کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: عشاء کی نماز سے پہلے سونا اور اس کے بعد بات چیت کرنا
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : كُنْتُ رَجُلًا نَوَّامًا وَكُنْتُ إِذَا صَلَّيْتُ الْمَغْرِبَ وَعَلَيَّ ثِيَابِي نِمْتُ - أَوْ قَالَ : فَأَنَامُ [ قَبْلَ الْعِشَاءِ ] فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ ذَلِكَ فَرَخَّصَ لِي . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لِسُوءِ حِفْظِهِ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ایک ایسا شخص تھا ، جسے نیند بہت آتی تھی میں مغرب کی نماز ادا کر لیتا تھا اور میں نے ( باہر جانے کے وقت پہنے والا ) لباس پہنا ہوتا تھا اور پھر بھی میں سو جاتا تھا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) پھر بھی میں عشاء سے پہلے سو جاتا تھا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں دریافت کیا : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کی اجازت دی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن ابولیلی ہے ، اور وہ اپنے حافظے کی خرابی کی وجہ سے ضعیف ہے ، اور اس میں ایک راوی ایسا بھی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن ابولیلی ہے ، اور وہ اپنے حافظے کی خرابی کی وجہ سے ضعیف ہے ، اور اس میں ایک راوی ایسا بھی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ نَامَ قَبْلَ الْعِشَاءِ فَلَا نَامَتْ عَيْنُهُ " . قَالَتْ عَائِشَةُ : مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَامَ قَبْلَهَا وَلَا تَحَدَّثَ بَعْدَهَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص عشاء سے پہلے سو جائے تو اس کی آنکھ نہ سوئے “ ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی اس نماز سے پہلے سوتے ہوئے اور اس کے بعد بات چیت کرتے ہوئے نہیں دیکھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ بن عبید بن عمیر ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ بن عبید بن عمیر ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ قَالَتْ : مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَائِمًا قَبْلَ الْعِشَاءِ وَلَا لَاغِيًا بَعْدَهَا ; إِمَّا ذَاكِرًا فَيَغْنَمُ ، وَإِمَّا نَائِمًا فَيَسْلَمُ ، قَالَتْ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : السَّمَرُ لِثَلَاثَةٍ : لِعَرُوسٍ ، أَوْ مُسَافِرٍ ، أَوْ مُتَهَجِّدٍ بِاللَّيْلِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں وہ بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی عشاء سے پہلے سوتے ہوئے اور عشاء کے بعد کوئی لغو کام کرتے ہوئے نہیں دیکھا ، یا تو آپ ذکر کرتے تھے ، اور غنیمت حاصل کرتے تھے اور سو جاتے تھے یا سلامت رہتے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : رات کے وقت بات چیت تین افراد کر سکتے ہیں میاں بیوی ، مسافر یا رات کے وقت تہجد کی نماز ادا کرنے والا شخص ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا سَمَرَ بَعْدَ الصَّلَاةِ - يَعْنِي عِشَاءَ الْآخِرَةِ - إِلَّا لِأَحَدِ رَجُلَيْنِ : مُصَلٍّ أَوْ مُسَافِرٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ; فَأَمَّا أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى فَقَالَا : عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ . وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ : عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُدَيْرٍ ، وَرِجَالُ الْجَمِيعِ ثِقَاتٌ ، وَعِنْدَ أَحْمَدَ فِي رِوَايَةٍ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، بِإِسْقَاطِ الرَّجُلِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” نماز کے بعد بات چیت نہیں ہو گی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد عشاء کی نماز تھی البتہ دو میں سے ایک قسم کے فرد کا معاملہ مختلف ہے نماز ادا کرنے والا شخص یا مسافر شخص “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے اسے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کیا ہے جہاں تک امام أحمد اور امام ابویعلیٰ کا تعلق ہے ، تو ان دونوں نے یہ کیا ہے یہ خیثمہ کے حوالے سے ایک شخص کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، جب کہ امام طبرانی یہ کہتے ہیں : یہ خیثمہ کے حوالے سے زیاد بن حدیر کے حوالے سے منقول ہے ، اور ان : تمام روایات کے رجال ” ثقہ “ ہیں امام أحمد نے ایک روایت میں یہ کہا: ہے کہ یہ خیثمہ کے حوالے سے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے یعنی اس میں درمیان کے شخص کا ذکر نہیں کیا گیا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے اسے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کیا ہے جہاں تک امام أحمد اور امام ابویعلیٰ کا تعلق ہے ، تو ان دونوں نے یہ کیا ہے یہ خیثمہ کے حوالے سے ایک شخص کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، جب کہ امام طبرانی یہ کہتے ہیں : یہ خیثمہ کے حوالے سے زیاد بن حدیر کے حوالے سے منقول ہے ، اور ان : تمام روایات کے رجال ” ثقہ “ ہیں امام أحمد نے ایک روایت میں یہ کہا: ہے کہ یہ خیثمہ کے حوالے سے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے یعنی اس میں درمیان کے شخص کا ذکر نہیں کیا گیا ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : نَهَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ النَّوْمِ قَبْلَ الْعِشَاءِ وَعَنِ الْحَدِيثِ بَعْدَهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو سَعِيدِ بْنُ عُودٍ الْمَكِّيُّ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات چیت کرنے سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مجھ کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوسعید بن عود مکی ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مجھ کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوسعید بن عود مکی ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : كُنَّا نَتَنَاوَبُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَبِيتُ عِنْدَهُ تَكُونُ لَهُ الْحَاجَةُ ، أَوْ يَطْرُقُهُ أَمْرٌ مِنَ اللَّيْلِ فَيَبْعَثُنَا ، فَيَكْثُرُ الْمُحْتَسِبُونَ وَأَهْلُ النُّوَبِ ، فَكُنَّا نَتَحَدَّثُ ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ : " مَا هَذِهِ النَّجْوَى ؟ أَلَمْ أَنْهَكُمْ عَنِ النَّجْوَى ؟ " قَالَ : فَقُلْنَا : نَتُوبُ إِلَى اللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے باری مقرر کی ہوئی تھی ہم میں سے کوئی ایک آپ کے پاس رات کے وقت ٹھہر جاتا تھا تاکہ آپ کو اگر کوئی ضرورت درپیش ہو ، یا رات کے وقت کوئی معاملہ درپیش ہو ، تو آپ ہمیں وہاں بھجوا دیتے تھے ، تو ثواب کی امید رکھنے والوں اور باری کا انتظار کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہو گئی ، ایک مرتبہ ہم بات چیت کر رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس رات کے وقت تشریف لائے آپ نے ارشاد فرمایا : یہ کیا بات چیت ہو رہی ہے ؟ کیا میں نے بات چیت کرنے سے منع نہیں کیا ہے راوی کہتے ہیں : تو ہم نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! ہم لوگ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔