کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: تارک نماز کا بیان
حدیث نمبر: 1632
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا قَامَ بَصَرِي قِيلَ : نُدَاوِكَ وَتَدَعَ الصَّلَاةَ أَيَّامًا ؟ قَالَ : لَا ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " . . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سَهْلُ بْنُ مَحْمُودٍ ، ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَقَالَ : رَوَى عَنْهُ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ وَسَعْدَانُ بْنُ يَزِيدَ . قُلْتُ : وَرَوَى عَنْهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخْرَمِيُّ وَلَمْ يَتَكَلَّمْ فِيهِ أَحَدٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں : جب میری بینائی کمزور ہو گئی ، تو یہ کہا: گیا : ہم آپ کا علاج کرتے ہیں ، آپ کچھ دن تک نماز ترک کر دیں ، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص نماز ترک کر دے گا ، جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہو گا“ ۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی سہل بن محمود ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ، وہ فرماتے ہیں : أحمد بن ابراہیم دورقی اور سعدان بن یزید نے اس سے روایت نقل کی ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : محمد بن عبداللہ مخرمی نے اس سے روایت نقل کی ہے ، اس کے بارے میں کسی نے کلام نہیں کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1632
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 1633
وَعَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أُمِّ أَيْمَنَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَتْرُكِ الصَّلَاةَ مُتَعَمِّدًا ; فَإِنَّهُ مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ مَكْحُولًا لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أُمِّ أَيْمَنَ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
مکول نے ، سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ” تم جان بوجھ کر نماز ترک نہ کرنا ، کیونکہ جو شخص جان بوجھ کر نماز ترک کر دیتا ہے ، اس سے اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ لاتعلق ہو جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ مکحول نامی راوی نے سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا سے سماع نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1633
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «مسند احمد بن حنبل حديث ام ايمن ، 26767»
حدیث نمبر: 1634
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ كَفَرَ جِهَارًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، إِلَّا مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي دَاوُدَ ، فَإِنِّي لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَقَدْ ذَكَرَ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ الْبَغْدَادِيُّ ، فَلَا أَدْرِي هُوَ هَذَا أَمْ لَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص جان بوجھ کر نماز ترک کرتا ہے ، وہ کھلے عام کفر کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، صرف محمد بن ابوداؤد نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، ابن حبان نے کتاب ” الثقات“ میں محمد بن أبو داود : بغدادی کا ذکر کیا ہے ، مجھے نہیں معلوم کہ یہ وہی ہے یا وہ نہیں ہے ؟
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1634
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1635
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ : " مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ وَقَدْ عَنْعَنَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” جو شخص جان بوجھ کر نماز ترک کر دیتا ہے ، اُس سے اللہ تعالیٰ کا ذمہ لاتعلق ہو جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے ، وہ تدلیس کرنے والا ہے ، اور یہ روایت بھی اس نے عنعنہ کے ساتھ نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1635
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف۔
حدیث نمبر: 1636
وَعَنِ الْمُسَوَّرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَهُوَ مُسَجًّى فَقُلْتُ : كَيْفَ تَرَوْنَهُ ؟ قَالُوا : كَمَا تَرَى . قُلْتُ : أَيْقِظُوهُ بِالصَّلَاةِ ; فَإِنَّكُمْ لَنْ تُوقِظُوهُ لِشَيْءٍ أَفْزَعَ لَهُ مِنَ الصَّلَاةِ . فَقَالُوا : الصَّلَاةَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ فَقَالَ : هَا اللَّهِ إِذًا ! وَلَا حَقَّ فِي الْإِسْلَامِ لِمَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ ، فَصَلَّى وَإِنَّ جُرْحَهُ لِيَثْعَبُ دَمًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، اُس وقت انہیں ڈھانپ دیا گیا تھا ، میں نے دریافت کیا : تم لوگوں نے انہیں کس حالت میں پایا ہے ؟ لوگوں نے کہا: جیسے آپ دیکھ رہے ہیں ، میں نے کہا: تم انہیں نماز کے حوالے سے جگاؤ ! کیونکہ تم انہیں ، اور کسی ایسی چیز کے حوالے سے نہیں جگا سکتے ، جو ان کے نزدیک نماز سے زیادہ اہم ہو ، تو لوگوں نے کہا: اے امیر المؤمنین ! نماز کا وقت ہو گیا ہے ، انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! اللہ کی قسم ! جی ہاں ! ایسے شخص کا اسلام میں کوئی حق نہیں ہے ، جو نماز کو ترک کر دیتا ہے ، پھر انہوں نے نماز ادا کی ، حالانکہ اُن کے زخم سے خون بہہ رہا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1636
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 1637
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : مَنْ لَمْ يُصَلِّ فَلَا دِينَ لَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو نُعَيْمٍ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو شخص نماز ادا نہیں کرتا ، اُس کا دین نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابونعیم ضرار بن صرد ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1637
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1638
وَعَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ كَفَرَ . ¤ وَالْقَاسِمُ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ ابْنِ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
قاسم بن عبدالرحمن نے ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا ہے : جو شخص نماز ترک کر دے ، وہ کفر کا مرتکب ہوتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1638
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع۔
حدیث نمبر: 1639
وَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص جان بوجھ کر نماز ترک کر دے ، اُس کا عمل ضائع ہو گیا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1639
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح