عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الْعَيْنَيْنِ وِكَاءُ السَّهِ ، فَإِذَا نَامَتِ الْعَيْنَانِ اسْتُطْلِقَ الْوِكَاءُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لِاخْتِلَاطِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آنکھیں ، شرمگاہ کا بندھن ہیں ، جب آنکھیں سو جاتی ہیں ، تو بندش کھل جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے اور وہ اختلاط کا شکار ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے اور وہ اختلاط کا شکار ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ _ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ _ قَالَ : لَيْسَ عَلَى مَنْ نَامَ سَاجِدًا وُضُوءًا حَتَّى يَضْطَجِعَ فِإَنَّهُ إِذَا اضْطَجَعَ اسْتَرْخَتْ مَفَاصِلُهُ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اس شخص پر وضو لازم نہیں ہوتا ، جو سجدے کی حالت میں سو جاتا ہے ، جب تک وہ لیٹ نہ جائے ، کیونکہ جب وہ لیٹ جائے گا تو اُس کے جوڑ ڈھیلے پڑ جائیں گے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ نَامَ وَهُوَ جَالِسٌ فَلَا وُضُوءَ عَلَيْهِ ، فَإِذَا وَضَعَ جَنْبَهُ فَعَلَيْهِ الْوُضُوءُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ الْجُفْرِيُّ ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : لَهُ أَحَادِيثُ صَالِحَةٌ ، وَلَا يَتَعَمَّدُ الْكَذِبَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص بیٹھے ہوئے سو جائے ، اُس پر وضو لازم نہیں ہو گا ، لیکن جب وہ اپنا پہلو ( زمین پر ) رکھ دے ، تو اُس پر وضو لازم ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر جفری ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : اس سے صالح احادیث منقول ہیں ، یہ جان بوجھ کر جھوٹ بیان نہیں کرتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر جفری ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : اس سے صالح احادیث منقول ہیں ، یہ جان بوجھ کر جھوٹ بیان نہیں کرتا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَامَ حَتَّى نَفَخَ ثُمَّ قَالَ : " إِنَّمَا الْوُضُوءُ عَلَى مَنِ اضْطَجَعَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خراٹے لینے لگے ، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وضو اس پر لازم ہوتا ہے ، جو لیٹ جائے ( یعنی لیٹ کر سو جائے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے اور وہ کذاب ہے ۔
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانُوا يَضَعُونَ جَنُوبَهُمْ ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَتَوَضَّأُ ، وَمِنْهُمْ مَنْ لَا يَتَوَضَّأُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پہلو رکھ لیتے تھے ( یعنی پہلو رکھ کر سو جاتے تھے ) تو اُن میں سے بعض حضرات دوبارہ وضو کر لیتے تھے اور بعض ( دوبارہ ) وضو نہیں کرتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں ۔
عَنْ أَنَسٍ . وَعَنْ أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانُوا يَضَعُونَ جَنُوبَهُمْ فَيَنَامُونَ ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَتَوَضَّأُ ، وَمِنْهُمْ مَنْ لَا يَتَوَضَّأُ . ¤ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب کے بارے میں نقل کی ہے کہ وہ حضرات پہلو رکھ کر سو جاتے تھے ، اُن میں سے بعض دوبارہ وضو کر لیتے تھے اور بعض ( دوبارہ ) وضو نہیں کرتے تھے ۔ اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ أَنَّ عَلِيًّا وَابْنَ مَسْعُودٍ وَالشَّعْبِيَّ قَالُوا فِي الرَّجُلِ يَنَامُ وَهُوَ جَالِسٌ : لَيْسَ عَلَيْهِ وُضُوءٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَعَبْدُ الْكَرِيمِ ضَعِيفٌ ، وَلَمْ يُدْرِكْ عَلِيًّا وَلَا ابْنَ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
عبدالکریم ابوامیہ بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور امام شعبی ، ایسے شخص کے بارے میں فرماتے ہیں : جو بیٹھا ہوا سو جاتا ہے ، کہ اُس پر وضو لازم نہیں ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، عبدالکریم نامی راوی ضعیف ہے ، اس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، عبدالکریم نامی راوی ضعیف ہے ، اس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وُضُوءُ النُّوَّمِ أَنْ تَمَسَّ الْمَاءَ ، ثُمَّ تَمْسَحَ بِتِلْكَ الْمَسْحَةِ وَجْهَكَ وَيَدَيْكَ وَرِجْلَيْكَ كَمِسْحَةِ التَّيَمُّمِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْعَلَاءُ بْنُ كَثِيرٍ اللَّيْثِيُّ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” نیند کے بعد کا وضو یہ ہے کہ تم پانی کو چھو لو ، اور پھر اُس کے ذریعے اپنے چہرے ، دونوں بازؤں اور پاؤں پر یوں مسح کر لو ، جس طرح تیمم میں مسح کیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علاء بن کثیر لیثی ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علاء بن کثیر لیثی ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔