حدیث نمبر: 1764
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : كُنَّا نَتَنَاوَبُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَبِيتُ عِنْدَهُ تَكُونُ لَهُ الْحَاجَةُ ، أَوْ يَطْرُقُهُ أَمْرٌ مِنَ اللَّيْلِ فَيَبْعَثُنَا ، فَيَكْثُرُ الْمُحْتَسِبُونَ وَأَهْلُ النُّوَبِ ، فَكُنَّا نَتَحَدَّثُ ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ : " مَا هَذِهِ النَّجْوَى ؟ أَلَمْ أَنْهَكُمْ عَنِ النَّجْوَى ؟ " قَالَ : فَقُلْنَا : نَتُوبُ إِلَى اللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے باری مقرر کی ہوئی تھی ہم میں سے کوئی ایک آپ کے پاس رات کے وقت ٹھہر جاتا تھا تاکہ آپ کو اگر کوئی ضرورت درپیش ہو ، یا رات کے وقت کوئی معاملہ درپیش ہو ، تو آپ ہمیں وہاں بھجوا دیتے تھے ، تو ثواب کی امید رکھنے والوں اور باری کا انتظار کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہو گئی ، ایک مرتبہ ہم بات چیت کر رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس رات کے وقت تشریف لائے آپ نے ارشاد فرمایا : یہ کیا بات چیت ہو رہی ہے ؟ کیا میں نے بات چیت کرنے سے منع نہیں کیا ہے راوی کہتے ہیں : تو ہم نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! ہم لوگ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1764
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن