مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي النَّوْمِ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثِ بَعْدَهَا . باب: عشاء کی نماز سے پہلے سونا اور اس کے بعد بات چیت کرنا
وَعَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ قَالَتْ : مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَائِمًا قَبْلَ الْعِشَاءِ وَلَا لَاغِيًا بَعْدَهَا ; إِمَّا ذَاكِرًا فَيَغْنَمُ ، وَإِمَّا نَائِمًا فَيَسْلَمُ ، قَالَتْ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : السَّمَرُ لِثَلَاثَةٍ : لِعَرُوسٍ ، أَوْ مُسَافِرٍ ، أَوْ مُتَهَجِّدٍ بِاللَّيْلِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں وہ بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی عشاء سے پہلے سوتے ہوئے اور عشاء کے بعد کوئی لغو کام کرتے ہوئے نہیں دیکھا ، یا تو آپ ذکر کرتے تھے ، اور غنیمت حاصل کرتے تھے اور سو جاتے تھے یا سلامت رہتے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : رات کے وقت بات چیت تین افراد کر سکتے ہیں میاں بیوی ، مسافر یا رات کے وقت تہجد کی نماز ادا کرنے والا شخص ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔