حدیث نمبر: 1627
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ : وَجَدْنَا صَحِيفَةً فِي قِرَابِ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ وَفَاتِهِ ، فِيهَا مَكْتُوبٌ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، وَفَرِّقُوا بَيْنَ مَضَاجِعِ الْغِلْمَانِ وَالْجَوَارِي وَالْأُخْوَةِ وَالْأَخَوَاتِ لِسَبْعِ سِنِينَ ، وَاضْرِبُوا أَبْنَاءَكُمْ عَلَى الصَّلَاةِ سَبْعًا ، مَلْعُونٌ مَلْعُونٌ مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ قَوْمِهِ - أَوْ إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ - مَلْعُونٌ مَنِ اقْتَطَعَ شَيْئًا مِنْ تُخُومِ الْأَرْضِ " . يَعْنِي بِذَلِكَ طُرُقَ الْمُسْلِمِينَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ غَسَّانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ يُوسُفَ بْنِ نَافِعٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُمَا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد ، ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کی میان میں ایک صحیفہ موجود پایا ، جس میں یہ تحریر تھا : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ، سات سال کی عمر میں بچوں اور بچیوں ، بھائیوں اور بہنوں کے بستر الگ کر دو ، اور نماز کی وجہ سے سات سال کی عمر میں ، اپنے بچوں کی پٹائی کرو ، وہ شخص ملعون ہے ، ملعون ہے ، جو اپنی قوم کے علاوہ کسی اور کی طرف نسبت کا دعوی کرے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) اپنے آزاد کرنے والے آقاؤں کی بجائے ، کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرے ، اور وہ شخص ملعون ہے ، جو زمین کا کوئی بھی ٹکڑا ہتھیا لیتا ہے “ ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) اس کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ مسلمانوں کے راستے میں سے کوئی چیز ہتھیا لیتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے عنسان بن عبیداللہ نے یوسف بن نافع سے روایت کیا ہے ، اور میں نے کسی کو ان دونوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1627
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف