عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ أَنَّ رَجُلًا سَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ بَالَ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى قَالَ بِيَدِهِ إِلَى الْحَائِطِ - يَعْنِي أَنَّهُ تَيَمَّمَ - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی دیر پہلے پیشاب کیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے کوئی جواب نہیں دیا ، یہاں تک کہ آپ نے دیوار پر ہاتھ پھیرا ، یعنی تیمم کیا اور پھر اُس کے سلام کا جواب دیا ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
وَعَنِ الْبَرَاءِ - يَعْنِي ابْنَ عَازِبٍ - : أَنَّهُ سَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَبُولُ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ حَتَّى فَرَغَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اُنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا ، آپ اُس وقت پیشاب کر رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کا جواب اُس وقت تک نہیں دیا ، جب تک آپ فارغ نہیں ہو گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سُمْرَةَ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَبُولُ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ ، ثُمَّ دَخَلَ بَيْتَهُ ، ثُمَّ تَوَضَّأَ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ : " وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَقَالَ : تَفَرَّدَ بِهِ الْفَضْلُ بْنُ أَبِي حَسَّانَ . قُلْتُ : وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ اُس وقت پیشاب کر رہے تھے ، میں نے آپ کو سلام کیا ، آپ نے مجھے جواب نہیں دیا ، پھر آپ گھر میں تشریف لے گئے ، آپ نے وضو کیا ، پھر باہر تشریف لائے اور فرمایا : وعلیکم السلام !
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : فضل بن ابوحسان اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : فضل بن ابوحسان اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي سَلَامٍ قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْ رَأَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَالَ ثُمَّ تَلَا آيَاتٍ مِنَ الْقُرْآنِ - قَالَ هُشَيْمٌ : آيًا مِنَ الْقُرْآنِ - قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ مَاءً . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوسلام بیان کرتے ہیں : مجھے اُس شخص نے یہ بات بتائی ہے : جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، کہ آپ نے پیشاب کیا اور پھر پانی استعمال کرنے سے پہلے ( یعنی وضو کرنے سے پہلے ) آپ نے قرآن کی کچھ آیات کی تلاوت کی ، ( یہاں ہشیم نامی راوی نے ایک لفظ مختلف نقل کیا ہے ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔