حدیث نمبر: 1762
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا سَمَرَ بَعْدَ الصَّلَاةِ - يَعْنِي عِشَاءَ الْآخِرَةِ - إِلَّا لِأَحَدِ رَجُلَيْنِ : مُصَلٍّ أَوْ مُسَافِرٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ; فَأَمَّا أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى فَقَالَا : عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ . وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ : عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُدَيْرٍ ، وَرِجَالُ الْجَمِيعِ ثِقَاتٌ ، وَعِنْدَ أَحْمَدَ فِي رِوَايَةٍ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، بِإِسْقَاطِ الرَّجُلِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” نماز کے بعد بات چیت نہیں ہو گی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد عشاء کی نماز تھی البتہ دو میں سے ایک قسم کے فرد کا معاملہ مختلف ہے نماز ادا کرنے والا شخص یا مسافر شخص “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے اسے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کیا ہے جہاں تک امام أحمد اور امام ابویعلیٰ کا تعلق ہے ، تو ان دونوں نے یہ کیا ہے یہ خیثمہ کے حوالے سے ایک شخص کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، جب کہ امام طبرانی یہ کہتے ہیں : یہ خیثمہ کے حوالے سے زیاد بن حدیر کے حوالے سے منقول ہے ، اور ان : تمام روایات کے رجال ” ثقہ “ ہیں امام أحمد نے ایک روایت میں یہ کہا: ہے کہ یہ خیثمہ کے حوالے سے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے یعنی اس میں درمیان کے شخص کا ذکر نہیں کیا گیا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1762
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح لغیرہ، کیونکہ تمام رواۃ ثقہ ہیں اور طرق کی کثرت و شاہد کی موجودگی سے اس کی سند قوی ہے۔
تخریج حدیث «1762 مسند احمد بن حنبل مسند عبد الله بن مسعود رضى الله تعالى عنه حديث 3496 مسند الطيالسي ما اسند عبد الله بن مسعود رضى الله عنه ، 359 السنن الكبرى للبيهقى كتاب الصلاة ذكر جماع ابواب الاذان والإقامة باب كراهية النوم قبل العشاء حتى يتاخر عن وقتها وكراهية الحديث ، 1974»