کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: سونے سے وضو لازم ہونا
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الْعَيْنَيْنِ وِكَاءُ السَّهِ ، فَإِذَا نَامَتِ الْعَيْنَانِ اسْتُطْلِقَ الْوِكَاءُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لِاخْتِلَاطِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آنکھیں ، شرمگاہ کا بندھن ہیں ، جب آنکھیں سو جاتی ہیں ، تو بندش کھل جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے اور وہ اختلاط کا شکار ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1285
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف، راوی ابوبکر بن ابی مریم کے سوءِ حفظ اور اختلاط کی وجہ سے۔
تخریج حدیث «سنن الدارمي كتاب الطهارة باب الوضوء من النوم 756 سنن الدارقطني كتاب الطهارة باب فى ما روى فيمن نام قاعدا وقائما ومضطجعا 520 السنن الكبرى للبيهقى كتاب الطهارة جماع ابواب الحدث باب الوضوء من النوم 538 مسند احمد بن حنبل مسند الشاميين حديث معاوية بن ابي سفيان 16580 مسند أبى يعلى الموصلى حديث معاوية بن ابي سفيان رضى الله عنه 7204 ، المعجم الكبير للطبراني باب الميم من اسمه محمود عطية بن قيس الكلابي ، 16644»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ _ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ _ قَالَ : لَيْسَ عَلَى مَنْ نَامَ سَاجِدًا وُضُوءًا حَتَّى يَضْطَجِعَ فِإَنَّهُ إِذَا اضْطَجَعَ اسْتَرْخَتْ مَفَاصِلُهُ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اس شخص پر وضو لازم نہیں ہوتا ، جو سجدے کی حالت میں سو جاتا ہے ، جب تک وہ لیٹ نہ جائے ، کیونکہ جب وہ لیٹ جائے گا تو اُس کے جوڑ ڈھیلے پڑ جائیں گے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1286
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ نَامَ وَهُوَ جَالِسٌ فَلَا وُضُوءَ عَلَيْهِ ، فَإِذَا وَضَعَ جَنْبَهُ فَعَلَيْهِ الْوُضُوءُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ الْجُفْرِيُّ ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : لَهُ أَحَادِيثُ صَالِحَةٌ ، وَلَا يَتَعَمَّدُ الْكَذِبَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص بیٹھے ہوئے سو جائے ، اُس پر وضو لازم نہیں ہو گا ، لیکن جب وہ اپنا پہلو ( زمین پر ) رکھ دے ، تو اُس پر وضو لازم ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر جفری ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : اس سے صالح احادیث منقول ہیں ، یہ جان بوجھ کر جھوٹ بیان نہیں کرتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1287
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَامَ حَتَّى نَفَخَ ثُمَّ قَالَ : " إِنَّمَا الْوُضُوءُ عَلَى مَنِ اضْطَجَعَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خراٹے لینے لگے ، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وضو اس پر لازم ہوتا ہے ، جو لیٹ جائے ( یعنی لیٹ کر سو جائے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1288
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موضوع
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانُوا يَضَعُونَ جَنُوبَهُمْ ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَتَوَضَّأُ ، وَمِنْهُمْ مَنْ لَا يَتَوَضَّأُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پہلو رکھ لیتے تھے ( یعنی پہلو رکھ کر سو جاتے تھے ) تو اُن میں سے بعض حضرات دوبارہ وضو کر لیتے تھے اور بعض ( دوبارہ ) وضو نہیں کرتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1289
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
عَنْ أَنَسٍ . وَعَنْ أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانُوا يَضَعُونَ جَنُوبَهُمْ فَيَنَامُونَ ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَتَوَضَّأُ ، وَمِنْهُمْ مَنْ لَا يَتَوَضَّأُ . ¤ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب کے بارے میں نقل کی ہے کہ وہ حضرات پہلو رکھ کر سو جاتے تھے ، اُن میں سے بعض دوبارہ وضو کر لیتے تھے اور بعض ( دوبارہ ) وضو نہیں کرتے تھے ۔ اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1290
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
وَعَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ أَنَّ عَلِيًّا وَابْنَ مَسْعُودٍ وَالشَّعْبِيَّ قَالُوا فِي الرَّجُلِ يَنَامُ وَهُوَ جَالِسٌ : لَيْسَ عَلَيْهِ وُضُوءٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَعَبْدُ الْكَرِيمِ ضَعِيفٌ ، وَلَمْ يُدْرِكْ عَلِيًّا وَلَا ابْنَ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
عبدالکریم ابوامیہ بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور امام شعبی ، ایسے شخص کے بارے میں فرماتے ہیں : جو بیٹھا ہوا سو جاتا ہے ، کہ اُس پر وضو لازم نہیں ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، عبدالکریم نامی راوی ضعیف ہے ، اس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1291
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف ومنقطع
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وُضُوءُ النُّوَّمِ أَنْ تَمَسَّ الْمَاءَ ، ثُمَّ تَمْسَحَ بِتِلْكَ الْمَسْحَةِ وَجْهَكَ وَيَدَيْكَ وَرِجْلَيْكَ كَمِسْحَةِ التَّيَمُّمِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْعَلَاءُ بْنُ كَثِيرٍ اللَّيْثِيُّ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” نیند کے بعد کا وضو یہ ہے کہ تم پانی کو چھو لو ، اور پھر اُس کے ذریعے اپنے چہرے ، دونوں بازؤں اور پاؤں پر یوں مسح کر لو ، جس طرح تیمم میں مسح کیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علاء بن کثیر لیثی ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1292
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف