عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَأَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَقْرَأِ الْقُرْآنَ وَأَنْتَ جُنُبٌ " . قُلْتُ لِعَلِيٍّ : إِنَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ عَلَى كُلِّ حَالٍ لَيْسَ الْجَنَابَةَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِي إِسْنَادِهِمَا أَبُو مَالِكٍ النَّخَعِيُّ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اُس وقت قرآن کی تلاوت نہ کرنا ، جب تم جنبی ہو ، میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر حال میں قرآن کی تلاوت کر لیتے تھے ، جبکہ جنابت نہ ہو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، ان دونوں کی سند میں ایک راوی ابومالک نخعی ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، ان دونوں کی سند میں ایک راوی ابومالک نخعی ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَوَضَّأَ ثُمَّ قَرَأَ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ . قَالَ : هَكَذَا لِمَنْ لَيْسَ بِجُنُبٍ ، فَأَمَّا الْجُنُبُ فَلَا وَلَا آيَةً . ¤ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
امام ابویعلیٰ نے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے : وہ فرماتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے وضو کیا اور پھر قرآن کا کچھ حصہ پڑھ لیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کس طرح اب وہ کر سکتا ہے جو جنبی نہ ہو ، جہاں تک جنبی کا تعلق ہے ، تو وہ ( قرآن مجید ) نہیں پڑھ سکتا ، ایک آیت بھی نہیں ۔
اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ الْفَغْوَاءِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَهَرَاقَ الْمَاءَ نُكَلِّمُهُ فَلَا يُكَلِّمُنَا [ وَنُسَلِّمُ عَلَيْهِ فَلَا يَرُدُّ عَلَيْنَا ] ، حَتَّى يَأْتِيَ مَنْزِلَهُ فَيَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ . قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نُكَلِّمُكَ فَلَا تَكَلُّمُنَا ، وَنُسَلِّمُ عَلَيْكَ فَلَا تَرُدُّ عَلَيْنَا [ قَالَ ] ، حَتَّى نَزَلَتْ آيَةُ الرُّخْصَةِ ( يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ ) الْآيَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعَفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علقمہ بن فغواء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب پیشاب کرتے تھے ، تو ہم آپ کے ساتھ بات کر لیتے ( یعنی آپ کو کچھ کہہ دیتے ) تھے ، آپ ہمارے ساتھ بات نہیں کرتے تھے ، ہم آپ کو سلام کر لیتے تھے ، آپ ہمیں سلام کا جواب نہیں دیتے تھے ، یہاں تک کہ آپ گھر تشریف لے گئے ، آپ نے نماز کے وضو کی طرح وضو کیا ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے آپ کے ساتھ کلام کیا لیکن آپ نے ہمارے ساتھ کام نہیں کیا ، ہم نے آپ کو سلام کیا لیکن آپ نے ہمیں جواب نہیں دیا ، راوی بیان کرتے ہیں : یہاں تک کہ رخصت والی آیت نازل ہو گئی : ” اے ایمان والو ! جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس روایت کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس روایت کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يُقْرِئُ رَجُلًا ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى شَاطِئِ الْفُرَاتِ بَالَ وَكَفَّ عَنْهُ الرَّجُلُ ، فَقَالَ : مَا لَكَ ؟ قَالَ : أَحْدَثْتَ . قَالَ : اقْرَأْ ، فَجَعَلَ يَقْرَأُ ، وَجَعَلَ يَفْتَحُ عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک شخص کو قرآن پڑھا رہے تھے ، یہاں تک کہ جب آپ دریائے فرات کے کنارے پر پہنچے ، تو وہاں انہوں نے پیشاب کیا ، وہ شخص اُن سے پیچھے ہٹ گیا ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تمہیں کیا ہوا ہے ؟ اُس نے کہا: آپ کا وضو ختم ہو گیا ہے ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم تلاوت شروع کرو ! اس نے تلاوت شروع کی ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس کو لقمہ دے دیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔