کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نماز کی فرضیت کا بیان
حدیث نمبر: 1595
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ عَلِمَ أَنَّ الصَّلَاةَ حَقٌّ وَاجِبٌ دَخَلَ الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ فِي زِيَادَاتِهِ ، وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " حَقٌّ مَكْتُوبٌ وَاجِبٌ " ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص یہ بات جان لے ، کہ نماز حق اور واجب ہے ، وہ جنت میں داخل ہو گا “ ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے اپنی ” زیادات “ میں نقل کی ہے ، اسے امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کیا ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” حق ہے ، لازم کی گئی ہے ، واجب ہے “ ۔ امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1595
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «مسند احمد بن حنبل مسند العشرة المبشرين بالجنة مسند عثمان بن عفان رضى الله عنه ، حديث 419 ، البحر الزخار مسند البزار ، عبدالملك بن عبيد ، 412 ، مسند عبد بن حميد مسند عثمان بن عفان رضى الله عنه ، 50 ، المستدرك على الصحيحين للحاكم كتاب الإيمان ، واما حديث اشعث بن جابر 222 ، السنن الكبرى للبيهقى كتاب الصلاة ، باب اصل فرض الصلاة 1552 ، شعب الإيمان للبيهقي الحادى والعشرون من شعب الإيمان وهو باب فى الصلاة ، 2679»
حدیث نمبر: 1596
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَى الْعِبَادِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَرَوَّادُ بْنُ الْجَرَّاحِ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . وَتَأْتِي فِي صَلَاةِ السَّفَرِ أَحَادِيثُ فِي فَرْضِ الصَّلَاةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے ، ہر دن اور رات میں ، بندوں پر پانچ نمازیں فرض قرار دی ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، اپنے استاد محمد بن راشد کے حوالے سے نقل کی ہے ، میں اُن سے واقف نہیں ہوں رؤاد بن جراح نامی راوی کو امام أحمد نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور ابن حبان نے بھی ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، نماز کی فرضیت کے بارے میں ، احادیث آگے چل کر ، سفر کی نماز سے متعلق باب میں آئیں گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1596
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «المعجم الاوسط للطبراني باب العين ، 7406»
حدیث نمبر: 1597
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَوَّلَ مَا افْتَرَضَ اللَّهُ - تَعَالَى - عَلَى النَّاسِ مِنْ دِينِهِمُ الصَّلَاةُ ، وَآخَرُ مَا يَبْقَى الصَّلَاةُ ، وَأَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ الصَّلَاةُ ، يَقُولُ اللَّهُ : انْظُرُوا فِي صَلَاةِ عَبْدِي ، فَإِنْ كَانَتْ تَامَّةً كُتِبَتْ تَامَّةً ، وَإِنْ كَانَتْ نَاقِصَةً قَالَ : انْظُرُوا هَلْ لَهُ مِنْ تَطَوُّعٍ ؟ فَإِنْ وُجِدَ لَهُ تَطَوُّعٌ تَمَّتِ الْفَرِيضَةُ مِنَ التَّطَوُّعِ ، ثُمَّ قَالَ : انْظُرُوا هَلْ زَكَاتُهُ تَامَّةٌ ؟ فَإِنْ وُجِدَتْ زَكَاتُهُ تَامَّةً كُتِبَتْ تَامَّةً ، وَإِنْ كَانَتْ نَاقِصَةً قَالَ : انْظُرُوا هَلْ لَهُ صَدَقَةٌ ؟ فَإِنْ كَانَتْ لَهُ صَدَقَةٌ تَمَّتْ لَهُ زَكَاتُهُ مِنَ الصَّدَقَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ، ضَعَّفَهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ عَدِيٍّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے بندوں پر ، اُن کے دین کے حوالے سے ، سب سے پہلے اُن پر نماز فرض کی ہے ، اور آخری باقی رہ جانے والی چیز بھی نماز ہے ، بندے سے سب سے پہلے جس چیز کا حساب لیا جائے گا ، وہ نماز ہے ، اللہ تعالی ( فرشتوں سے ) فرمائے گا : میرے بندے کی نماز کا جائزہ لو ! اگر وہ مکمل ہوئی ، تو وہ مکمل نوٹ کی جائے گی ، اور اگر وہ ناقص ہوئی ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تم اس بات کا جائزہ لو ! کہ کیا اس کی کوئی نفل نماز ہے ؟ اگر اس کی کوئی نفل نماز مل گئی ، تو نفل کے ذریعے اُس کے فریضے کو مکمل کر دیا جائے گا ، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اس بات کا جائزہ لو ! کہ کیا اس کی زکوٰۃ مکمل ہے ؟ تو اگر اس بندے کی زکوٰۃ مکمل پائی گئی ، تو وہ مکمل نوٹ کی جائے گی ، اور اگر وہ ناقص ہوئی ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اس بات کا جائزہ لو ! کہ کیا اس نے کوئی صدقہ کیا ہے ؟ اگر اس کا کوئی صدقہ ہوا ، تو صدقے کے ذریعے اس کی زکوٰۃ کو مکمل کیا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید رقاشی ہے ، جسے شعبہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، یحییٰ بن معین اور ابن عدی نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1597
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف، اس کے راوی یزید الرقاشی کو جمہور محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔
تخریج حدیث «مسند أبى يعلى الموصلى يزيد الرقاشي ، 4011»
حدیث نمبر: 1598
وَعَنْ حَنْظَلَةَ الْكَاتِبِ قَالَ : سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ حَافَظَ عَلَى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ : رُكُوعِهِنَّ ، وَسُجُودِهِنَّ ، وَمَوَاقِيتِهِنَّ ، وَعَلِمَ أَنَّهُنَّ حَقٌّ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ - دَخَلَ الْجَنَّةَ " أَوْ قَالَ : " وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " أَوْ قَالَ : " حَرُمَ عَلَى النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حنظلہ کاتب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص پانچ نمازوں ، اُن کے رکوع ، اُن کے سجود اور اُن کے اوقات کی حفاظت کرے گا ، اور یہ بات جان لے گا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والا حق ہے ، تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) اُس کے لئے جنت واجب ہو جائے گی ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) وہ جہنم پر حرام ہو گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1598
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «مسند احمد بن حنبل اول مسند الكوفيين ، حديث حنظلة الكاتب الاسيدى 18011 ، المعجم الكبير للطبراني من اسمه الحارث ، حريث بن زيد بن ثعلبة الانصاري حنظلة بن الربيع الاسيدى الكاتب ، 3412 ، معرفة الصحابة لابي نعيم الاصبهاني باب الحاء ، باب من اسمه حصين حنظلة بن الربيع بن المرقع بن صيفى الاسيدي التميمي ، 2045»
حدیث نمبر: 1599
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : بَعَثَتْ بَنُو سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ ضِمَامَ بْنَ ثَعْلَبَةَ وَافِدًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَدِمَ عَلَيْهِ ، فَأَنَاخَ بَعِيرَهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ ثُمَّ عَقَلَهُ ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسٌ فِي أَصْحَابِهِ - وَكَانَ ضِمَامٌ رَجُلًا أَشْعَرَ ذَا غَدِيرَتَيْنِ - فَأَقْبَلَ حَتَّى وَقَفَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَصْحَابِهِ فَقَالَ : أَيُّكُمُ ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ " . قَالَ : مُحَمَّدٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، إِنِّي سَائِلُكَ وَمُغْلِظٌ فِي الْمَسْأَلَةِ ، فَلَا تَجِدَنَّ فِي نَفْسِكَ . قَالَ : " لَا أَجِدُ فِي نَفْسِي ، فَسَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ " . قَالَ : أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ إِلَهِكَ وَإِلَهِ مَنْ قَبْلَكَ وَإِلَهِ مَنْ هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكَ ، آللَّهُ بَعَثَكَ إِلَيْنَا رَسُولًا ؟ قَالَ : " اللَّهُمَّ نَعَمْ " ، فَقَالَ : أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ إِلَهِكَ وَإِلَهَ مَنْ هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكَ ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنَّ تَأْمُرَنَا أَنْ نَعْبُدَهُ لَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا ، وَأَنْ نَخْلَعَ هَذِهِ الْأَنْدَادَ الَّتِي كَانَ آبَاؤُنَا يَعْبُدُونَ مَعَهُ ؟ قَالَ : " اللَّهُمَّ نَعَمْ " . قَالَ : فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَهَكَ وَإِلَهَ مَنْ قَبْلَكَ وَإِلَهَ مَنْ هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكَ ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنَّ تُصَلِّيَ هَذِهِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ ؟ قَالَ : " اللَّهُمَّ نَعَمْ " . قَالَ : ثُمَّ جَعَلَ يَذْكُرُ فَرَائِضَ الْإِسْلَامِ فَرِيضَةً فَرِيضَةً : الزَّكَاةَ ، وَالصِّيَامَ ، وَالْحَجَّ ، وَشَرَائِعَ الْإِسْلَامِ كُلَّهَا ، يُنَاشِدُهُ عِنْدَ كُلِّ فَرِيضَةٍ كَمَا نَاشَدَهُ فِي الَّتِي قَبْلَهَا ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ : إِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، وَسَأُؤَدِّي هَذِهِ الْفَرَائِضَ وَأَجْتَنِبُ مَا نَهَيْتِنِي عَنْهُ ، لَا أَزْيَدَ وَلَا أَنْقُصُ . قَالَ : ثُمَّ انْصَرَفَ رَاجِعًا إِلَى بَعِيرِهِ . قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ وَلَّى : " إِنْ صَدَقَ ذُو الْعَقِيصَتَيْنِ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ " . ¤ قَالَ : فَأَتَى بَعِيرَهُ فَأَطْلَقَ عِقَالَهُ ، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ ، فَكَانَ أَوَّلُ مَا تَكَلَّمَ بِهِ أَنْ قَالَ : بِئْسَتِ اللَّاتُ وَالْعُزَّى . قَالُوا : مَهْ يَا ضِمَامُ ، اتَّقِ الْبَرَصَ وَالْجُذَامَ ، اتَّقِ الْجُنُونَ . قَالَ : وَيْلَكُمْ ، إِنَّهُمَا وَاللَّهِ مَا يَضُرَّانِ وَلَا يَنْفَعَانِ ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَعَثَ رَسُولًا ، وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ كِتَابًا اسْتَنْقَذَكُمْ بِهِ مِمَّا كُنْتُمْ فِيهِ ، وَإِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّمُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، وَقَدْ جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِهِ بِمَا أَمَرَكُمْ بِهِ وَنَهَاكُمْ عَنْهُ . قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا أَمْسَى فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ وَفِي حَاضِرِهِ رَجُلٌ وَلَا امْرَأَةٌ إِلَّا مُسْلِمًا . قَالَ : يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَمَا سَمِعْنَا بِوَافِدِ قَوْمٍ أَفْضَلَ مِنْ ضِمَامٍ . ¤ قُلْتُ : عَزَاهُ صَاحِبُ الْأَطْرَافِ إِلَى أَبِي دَاوُدَ ، وَلَمْ أَجِدْ فِي أَبِي دَاوُدَ إِلَّا طَرَفًا مِنْ أَوَّلِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : بنو سعد بن بکر نے ضمام بن ثعلبہ کو وافد ( یعنی نمائندے کے طور پر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اُس نے مسجد کے دروازے پر اپنے اونٹ کو بٹھایا اور پھر اُسے باندھ دیا ، پھر وہ مسجد میں داخل ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنے اصحاب کے درمیان تشریف فرما تھے ، ضمام ایک ایسا شخص تھا ، جس کے بال زیادہ تھے ، اور اس نے زلفیں رکھی ہوئی تھیں ، وہ آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے درمیان موجود ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر ٹھہر گیا ، اُس نے دریافت کیا : آپ لوگوں میں سے جناب عبدالمطلب کے صاحبزادے کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں عبدالمطلب کا صاحبزادہ ہوں ، اُس نے دریافت کیا : آپ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ! اس نے کہا: جناب عبدالمطلب کے صاحبزادے ! میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں ، سوال کرتے ہوئے میرے لہجے میں سختی ہو سکتی ہے ، تو آپ اس بات کا برا نہ منائیے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں برا نہیں مناؤں گا ، تمہیں جو مناسب لگتا ہے ، تم پوچھو ! اس نے کہا: میں آپ کو اس اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں ، جو آپ کا معبود ہے ، اور آپ سے پہلے والوں کا معبود ہے ، اور آپ کے بعد جو لوگ بھی ہوں گے ، اُن کا معبود ہے ، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہماری طرف رسول بنا کر مبعوث کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ جانتا ہے ، جی ہاں ! اس نے کہا: میں آپ کو اس اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں ، جو آپ کا بھی معبود ہے ، اور ہر اس فرد کا معبود ہے ، جو آپ کے بعد ہو گا ، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ ہمیں اس بات کا حکم دیں کہ ہم اُسی کی عبادت کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں ، اور اپنے ان باطل معبودوں سے الگ ہو جائیں ، جن کی ہمارے آباؤ اجداد ، اللہ تعالیٰ کے ہمراہ عبادت کیا کرتے تھے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ جانتا ہے ، ایسا ہی ہے ، اُس نے کہا: میں آپ کو اُس اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں ، جو آپ کا معبود ہے ، اور آپ سے پہلے والوں کا اور آپ کے بعد جتنے بھی ہوں گے ، اُن کا معبود ہے ، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ نے یہ پانچ نمازیں ادا کرنی ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ جانتا ہے ، جی ہاں ! راوی بیان کرتے ہیں : پھر اُس شخص نے اسلام کے فرائض کو ایک ، ایک کر کے ذکر کیا ، زکوۃ ، روزوں ، حج اور شریعت کے تمام بنیادی احکام کا ذکر کیا اور ہر فرض کا ذکر کرتے ہوئے ، اُس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا واسطہ دیا ، اور جس طرح اُس سے پہلے والے فرض کے بارے میں ، اُس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو واسطہ دے کر دریافت کیا تھا ، جب وہ اس بات سے فارغ ہوا ، تو وہ بولا: کہ میں اس کی بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، میں آگے چل کر یہ فرائض سرانجام دوں گا ، اور آپ نے مجھے جن چیزوں سے منع کیا ہے ، اُن سے اجتناب کروں گا میں ان احکام میں کوئی کمی یا کوئی اضافہ نہیں کروں گا ، راوی کہتے ہیں : پھر وہ اپنے اونٹ کی طرف جانے کے لئے مڑ گیا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب وہ مڑ گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر یہ زلفوں والا شخص سچ کہہ رہا ہے ، تو یہ جنت میں داخل ہو گا “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : وہ شخص اپنے اونٹ کے پاس آیا ، اُس نے اپنے اونٹ کی رسی کھولی ، پھر وہ وہاں سے روانہ ہوا ، یہاں تک کہ وہ اپنی قوم کے پاس آیا ، لوگ اکھٹے ہو کر اس کے پاس آئے ، تو اس نے جو سب سے پہلی بات کی وہ یہ کہی : لات اور عزیٰ بہت برے ہیں ، اُن لوگوں نے کہا: اے ضمام رک جاؤ ! تم برص اور جذام سے بچ کے رہو ! تم جنون سے بچ کے رہو ! اُس نے کہا: تم لوگوں کا ستیاناس ہو ، اللہ کی قسم ! یہ دونوں نہ تو کوئی نقصان دے سکتے ہیں ، اور نہ کوئی نفع دے سکتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے رسول کو مبعوث کیا ہے ، اور ان پر کتاب نازل کی ہے ، تاکہ وہ اُس رسول کے ذریعے تمہیں اس چیز ( یعنی شرک ) سے بچائے ، جس میں تم مبتلا ہو ، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی معبود ہے ، اُس کا کوئی شریک نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، میں ان کے پاس سے تمہارے پاس وہ چیز لے کے آیا ہوں ، جس کا انہوں نے تمہیں حکم دیا ہے ، اور جس چیز سے انہوں نے تمہیں منع کیا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اللہ کی قسم ! اس دن شام ہونے سے پہلے ، وہاں جتنے بھی مرد اور عورت موجود تھے ۔ ان میں سے ہر ایک مسلمان ہو گیا ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : کسی بھی قوم کے نمائندے کے بارے میں ، ہم نے یہ نہیں سنا ، جو ضمام سے زیادہ فضیلت رکھتا ہو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) ” اطراف “ کے مصنف نے اس روایت کی نسبت امام ابوداؤد کی طرف کی ہے ، لیکن میں نے سنن ابوداؤد میں یہ روایت نہیں پائی ، اس کا صرف ابتدائی حصہ پایا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1599
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «صحيح ابن خزيمة كتاب الزكاة ، جماع ابواب قسم المصدقات باب الرخصة فى قسم المرء صدقته من غير دفعها إلى الوالى ، حديث 2217 المستدرك على الصحيحين للحاكم كتاب المغازى والسرايا ، 4329 سنن الدارمي كتاب الطهارة ، باب فرض الوضوء والصلاة 687 مصنف ابن ابي شيبة كتاب الإيمان والرويا ، ما ذكر فى الإيمان والإسلام 29704 مسند احمد بن حنبل مسند عبد الله بن العباس بن عبد المطلب 2311 السنن الكبرى للبيهقى كتاب قسم الصدقات ، باب ما جاء فى رب المال يتولى تفرقة زكاة ماله بنفسه 12259 المعجم الاوسط للطبراني باب الالف ، باب من اسمه إبراهيم 2760 المعجم الكبير للطبراني باب الصاد ، باب الضاد ضمام بن ثعلبة الازدي ، 8034 دلائل النبوة للبيهقي جماع ابواب غزوة تبوك ، باب قدوم ضمام بن ثعلبة على رسول الله صلى الله عليه 2113»
حدیث نمبر: 1600
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا غُلَامَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، [ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَعَلَيْكَ السَّلَامُ " فَقَالَ : إِنِّي رَجُلٌ مِنْ أَخْوَالِكَ مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ ، وَأَنَا رَسُولُ قَوْمِي إِلَيْكَ وَوَافِدُهُمْ وَإِنِّي سَائِلُكَ فَمُشْتَدَّةٌ مَسْأَلَتِي إِيَّاكَ ، وَمُنَاشِدُكَ فَمُشْتَدَّةٌ مُنَاشَدَتِي إِيَّاكَ ] فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دُونَكَ يَا أَخَا بَنِي سَعْدٍ " ، فَقَالَ : مَنْ خَلَقَكَ ؟ وَمَنْ خَلَقَ مَنْ قَبْلَكَ ؟ وَمَنْ هُوَ خَالِقُ مَنْ بَعْدَكَ ؟ قَالَ : " اللَّهُ " . قَالَ : فَنَشَدْتُكَ بِذَلِكَ ، أَهْوَ أَرْسَلَكَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَالْأَرَضِينَ السَّبْعَ ، وَأَجْرَى بَيْنَهُنَّ الرِّزْقَ ؟ قَالَ : " اللَّهُ " . قَالَ : فَنَشَدْتُكَ بِذَلِكَ ، أَهْوَ أَرْسَلَكَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : فَإِنَّا قَدْ وَجَدْنَا فِي كِتَابِكَ وَأَمَرَتْنَا رُسُلُكَ أَنْنُصَلِّيَ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ لِمَوَاقِيتِهَا ، فَنَشَدْتُكَ بِذَلِكَ ، أَهْوَ أَمَرَكَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : فَإِنَّا قَدْ وَجَدْنَا فِي كِتَابِكَ وَأَمَرَتْنَا [ رُسُلُكَ أَنْ نَصُومَ شَهْرَ رَمَضَانَ فَنَشَدْتُكَ بِذَلِكَ أَهُوَ أَمَرَكَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " قَالَ فَإِنَّا قَدْ وَجَدْنَا فِي كِتَابِكَ وَأَمَرَتْنَا ] رُسُلُكَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْ حَوَاشِي أَمْوَالِنَا فَتَجْعَلَهُ فِي فُقَرَائِنَا ، فَنَشَدْتُكَ بِذَلِكَ ، أَهْوَ أَمَرَكَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : أَمَّا الْخَامِسَةُ فَلَسْتُ بِسَائِلِكَ عَنْهَا وَلَا أَرَبَ لِي فِيهَا - يَعْنِي الْفَوَاحِشَ - ثُمَّ قَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَأَعْمَلَنَّ بِهَا وَمَنْ أَطَاعَنِي مِنْ قَوْمِي ، ثُمَّ رَجَعَ ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ] ثُمَّ قَالَ : " لَئِنْ صَدَقَ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : بنو سعد بن بکر سے تعلق رکھنے والا ایک دیہاتی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: اسے اولاد عبدالمطلب سے تعلق رکھنے والے نوجوان ! آپ پر سلام ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : تم پر بھی سلام ہو ، اس نے کہا: میں آپ کے ننھیالی عزیز بنو سعد بن بکر سے تعلق رکھنے والا شخص ہوں ، اور میں اپنی قوم کے قاصد اور اُن کے نمائندے کے طور پر آپ کے پاس آیا ہوں ، میں آپ سے کچھ سوالات کروں گا ، آپ سے کیے جانے والے سوالات میں ، لہجہ تیز ہو سکتا ہے ، اور آپ کے ساتھ ہونے والے مکالمے میں کچھ شدت ہو سکتی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : اے بنو سعد سے تعلق رکھنے والے فرد ! تم بولو ! اس نے دریافت کیا : آپ کو کس نے پیدا کیا ہے ، اور آپ سے پہلے لوگوں کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ اور آپ کے بعد والوں کو پیدا کرنے والا کون ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : اللہ تعالی اس نے کہا: پھر میں آپ کو اسی کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں ، کہ کیا آپ کو اس نے مبعوث کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ! اس نے دریافت کیا : سات آسمانوں اور سات زمینوں کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ اور ان کے درمیان رزق کس نے جاری کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ نے ، اُس نے کہا: پھر میں آپ کو اسی کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں ، کیا اُسی نے آپ کو مبعوث کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ! اُس نے کہا: آپ کے مکتوب میں ہم نے یہ بات پائی ہے ، اور آپ کے قاصدوں نے ہمیں یہ حکم دیا ہے : کہ ہم دن اور رات میں پانچ نمازیں ان کے مخصوص اوقات میں ادا کریں ، میں آپ کو اُسی ذات کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں ، کہ کیا اُس نے آپ کو اس چیز کا حکم دیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ! اس شخص نے کہا: ہم نے آپ کے مکتوب میں یہ بات پائی ہے ، اور آپ کے قاصدوں نے ہمیں یہ حکم دیا ہے : کہ ہم رمضان کے مہینے کے روزے رکھیں ، تو میں آپ کو اُسی ذات کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں ؛ کیا اُس نے آپ کو اس بات کا بھی حکم دیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ! اُس نے کہا: ہم نے آپ کے مکتوب میں یہ بات پائی ہے ، اور آپ کے قاصدوں نے ہمیں یہ بات بتائی ہے : کہ ہم اپنے اموال میں سے کچھ حصہ لے کر اُسے اپنے غریبوں میں تقسیم کر دیں ، میں آپ کو اسی ذات کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں : کیا اُس نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ! اس نے کہا: جہاں تک پانچویں چیز کا تعلق ہے ، تو اس کے بارے میں ، میں آپ سے سوال نہیں کروں گا ، اور نہ ہی اس بات میں مجھے دلچسپی ہے ، راوی کہتے ہیں : اس کی مراد ” فواحش “ تھی ، پھر اُس نے کہا: اُس ذات قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں اُن چیزوں پر عمل کروں گا ، اور میری قوم میں سے ، جو شخص بھی میری اطاعت کرے گا ، وہ بھی اس پر عمل کرے گا ، پھر وہ شخص واپس چلا گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر یہ سچ کہہ رہا ہے ، تو یہ ضرور جنت میں داخل ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور مجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، اور وہ ” ثقہ “ ہے ، لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1600
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1601
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ أَنَّ رَجُلًا مَرَّ عَلَى قَوْمٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ، فَرَدُّوا عَلَيْهِ السَّلَامَ ، فَلَمَّا جَاوَزَهُمْ قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْغِضُ هَذَا فِي اللَّهِ . فَقَالَ أَهْلُ الْمَجْلِسِ : بِئْسَ وَاللَّهِ مَا قُلْتَ ، أَمَا وَاللَّهِ لِنُنْبِئَنَّهُ ، قُمْ يَا فُلَانُ - رَجُلًا مِنْهُمْ - فَأَخْبِرْهُ ، فَأَدْرَكَهُ رَسُولُهُمْ فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ ، فَانْصَرَفَ الرَّجُلُ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَرَرْتُ بِمَجْلِسٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فِيهِمْ فُلَانٌ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِمْ فَرَدُّوا السَّلَامَ ، فَلَمَّا جَاوَزْتُهُمْ أَدْرَكَنِي رَجُلٌ مِنْهُمْ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ فُلَانًا قَالَ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْغِضُ هَذَا الرَّجُلَ فِي اللَّهِ ، فَادْعُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَسَلْهُ عَلَى مَا يُبْغِضُنِي ، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَهُ عَمَّا أَخْبَرَهُ الرَّجُلُ ، فَاعْتَرَفَ بِذَلِكَ وَقَالَ : قَدْ قُلْتُ لَهُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلِمَ تُبْغِضُهُ ؟ " فَقَالَ : أَنَا جَارُهُ ، وَأَنَا بِهِ خَابِرٌ ، وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُهُ يُصَلِّي صَلَاةً قَطُّ إِلَّا هَذِهِ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ الَّتِي يُصَلِّيهَا الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ . قَالَ : سَلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ رَآنِي قَطُّ أَخَّرْتُهَا عَنْ وَقْتِهَا ، أَوْ أَسَأْتُ الْوُضُوءَ لَهَا ، أَوْ أَسَأْتُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فِيهَا ؟ فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : لَا وَاللَّهِ ، [ ثُمَّ قَالَ : وَاللَّهِ ] مَا رَأَيْتُهُ يَصُومُ قَطُّ إِلَّا هَذَا الشَّهْرَ الَّذِي يَصُومُهُ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ . قَالَ : سَلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ رَآنِي قَطُّ فَرَّطْتُ فِيهِ أَوِ انْتَقَصْتُ مِنْ حَقِّهِ شَيْئًا ؟ فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : لَا . ثُمَّ قَالَ : وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُهُ يُعْطِي سَائِلًا قَطُّ ، وَلَا رَأَيْتُهُ يُنْفِقُ مِنْ مَالِهِ شَيْئًا فِي شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا هَذِهِ الصَّدَقَةَ الَّتِي يُؤَدِّيهَا الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ . قَالَ : فَسَلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ كَتَمْتُ مِنَ الزَّكَاةِ شَيْئًا قَطُّ أَوْ مَاكَسْتُ فِيهَا طَالِبَهَا ؟ قَالَ : فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : لَا . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُمْ ، إِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ خَيْرٌ مِنْكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ أَثْبَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص کا گزر ، کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا ، اُس نے ان کو سلام کیا ، لوگوں نے اُسے جواب دیا : جب وہ اُن لوگوں سے آگے چلا گیا ، تو ان افراد میں سے ایک شخص نے یہ کہا: اللہ کی قسم ! میں اللہ تعالیٰ کی ذات کی خاطر ، اس شخص کو ناپسند کرتا ہوں ، حاضرین محفل نے کہا: اللہ کی قسم ! تم نے بری بات کہی ہے ، اللہ کی قسم ! میں اس شخص کو اس بارے میں ضرور بتاؤں گا ، پھر انہوں نے اپنے میں سے ایک فرد سے یہ کہا: اے فلاں ! تم اُٹھو اور اسے اس بارے میں بتا دو ! ان لوگوں کا قاصد دوسرے شخص کے پاس گیا ، اور اس شخص کے قول کے بارے میں اسے بتایا ، تو وہ شخص مڑا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں مسلمانوں کی ایک محفل کے پاس سے گزرا ، جن میں فلاں شخص موجود تھا ، میں نے ان لوگوں کو سلام کیا ، اُن لوگوں نے سلام کا جواب دیا : ، جب میں ان لوگوں سے آگے چلا گیا ، تو اُس کے بعد اُن میں سے ایک شخص میرے پاس آیا اور اس نے مجھے بتایا : فلاں شخص نے یہ کہا: ہے : اللہ کی قسم ! میں اللہ کی ذات کی خاطر اس شخص سے بغض رکھتا ہوں یا رسول اللہ ! آپ اُسے بلوائیے اور اس سے دریافت کیجئے کہ وہ کس وجہ سے مجھ سے بغض رکھتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دوسرے شخص کو بلوایا اور اس سے اس چیز کے بارے میں دریافت کیا : جو پہلے شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تھا ، تو دوسرے شخص نے اس بات کا اعتراف کر لیا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اس شخص کے لئے یہ بات کہی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم کیوں اس سے بغض رکھتے ہو ؟ اس دوسرے شخص نے جواب دیا : میں اس کا پڑوسی ہوں ، اور میں اس کے بارے میں بتاتا ہوں ، اللہ کی قسم ! میں نے اسے کبھی نماز ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا ، یہ صرف فرض نماز ادا کرتا ہے ، جسے ہر نیک اور گنہگار پڑھ لیتا ہے ، تو پہلے شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ اس سے یہ پوچھ لیں کہ کیا اس نے مجھے کبھی دیکھا ہے کہ میں نے نماز کو اس کے مخصوص وقت سے تاخیر سے ادا کیا ہو ؟ یا میں نے نماز کے لئے وضو کرتے ہوئے غلطی کی ہو ؟ یا نماز کے دوران رکوع ، یا سجدے میں غلطی کی ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے شخص سے دریافت کیا : تو اس نے جواب دیا : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! ( یعنی میں نے اسے کبھی ایسا کرتے ہوئے نہیں دیکھا ) پھر اس دوسرے شخص نے کہا: اللہ کی قسم ! میں نے اسے کبھی ( کوئی نفلی روزہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ، یہ صرف اس مخصوص مہینے کے روزے رکھتا ہے ، جس کے روزے ہر نیک اور گنہگار رکھ لیتا ہے ، تو پہلے شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ اس سے یہ پوچھیے کہ کیا اس نے مجھے کبھی ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ میں نے روزے کے بارے میں افراط سے کام لیا ہو ؟ یا روزے کے حق کے حوالے سے کوئی کمی کی ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے شخص سے دریافت کیا : تو اُس نے جواب دیا : جی نہیں ! ( یعنی میں نے اسے کبھی ایسا کرتے ہوئے نہیں دیکھا ) پھر اس دوسرے شخص نے کہا: اللہ کی قسم ! میں نے اسے کبھی کسی مانگنے والے کو کچھ دیتے ہوئے نہیں دیکھا ، اور نہ ہی میں نے اسے کبھی اپنے مال میں سے ، اللہ کی راہ میں کوئی چیز خرچ کرتے ہوئے دیکھا ہے ، البتہ اس زکوٰۃ کا معاملہ مختلف ہے ، جسے ہر نیک اور گنہگار شخص ادا کرتا ہے ، تو پہلے شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! ! آپ اس سے پوچھیے ! کہ کیا میں نے زکوٰۃ میں سے کوئی چیز چھپائی ہے ؟ یا میں نے زکوٰۃ وصول کرنے والے شخص کے ساتھ کبھی کوئی جھگڑا کیا ہے ؟ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے شخص سے اس بارے میں دریافت کیا : تو اس نے جواب دیا : جی نہیں ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : تم اُٹھ جاؤ ! میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ شخص تم سے زیادہ بہتر ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور امام أحمد کے رجال ” ثقہ “ اور ثبت ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1601
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «مسند احمد بن حنبل مسند الانصار ، حديث ابى الطفيل عامر بن واثلة 23195»
حدیث نمبر: 1602
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ قَوْقَلَ أَنَّهُ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِذَا صَلَّيْتُ الْمَكْتُوبَةَ ، وَصُمْتُ رَمَضَانَ ، وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ ، وَأَحْلَلْتُ الْحَلَالَ ، وَلَمْ أَزِدْ عَلَى ذَلِكَ - أَدْخُلُ الْجَنَّةَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : وَاللَّهُ لَا أَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ شَيْئًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ جَابِرٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن قوقل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ اگر میں فرض نماز ادا کروں ، رمضان کے روزے رکھوں ، حرام کو حرام سمجھوں ، حلال کو حلال سمجھوں اور میں اس پر کوئی اضافہ نہ کروں ، تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! تو ان صاحب نے کہا: اللہ کی قسم ! میں اس میں کوئی اضافہ نہیں کروں گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اور یہ روایت ” صحیح “ میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ہونے کے طور پر مذکور ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1602
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف ولکن عند الشواھد حدیث صحیح، ولہ شاہد فی الصحیح من حدیث جابر۔
تخریج حدیث «1602 صحيح مسلم كتاب الإيمان ، باب بيان الإيمان الذى يدخل به الجنة 42 ، مستخرج ابي عوانة كتاب الإيمان ، بيان الاعمال والفرائض التى إذا اداها بالقول والعمل دخل الجنة 4 ، المستدرك على الصحيحين للحاكم كتاب معرفة الصحابة رضى الله عنهم ، ذكر النعمان بن قوقل الانصارى رضى الله عنه 6536 ، مسند احمد بن حنبل مسند جابر بن عبدالله رضى الله عنه 14484 ، المعجم الاوسط للطبراني باب العين ، باب من اسمه محمود 8013»
حدیث نمبر: 1603
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : حَلَفَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ لَا يَتَطَوَّعُ بِشَيْءٍ أَبَدًا ، وَلَا يَتْرُكُ شَيْئًا مِمَّا كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ¤ " مَا تَنْقِمُونَ مِنْ رَجُلٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّمِينُ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَجَمَاعَةٌ ، وَوَثَّقَهُ دُحَيْمٌ وَأَبُو حَاتِمٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے یہ حلف اٹھایا کہ وہ کبھی بھی کوئی نفلی کام نہیں کرے گا ، اور اللہ تعالیٰ نے ، جو چیز اس پر فرض قرار دی ہے ، اس میں سے کچھ بھی ترک نہیں کرے گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ ایک ایسے شخص پر اعتراض کر رہے ہو ، کہ اگر وہ اللہ کے نام پر قسم اٹھا لے ، تو اللہ تعالی اس بات کو پورا کر دے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن عبداللہ سمین ہے ، جسے امام أحمد اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ، جب کہ دحیم اور ابوحاتم نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1603
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1604
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ كِنْدَةَ يَقُولُ : حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " لَا يَنْتَقِصُ أَحَدُكُمْ مِنْ صَلَاتِهِ شَيْئًا إِلَّا أَتَمَّهَا اللَّهُ مِنْ سُبْحَتِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن معاویہ بن خدیج بیان کرتے ہیں : میں نے کندہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : وہ کہتا ہے : میں نے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صحابی کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے : وہ فرماتے ہیں : اُنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص اپنی نماز میں کوئی کمی کرے گا ، تو اللہ تعالیٰ اُس کمی کو اُس کے نوافل میں سے مکمل کر دے گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1604
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «مسند احمد بن حنبل مسند الانصار ، حديث رجل من الانصار 23037»
حدیث نمبر: 1605
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ¤ " أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ صَلَاتُهُ ، فَإِنْ كَانَ أَتَمَّهَا كُتِبَتْ لَهُ تَامَّةً ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَتَمَّهَا قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ : هَلْ تَجِدُونَ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ تُكْمِلُوا بِهَا فَرِيضَتَهُ ، ثُمَّ الزَّكَاةُ كَذَلِكَ ، ثُمَّ الْأَعْمَالُ عَلَى حَسَبِ ذَلِكَ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى النَّسَائِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مِثْلَ هَذَا ، فَلَا أَدْرِي أَهْوَ هَذَا أَمْ لَا ، وَقَدْ ذَكَرَهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ فِي تَرْجَمَةِ رَجُلٍ غَيْرِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
یحییٰ بن یعمر نے ، ایک صحابی کے حوالے سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ” بندے سے ، سب سے پہلے اس کی نماز کے حوالے سے حساب لیا جائے گا ، اگر وہ مکمل ہو گی ، تو اسے مکمل نوٹ کیا جائے گا ، اور اگر وہ مکمل نہیں ہو گی ، تو اللہ تعالی ( فرشتوں سے ) یہ فرمائے گا : کہ کیا تم میرے بندے کی کوئی نفل نماز پاتے ہو ؟ جس کے ذریعے تم فرض نماز کو مکمل کر دو ، پھر زکوٰۃ کا معاملہ بھی اسی طرح ہو گا ، اور پھر دیگر تمام اعمال کا معاملہ بھی اس طرح ہو گا“ ۔
علامہ ہیثمی بیان کرتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام نسائی رحمہ اللہ نے یحییٰ بن یعمر کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کی مانند نقل کی ہے ، مجھے نہیں معلوم کہ کیا وہ یہی حدیث ہے ؟ یا اس کے علاوہ کوئی اور ہے ؟ اس روایت کو امام أحمد نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ ایک اور شخص کے حوالے سے نقل کیا ہے ، اور اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1605
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 1606
وَعَنْ عَائِذِ بْنِ قُرْطٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ¤ " مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يُتِمَّهَا زِيدَ عَلَيْهَا مِنْ سُبْحَاتِهِ حَتَّى تَتِمَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عائذ بن قرط رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص نماز ادا کرے اور اسے مکمل نہ کرے ، تو اس کے نوافل میں سے ، اس کی ( نماز ) میں اضافہ کیا جائے گا ، یہاں تک کہ وہ ( فرض نماز ) مکمل ہو جائے گی“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1606
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 1607
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يُتِمَّهَا زِيدَ عَلَيْهَا مَنْ سُبْحَتِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص نماز ادا کرے ، اور اسے مکمل ادا نہ کرے ، تو اس کے نوافل میں سے اُس ( فرض نماز ) میں اضافہ کیا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1607
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 1608
وَعَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الصَّلَاةُ ، فَإِنْ صَلَحَتْ صَلَحَ لَهُ سَائِرُ عَمَلِهِ ، وَإِنْ فَسَدَتْ فَسَدَ سَائِرُ عَمَلِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ عُثْمَانَ قَالَ الْبُخَارِيُّ : لَهُ أَحَادِيثُ لَا يُتَابَعُ عَلَيْهَا . وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ : رُبَّمَا أَخْطَأَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن ، بندے سے سب سے پہلے نماز کے بارے میں حساب لیا جائے گا ، اگر وہ ٹھیک ہو گی ، تو اس بندے کے دیگر تمام اعمال بھی ٹھیک ہوں گے ، اور اگر وہ خراب ہو گی ، تو اُس کے دیگر تمام اعمال بھی خراب ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن عثمان ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اس کے حوالے سے ایسی احادیث منقول ہیں ، جن کی متابعت نہیں کی گئی ہے ، ابن حبان نے اس راوی کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے : یہ بعض اوقات غلطی کر جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1608
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1609
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَّلُ مَا يُسْأَلُ عَنْهُ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُنْظَرُ فِي صَلَاتِهِ ، فَإِنْ صَلَحَتْ فَقَدْ أَفْلَحَ ، وَإِنْ فَسَدَتْ فَقَدْ خَابَ وَخَسِرَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ خُلَيْدُ بْنُ دَعْلَجٍ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارَقُطْنِيُّ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : عَامَّةُ حَدِيثِهِ تَابَعَهُ عَلَيْهِ غَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” قیامت کے دن ، بندے سے سب سے پہلے جس چیز کے بارے میں سوال کیا جائے گا ، وہ یہ ہے کہ اُس کی نماز کا جائزہ لیا جائے گا ، اگر وہ ٹھیک ہوئی ، تو وہ بندہ کامیاب ہو جائے گا ، اور اگر وہ خراب ہوئی ، تو وہ بندہ رُسوائی اور خسارے کا شکار ہو جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خلید بن علج ہے ، جسے امام أحمد ، امام نسائی رحمہ اللہ اور امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور امام ابن عدی رحمہ اللہ کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ زیادہ تر احادیث کی دیگر راویوں نے متابعت کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1609
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1610
وَعَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - أَرَاهُ ذَكَرَهُ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْعَبْدَ الْمَمْلُوكَ لِيُحَاسَبُ بِصَلَاتِهِ ، فَإِذَا نَقَصَ مِنْهَا قِيلَ لَهُ : لِمَ نَقَصْتَ مِنْهَا ؟ فَيَقُولُ : يَا رَبِّ سَلَّطْتَ عَلَيَّ مَلِيكًا شَغَلَنِي عَنْ صَلَاتِي ، فَيَقُولُ : قَدْ رَأَيْتُكَ تَسْرِقُ مِنْ مَالِهِ لِنَفْسِكَ ، فَهَلَّا سَرَقْتَ مِنْ عَمَلِكَ لِنَفْسِكَ ؟ فَيَجِبُ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَيْهِ الْحُجَّةُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، وَثَّقَهُ عُثْمَانُ وَأَحْمَدُ وَجَمَاعَةٌ ، وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
حسن بصری نے ، سیدنا ابوہریرہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : ( راوی بیان کرتے ہیں : ) میرا خیال ہے انہوں نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ذکر کیا ہے ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ) ” غلام بندے سے ، اُس کی نماز کے بارے میں حساب لیا جائے گا ، جب اس میں کوئی کمی ہو گی ، تو اس سے کہا: جائے گا : تم نے اس میں کیوں کمی کی ؟ تو وہ عرض کرے گا : اے میرے پروردگار ! ! تو نے مجھ پر ایک ایسا فرض مسلط کر دیا تھا ، جس نے مجھے نماز سے غافل کر دیا تھا ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میں نے تمہیں دیکھا تھا کہ تم اس کے ( یعنی اپنے مالک کے ) مال میں سے ، اپنی ذات کے لئے چوری کر لیتے تھے ، تو کیا تم اپنے عمل میں سے ، اپنی ذات کے لئے چوری نہیں کر سکتے تھے ؟ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) تو اس کے خلاف اللہ تعالیٰ کی حجت لازم ہو جائے گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے ، جسے عثمان ، امام أحمد اور ایک جماعت نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1610
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 1611
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ ذَكَرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا فَقَالَ : " مَنْ حَافَظَ عَلَيْهَا كَانَتْ لَهُ نُورًا وَبُرْهَانًا وَنَجَاةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ لَمْ يُحَافِظْ عَلَيْهَا لَمْ يَكُنْ لَهُ نُورٌ وَلَا بُرْهَانٌ وَلَا نَجَاةٌ ، وَكَانَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ فِرْعَوْنِ وَهَامَانَ وَأُبَيِّ بْنِ خَلَفٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اس کی حفاظت کرے گا ، یہ اس کے لئے قیامت کے دن نور ، برہان اور نجات کا باعث ہو گی ، اور جو شخص اس کی حفاظت نہیں کرے گا ، تو اُس کے لئے نہ کوئی نور ہو گا ، اور نہ برہان ہو گی ، اور نہ نجات ہو گی ، اور ایسا شخص قیامت کے دن فرعون ، ہامان اور اُبی بن خلف کے ساتھ ہو گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام أحمد کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1611
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «مسند احمد بن حنبل مسند عبد الله بن عمرو بن العاص رضى الله عنهما 6404 المعجم الاوسط للطبراني باب الالف ، من اسمه احمد 1790 ، مسند الشاميين للطبراني ما انتهى إلينا من مسند إبراهيم بن ابي عبلة ما روى ابن ثوبان ، عن المصريين ابن ثوبان ، عن سعيد بن ابي ايوب ، 240 ، صحيح ابن حبان كتاب الصلاة ، باب الوعيد على ترك الصلاة ، ذكر الزجر عن ترك المرء المحافظة على الصلوات المفروضات ، 1483 مشكل الآثار للطحاوي 2686»
حدیث نمبر: 1612
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا سَهْمَ فِي الْإِسْلَامِ لِمَنْ لَا صَلَاةَ لَهُ ، وَلَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وُضُوءَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اس شخص کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہے ، جس کی نماز نہ ہو ، اور اس شخص کی نماز نہیں ہوتی ، جس کا وضو نہ ہو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید بن ابوسعید ہے ، جس کے ” ضعیف“ ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1612
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1613
وَعَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْإِسْلَامُ ثَمَانِيَةُ أَسْهُمٍ ، الْإِسْلَامُ سَهْمٌ وَالصَّلَاةُ سَهْمٌ " . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ بِتَمَامِهِ وَأَحَادِيثُ أُخَرُ فِي الْإِيمَانِ ، وَحَدِيثُ حُذَيْفَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اسلام کے آٹھ حصے ہیں ، اسلام ( یعنی ایمان کا زبانی اقرار ) ایک حصہ ہے ، نماز ایک حصہ ہے “ ۔ اس سے پہلے یہ حدیث مکمل گزر چکی ہے ، اور دیگر احادیث بھی ایمان سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ،
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1613
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 1614
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ ، وَلَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا طُهُورَ لَهُ ، وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا صَلَاةَ لَهُ ، إِنَّمَا مَوْضِعُ الصَّلَاةِ مِنَ الدِّينِ كَمَوْضِعِ الرَّأْسِ مِنَ الْجَسَدِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ وَقَالَ : تَفَرَّدَ بِهِ الْحُسَيْنُ ابْنُ الْحَكَمِ الْحِبَرِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اس شخص کا ایمان نہیں ہے ، جس کی امانت نہ ہو اور اس شخص کی نماز نہیں ہوتی ، جس کی طہارت نہ ہو ، اور اس شخص کا دین نہیں ہوتا ، جس کی نماز نہ ہو ، دین میں نماز کو وہی حیثیت حاصل ہے ، جو جسم میں سر کو حاصل ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : حسین بن حکم خبری نامی راوی اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1614
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «المعجم الصغير للطبراني من اسمه احمد ، 162 ، المعجم الاوسط للطبراني باب الالف ، من اسمه احمد 2333»
حدیث نمبر: 1615
وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَا صَلَاةَ لَهُ " ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ : مَنْ سَمِعَ هَذَا مِنْ أَبِي الْقَاسِمِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ وَاللَّهِ مَا بَعُدَ الْعَهْدُ وَمَا نَسِيتُ ، إِنَّمَا قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ جَاءَ بِصَلَوَاتِ الْخَمْسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَدْ حَافَظَ عَلَى وُضُوئِهَا وَمَوَاقِيتِهَا وَرُكُوعِهَا وَسُجُودِهَا لَمْ يَنْقُضْ مِنْهَا شَيْئًا - جَاءَ وَلَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُ ، وَمَنْ جَاءَ قَدِ انْتَقَصَ مِنْهُنَّ شَيْئًا فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ ، إِنْ شَاءَ رَحِمَهُ ، وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو إِلَّا عِيسَى بْنُ وَاقِدٍ . قُلْتُ : وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
ابوسلمہ نے ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ” جس شخص نے وتر ادا نہ کیے ہوں ، اُس کی نماز نہیں ہوتی “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس روایت کے بارے میں پتہ چلا ، تو انہوں نے فرمایا : سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت کس نے سنی ہے ؟ اللہ کی قسم ! نہ تو زیادہ عرصہ گزرا ہے ، اور نہ ہی میں بات بھولی ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی : ” جو شخص قیامت کے دن پانچ نمازیں لے کے آئے گا ، یوں کہ اُس نے ان نمازوں کے وضو ، اُن کے اوقات ، ان کے رکوع اور ان کے سجود کی حفاظت کی ہو ، اور اس میں کوئی کمی نہ کی ہو ، تو جب وہ شخص آئے گا ، تو اس شخص کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ عہد ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اُسے عذاب نہیں دے گا ، اور جو شخص ایسی حالت میں آئے کہ اس نے ان نمازوں میں کسی حوالے سے کوئی کمی کی ہو ، تو اس شخص کے لئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کوئی عہد نہیں ہو گا ، اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا ، تو اس پر رحم کرے گا ، اور اگر چاہے گا ، تو اسے عذاب دے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں ۔ محمد بن عمرو نامی راوی کے حوالے سے ، اس روایت کو صرف عیسیٰ بن واقد نے نقل کیا ہے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) : میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1615
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1616
وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " ثَلَاثٌ مَنْ حَفِظَهُنَّ فَهُوَ وَلِيٌّ حَقًّا ، وَمَنْ ضَيَّعَهُنَّ فَهُوَ عَدُوٌّ حَقًّا : الصَّلَاةُ ، وَالصِّيَامُ ، وَالْجَنَابَةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تین چیزیں ایسی ہیں کہ جو شخص ان کی حفاظت کرے گا ، تو وہ در حقیقت ولی ہو گا ، اور جو شخص ان کو ضائع کرے گا ، وہ درحقیقت دشمن ہو گا ، نماز ، روزہ اور جنابت “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عدی بن فضل ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1616
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف، اس کی سند میں عدی بن الفضل ہے جو کہ ضعیف راوی ہے۔
حدیث نمبر: 1617
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ لِمَنْ حَوْلَهُ مِنْ أُمَّتِهِ : " اكْفُلُوا لِي بِسِتٍّ أَكْفُلْ لَكُمْ بِالْجَنَّةِ " . قُلْتُ : مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الصَّلَاةُ ، وَالزَّكَاةُ ، وَالْأَمَانَةُ ، وَالْفَرْجُ ، وَالْبَطْنُ ، وَاللِّسَانُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : لَا يُرْوَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ . قُلْتُ : وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آس پاس موجود اپنی امت کے افراد سے فرمایا : تم لوگ مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دو ! میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں ، راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کیا ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نماز ، زکوۃ ، امانت ، شرمگاہ ، پیٹ اور زبان ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ یہ فرماتے ہیں : یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے صرف اسی سند کے ساتھ نقل کی گئی ہے ، ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1617
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 1618
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَسْلَمَ الرَّجُلُ كَانَ أَوَّلًا يُعَلِّمُنَا الصَّلَاةَ ، أَوْ قَالَ : عَلِّمْهُ الصَّلَاةَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومالک اشجعی رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : جب کوئی شخص اسلام قبول کرتا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے ہمیں نماز کی تعلیم دیتے تھے ، راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : اسے نماز کی تعلیم دیتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے مجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1618
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 1619
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَى الْعِبَادِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر دن اور رات میں ، بندوں پر پانچ نمازیں فرض قرار دی ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1619
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 1620
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ قَالَا : أَوَّلُ صَلَاةٍ فُرِضَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الظُّهْرُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَاسِينُ الزَّيَّاتُ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” جو نماز ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے پہلے فرض کی گئی ، وہ ظہر کی نماز ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یسین زیات ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1620
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 1621
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : أَوَّلُ صَلَاةٍ رَكَعْنَا فِيهَا الْعَصْرُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا هَذَا ؟ فَقَالَ : " بِهَذَا أُمِرْتُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو عَبْدِ الرَّحِيمِ ، فَإِنْ كَانَ هُوَ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ فَهُوَ ثِقَةٌ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ ، وَلَمْ أَجِدْ أَبُو عَبْدِ الرَّحِيمِ فِي الْمِيزَانِ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو نماز ہم نے سب سے پہلے ادا کی ، وہ عصر کی نماز ہے ( یا شاید یہ ترجمہ ہو گا : جس نماز میں ہم نے سب سے پہلے رکوع کیا ، وہ عصر کی نماز ہے ) ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعبدالرحیم ہے ، اگر تو یہ خالد بن یزید ہے ، تو پھر یہ ” ثقہ “ ہے ، اور صحیح کے رجال میں سے ہے ، میں نے ” میزان الاعتدال “ میں ابوعبدالرحیم کا ذکر نہیں پایا ہے ، یہ شخص مجہول ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1621
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف بوجہ جہالتِ راوی
تخریج حدیث «البحر الزخار مسند البزار ومما روى زاذان عن على بن ابي طالب ، 733 ، المعجم الاوسط للطبراني باب العين ، باب الميم من اسمه محمد 7389»
حدیث نمبر: 1622
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ : تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَأْسُهُ فِي حِجْرِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَهُوَ يَقُولُ لِعَلِيٍّ : " اللَّهَ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ، اللَّهَ اللَّهَ وَالصَّلَاةَ " ، فَكَانَ ذَلِكَ آخَرَ مَا تَكَلَّمَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ غَسَّانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا ، تو اس وقت آپ کا سر مبارک سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی گود میں تھا ، اور آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ فرمایا : اپنے زیر ملکیت لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا ) اور نماز کے بارے میں اللہ تعالیٰ ( کے حکم کی پابندی کرنا ) راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو آخری کلام ارشاد فرمایا تھا ، وہ یہ تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عنسان بن عبداللہ ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1622
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1623
وَعَنْ وَاصِلٍ قَالَ : أَدْرَكْتُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُقَالُ لَهُ : نَاجِيَةُ الطَّفَاوِيُّ وَهُوَ يَكْتُبُ الْمَصَاحِفَ ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ : جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنِ الصَّلَاةِ ، فَقَالَ : إِنَّكِ لِفَاجِرَةٌ ، أَوْ لَقَدْ جِئْتِ مِنْ عِنْدِ رَجُلٍ فَاجِرٍ . قَالَتْ : بَلْ جِئْتِ مِنْ عِنْدِ رَجُلٍ فَاجِرٍ ، زَوَّجَنِي أَهْلِي وَأَنَا جَارِيَةٌ بِكْرٌ ، تَزَوَّجَنِي رَجُلٌ مَنْ بَنِي تَمِيمٍ كَانَ يَأْتِي عَلَيْهِ أَيَّامٌ لَا يَمَسُّ الْمَاءَ وَلَا يُصَلِّي ، وَيَجِيءُ بَعْدَ الثَّلَاثِ فَيَتَوَضَّأُ مِنَ الْمَاءِ ، ثُمَّ يَنْقُرُ نَقْرَتَيْنِ وَيَقُولُ : ( حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ ) ، فَقَالَ لَهَا نَاجِيَةُ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَمْسَ صَلَوَاتٍ : الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعَشَاءَ وَالصُّبْحَ ، فَأَتَتْ أَهْلَهَا فَقَالَتْ : أَنْقِذُونِي مِنْ زَوْجِي ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ فَاجِرٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْبَرَاءُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْغَنَوِيُّ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : هُوَ عِنْدِي أَقْرَبُ إِلَى الصِّدْقِ مِنْهُ إِلَى الضَّعْفِ . قُلْتُ : الَّذِينَ ضَعَّفُوهُ كَلَامُهُمْ فِيهِ لِينٌ . ¤
محمد محی الدین
واصل بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب کو پایا ہے ، جن کا نام سیدنا ناجیہ طفاوی رضی اللہ عنہ تھا ، وہ قرآن مجید کی کتابت کرتے تھے ، ایک عورت اُن کے پاس آئی اور بولی: میں آپ سے نماز کے بارے میں دریافت کرنے کے لئے آئی ہوں ، تو انہوں نے فرمایا : تم ایک گنہگار عورت ہو ، یا تم ایک گنہگار شخص کے پاس سے آئی ہو ، اُس عورت نے عرض کی : جی نہیں ! بلکہ میں گنہگار شخص کے پاس سے آئی ہوں ، میرے گھر والوں نے میری شادی کر دی تھی ، میں ان دنوں کنواری لڑکی تھی ، بنو تمیم سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے میرے ساتھ شادی کی تھی ، جس پر کئی دن اس طرح گزر جاتے ہیں کہ وہ اس دوران پانی استعمال نہیں کرتا اور نماز ادا نہیں کرتا ، پھر تین دن گزرنے کے بعد وہ آتا ہے ، اور پانی کے ذریعے وضو کرتا ہے ، پھر دو مرتبہ ٹھونگے مارتا ہے ، اور یہ کہتا ہے : ( اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” نمازوں کی حفاظت کرو ، اور درمیانی نماز کی ، اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی کے ساتھ کھڑے رہو “ ۔ تو سیدنا ناجیہ طفاوی رضی اللہ عنہ نے اس عورت سے فرمایا : اللہ کے رسول نے پانچ نمازیں ادا کی ہیں ، ظہر ، عصر ، مغرب ، عشاء اور صبح ( یعنی فجر کی نماز ) وہ عورت اپنے گھر والوں کے پاس گئی ، اور بولی: تم لوگ مجھے میرے شوہر سے الگ کروا دو ! کیونکہ وہ ایک گنہگار شخص ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی براء بن عبداللہ عننوی ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : میرے نزدیک وہ شخص ضعیف ہونے کے قریب ہونے کی بہ نسبت سچا ہونے کے زیادہ قریب ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : جن حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس راوی کے بارے میں اُن کا کلام کمزور ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1623
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1624
وَعَنْ بَيْجَرَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : أَتَيْنَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَسْلَمْنَا وَسَأَلْنَاهُ أَنْ يَضَعَ عَنَّا الْعَتَمَةَ . قَالَ : " صَلَاةُ الْعَتَمَةِ ؟ " قُلْنَا : إِنَّا نُشْغَلُ بِحَلْبِ إِبِلِنَا . قَالَ : " إِنَّكُمْ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - سَتَحْلِبُونَ وَتُصَلُّونَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقِ الرَّحَّالِ بْنِ الْمُنْذِرِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ بَيْجَرَةَ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَ الرَّحَّالَ وَلَا أَبَاهُ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بچرہ بن عامر بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ہم نے اسلام قبول کیا ، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ درخواست کی : کہ آپ ہمیں عشاء کی نماز معاف کر دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا ہے : عشاء کی نماز کیوں ؟ ہم نے عرض کی : ہم اس وقت اپنے اونٹوں کا دودھ دوہنے میں مصروف ہوتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر اللہ نے چاہا ، تو تم لوگ دودھ بھی دوہ لو گے اور نماز بھی پڑھ لو گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں رحال بن منذر کے حوالے سے ، اُس کے والد کے حوالے سے ، اس کے دادا سیدنا بچرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ، میں نے کسی کو رحال ، یا اُس کے والد کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1624
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني باب الباء ، باب من اسمه بشير بيحرة بن عامر ، 1228 ، معرفة الصحابة لأبي نعيم الأصبهاني باب الباء ، من اسمه بسر بيحرة بن عامر 1196»
حدیث نمبر: 1625
وَعَنْ أَبِي الْبَخْتِرِيِّ قَالَ : أَصَابَ سَلْمَانُ جَارِيَةً ، فَقَالَ لَهَا بِالْفَارِسِيَّةِ : صَلِّي . قَالَتْ : لَا . قَالَ : اسْجُدِي وَاحِدَةً . قَالَتْ : لَا . قِيلَ : يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، وَمَا تُغْنِي عَنْهَا سَجْدَةٌ ؟ قَالَ : إِنَّهَا لَوْ صَلَّتْ صَلَّتْ ، وَلَيْسَ مِنْ لَهُ سَهْمٌ فِي الْإِسْلَامِ كَمَنْ لَا سَهْمَ لَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ أَبُو نُعَيْمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
ابوبختری بیان کرتے ہیں : سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے ایک کنیز کے ساتھ صحبت کی ، اور پھر فارسی میں اُس عورت سے کہا: تم نماز پڑھ لو ! اُس نے جواب دیا : جی نہیں ! سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: تم ایک سجدہ کر لو ! اس نے جواب دیا : جی نہیں ! سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے کہا: گیا : اے ابوعبداللہ ! ایک سجدہ اس عورت کے کس کام آئے گا ؟ تو سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر یہ نماز پڑھ لیتی ، تو پڑھ لیتی اُس شخص کا جس کا اسلام میں کوئی حصہ ہو ، وہ اُس شخص کی مانند نہیں ہے ، جس کا کوئی حصہ نہ ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ابونعیم ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1625
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً