں تو انہوں نے فرمایا : میں آگے نہیں بڑھوں گا ، تو سیدنا عبداللہ بن حنظلہ نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : آدمی اپنے بچھونے پر درمیان میں بیٹھنے کا زیادہ حق دار ہے ، اور اپنی سواری پر آگے بیٹھنے کا زیادہ حق دار ہے ، اور اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اپنے گھر میں وہ امامت کرے ۔ تو ان صاحب نے اپنے ایک غلام کو ہدایت کی وہ آگے بڑھا اور اس نے نماز پڑھائی ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن یحیی بن طلحہ ہے ، جسے امام أحمد ابن معین امام بخاری رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے یعقوب بن شیبہ نے ” ثقہ “ کہا: ہے ، اور امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔