کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: بچے کو نماز کا حکم دینا
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلِّمُوا أَوْلَادَكُمُ الصَّلَاةَ إِذَا بَلَغُوا سَبْعًا ، وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا إِذَا بَلَغُوا عَشْرًا ، وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَوْفِيُّ ، قِيلَ فِيهِ : لَيِّنُ الْحَدِيثِ وَنَحْوُ ذَلِكَ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ وَثَّقَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اپنی اولاد کو نماز کی تعلیم دو ! جب وہ سات سال کے ہو جائیں اور ، جب وہ دس سال کے ہو جائیں ، تو نماز ( ترک کرنے ) کے حوالے سے اُن کی پٹائی کرو اور ان کے بستر الگ کر دو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن عوفی ہے ، جس کے بارے میں یہ کہا: گیا ہے : یہ حدیث میں کمزور ہے یا اس کی مانند کلمات کہے گئے ہیں ، میں نے ایسے کسی شخص کو نہیں پایا ، جس نے اُس کی توثیق کی ہو ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1626
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ : وَجَدْنَا صَحِيفَةً فِي قِرَابِ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ وَفَاتِهِ ، فِيهَا مَكْتُوبٌ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، وَفَرِّقُوا بَيْنَ مَضَاجِعِ الْغِلْمَانِ وَالْجَوَارِي وَالْأُخْوَةِ وَالْأَخَوَاتِ لِسَبْعِ سِنِينَ ، وَاضْرِبُوا أَبْنَاءَكُمْ عَلَى الصَّلَاةِ سَبْعًا ، مَلْعُونٌ مَلْعُونٌ مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ قَوْمِهِ - أَوْ إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ - مَلْعُونٌ مَنِ اقْتَطَعَ شَيْئًا مِنْ تُخُومِ الْأَرْضِ " . يَعْنِي بِذَلِكَ طُرُقَ الْمُسْلِمِينَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ غَسَّانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ يُوسُفَ بْنِ نَافِعٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُمَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد ، ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کی میان میں ایک صحیفہ موجود پایا ، جس میں یہ تحریر تھا : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ، سات سال کی عمر میں بچوں اور بچیوں ، بھائیوں اور بہنوں کے بستر الگ کر دو ، اور نماز کی وجہ سے سات سال کی عمر میں ، اپنے بچوں کی پٹائی کرو ، وہ شخص ملعون ہے ، ملعون ہے ، جو اپنی قوم کے علاوہ کسی اور کی طرف نسبت کا دعوی کرے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) اپنے آزاد کرنے والے آقاؤں کی بجائے ، کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرے ، اور وہ شخص ملعون ہے ، جو زمین کا کوئی بھی ٹکڑا ہتھیا لیتا ہے “ ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) اس کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ مسلمانوں کے راستے میں سے کوئی چیز ہتھیا لیتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے عنسان بن عبیداللہ نے یوسف بن نافع سے روایت کیا ہے ، اور میں نے کسی کو ان دونوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1627
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا عَرَفَ الْغُلَامُ يَمِينَهُ مِنْ شَمَالِهِ فَمُرُوهُ بِالصَّلَاةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَقَالَ فِي الْأَوْسَطِ : لَا يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ فِي الصَّغِيرِ : لَا يُرْوَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبِيبٍ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب بچے کو بائیں کے مقابلے میں دائیں کی سمجھ آنے لگے ، تو اُسے نماز کا حکم دو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، معجم اوسط میں انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : کہ یہ روایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ، جب کہ معجم صغیر میں انہوں نے یہ بات نقل کی ہے : یہ روایت صرف سیدنا عبداللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1628
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مُرُوهُمْ بِالصَّلَاةِ لِسَبْعِ سِنِينَ ، وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا لِثَلَاثَ عَشْرَةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَالْبُخَارِيُّ وَجَمَاعَةٌ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” انہیں سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو ، اور تیرہ سال کی عمر میں نماز کے حوالے سے اُن کی پٹائی کرو ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی روایت میں ایک راوی داؤد بن محبر ہے ، جسے امام أحمد ، امام بخاری رحمہ اللہ اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ، یحیی بن معین نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1629
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ قَالَ : قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ : مَا حَفِظْتَ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَحْمَدُ فِي أَثْنَاءِ حَدِيثِ الْقُنُوتِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوحوراء بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کیا بات یاد ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : پانچ نمازیں یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، جب کہ امام أحمد نے اسے قنوت سے متعلق حدیث کے ضمن میں نقل کیا ہے ،
اور اس روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1630
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : حَافَظُوا عَلَى أَبْنَائِكُمْ فِي الصَّلَاةِ وَعَوِّدُوهُمُ الْخَيْرَ ; فَإِنَّ الْخَيْرَ عَادَةٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو نُعَيْمٍ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اپنے بچوں کو نماز کا عادی بناؤ ! اور انہیں بھلائی کا عادی بناؤ ! کیونکہ بھلائی عادت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابونعیم ضرار بن صرد ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1631
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف