کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: آگ پر پکی ہوئی چیز ( کھا لینے ) کے بعد وضو کرنا
حدیث نمبر: 1293
عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَوَضَّئُوا مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ لَوْنَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ” جس چیز کی رنگت کو آگ متغیر کر دے ، اُس ( کو کھانے ) کی وجہ سے تم وضو کر لو ! “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 1294
وَعَنِ الْقَاسِمِ مَوْلَى مُعَاوِيَةَ قَالَ : دَخَلْتُ مَسْجِدَ دِمَشْقَ فَرَأَيْتُ نَاسًا مُجْتَمِعِينَ وَشَيْخٌ يُحَدِّثُهُمْ . قُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : سَهْلُ بْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ أَكَلَ لَحْمًا فَلْيَتَوَضَّأْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي الرَّبِيعِ عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ . وَسُلَيْمَانُ لَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُ . وَالْقَاسِمُ مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
قاسم ، جو سیدنا معاویہ کے آزاد کردہ غلام ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : میں دمشق کی مسجد میں داخل ہوا ، تو میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ اکٹھے ہیں اور ایک عمر رسیدہ صاحب انہیں احادیث بیان کر رہے ہیں ، میں نے دریافت کیا : یہ کون ہیں ؟ تو لوگوں نے بتایا یہ سیدنا سہل بن حنظلیہ ہیں ( قاسم کہتے ہیں : ) میں نے انہیں یہ بیان کرتے ہوئے سنا : انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : جو شخص گوشت کھائے اسے وضو کر لینا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے سلیمان بن ابوربیع کے حوالے سے قاسم ابوعبدالرحمان سے نقل کی ہے ، سلیمان نامی راوی کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں دیکھا ہے اور قاسم نامی راوی سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے سلیمان بن ابوربیع کے حوالے سے قاسم ابوعبدالرحمان سے نقل کی ہے ، سلیمان نامی راوی کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں دیکھا ہے اور قاسم نامی راوی سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 1295
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلَاءَ قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي سُلَيْمَانَ : إِنْ ظِئْرَكَ " سَلِيمٌ " لَا يَتَوَضَّأُ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ ، فَضَرَبَ صَدْرَ سُلَيْمٍ وَقَالَ : أَشْهَدُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَتَوَضَّأُ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ مُوَثَّقُونَ ; لِأَنَّهُ مِنْ رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلَاءَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَأَبُو سُلَيْمَانَ الَّذِي فِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ لَا أَعْرِفُهُ وَلَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن طحلاء بیان کرتے ہیں : میں نے ابوسلیمان سے کہا: آپ کے رضاعی عزیز ” سلیم “ آگ پر پکی ہوئی چیز ( کھا لینے ) کے بعد وضو نہیں کرتے ہیں ، تو انہوں نے سلیم کے سینے پر ہاتھ مارا اور بولے : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں گواہی دے کر یہ بات بیان کرتا ہوں ( کہ انہوں نے یہ بات بیان کی تھی : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگ پر پکی ہوئی چیز ( کھا لینے ) کے بعد وضو کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام طبرانی کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، کیونکہ
یہ روایت محمد بن طحلاء نے ابوسلمہ سے نقل کی ہے امام أحمد کی سند میں ابوسلیمان نامی جس راوی کا ذکر ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں اور میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام طبرانی کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، کیونکہ
یہ روایت محمد بن طحلاء نے ابوسلمہ سے نقل کی ہے امام أحمد کی سند میں ابوسلیمان نامی جس راوی کا ذکر ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں اور میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حدیث نمبر: 1296
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " تَوَضَّئُوا مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ ، ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آگ پر پکی ہوئی چیز ( کھا لینے ) کے بعد وضو کر لو !
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن نصیر ہے ، جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، یحیی بن معین اور ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن نصیر ہے ، جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، یحیی بن معین اور ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 1297
وَعَنْ أَنَسٍ أَيْضًا أَنَّهُ كَانَ يَضَعُ أُصْبُعَيْهِ وَيَقُولُ : صَمْتًا ، إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہی یہ بات منقول ہے : انہوں نے اپنے کانوں پر انگلیاں رکھ کر یہ ارشاد فرمایا : یہ بہرے ہو جائیں ، اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہو : ” آگ پر پکی ہوئی چیز ( کھا لینے کے بعد ) تم لوگ وضو کر لو ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن یزید بن ابومالک ہے اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن یزید بن ابومالک ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 1298
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ مَسَّ فَرْجَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ " ، وَقَالَ : " تَوَضَّئُوا مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ فِي مَسِّ الْفَرْجِ ، وَفِيهِ الْعَلَاءُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اپنی شرم گاہ کو چھو لے اُسے وضو کرنا چاہیے “ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے : ” تم لوگ آگ پر پکی ہوئی چیز کھا لینے کے بعد وضو کر لو ! “ ۔
یہ روایت امام بزار نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں انہوں نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، جو شرمگاہ کو چھونے کے بارے میں ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علاء بن سلیمان رقی ہے ، وہ منکر الحدیث ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں انہوں نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، جو شرمگاہ کو چھونے کے بارے میں ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علاء بن سلیمان رقی ہے ، وہ منکر الحدیث ہے ۔
حدیث نمبر: 1299
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ : قُلْتُ لِمُعَاذٍ : هَلْ كُنْتُمْ تَوَضَّئُونَ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، إِذَا أَكَلَ أَحَدُنَا مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ غَسَلَ يَدَيْهِ وَفَاهُ ، فَكُنَّا نُعِدُّ هَذَا وُضُوءًا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَهُوَ مِنْ رِوَايَةِ الْحَسَنِ بْنِ يَحْيَى الْخُشَنِيِّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن غنم اشعری بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : کیا آپ لوگ آگ پر پکی ہوئی چیز ( کو کھا لینے کے بعد ) وضو کرتے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! جب ہم میں سے کوئی ایک ، کوئی ایسی چیز کھا لے جو آگ پر پکی ہو ، تو وہ اپنا ہاتھ اور منہ دھو لیتا ہے ، ہم اسی کو وضو شمار کرتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور یہ حسن بن یحیی خشنی کی نقل کردہ روایت ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور یہ حسن بن یحیی خشنی کی نقل کردہ روایت ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 1300
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْوُضُوءُ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” آگ پر پکی ہوئی چیز ( کھانے کے بعد ) وضو کرنا ہو گا “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 1301
وَعَنْ أَبِي سَعْدِ الْخَيْرِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ وَغَلَتْ بِهِ الْمَرَاجِلُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ فِرَاسٌ الشَّعْبَانِيُّ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعد الخیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” آگ پر پکی ہوئی چیز ، جس کی وجہ سے ہنڈیا میں جوش آیا ہو ، اسے کھانے کے بعد وضو کر لو ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فراس شعبانی ہے اور وہ مجہول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فراس شعبانی ہے اور وہ مجہول ہے ۔
حدیث نمبر: 1302
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا أَكَلَ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ تَوَضَّأَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب آگ پر پکی ہوئی کوئی چیز کھا لیتے تھے ، تو ( اس کے بعد ) وضو کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 1303
وَلَهُ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْكَبِيرِ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ " . ¤ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ قَالَ : أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الْقَارِئِ ، وَسَمَّاهُ فِي الْحَدِيثِ قَبْلَهُ ، وَهُوَ يَحْيَى بْنُ جَعْدَةَ ، وَابْنُ عَبْدِ الْقَارِئِ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الْقَارِئِ نِسْبَةً إِلَى جَدِّهِ . ¤ وَعَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرَةَ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ جُبَيْرَةَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرَةَ بْنِ مَحْمُودٍ .
محمد محی الدین
اُن کے حوالے سے امام طبرانی نے یہ روایت نقل کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” آگ پر پکی ہوئی چیز کھا لینے کے بعد وضو کر لو ! “ ۔
اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ عمرو بن دینار نے یہ بات بیان کی ہے : مجھے اُس شخص نے یہ روایت بیان کی ہے ، جس نے عبداللہ بن عبدقاری کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ، اس سے پہلے والی حدیث میں اُنہوں نے اس طرح نام بیان کیا تھا ، اور وہ یحیی بن جعدہ ہے ، جبکہ ابن عبدقاری سے مراد ، عبداللہ بن عمرو بن عبدقاری ہے ، جس کی نسبت اس کے دادا کی طرف کی گئی ہے ،
یہ روایت زید بن جبیرہ بن محمود بن جبیرہ ، جن کا تعلق بنو عبدالاشہل سے ہے ، یہ ان کے حوالے سے ، اُن کے والد جبیرہ بن محمود سے منقول ہے ۔
اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ عمرو بن دینار نے یہ بات بیان کی ہے : مجھے اُس شخص نے یہ روایت بیان کی ہے ، جس نے عبداللہ بن عبدقاری کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ، اس سے پہلے والی حدیث میں اُنہوں نے اس طرح نام بیان کیا تھا ، اور وہ یحیی بن جعدہ ہے ، جبکہ ابن عبدقاری سے مراد ، عبداللہ بن عمرو بن عبدقاری ہے ، جس کی نسبت اس کے دادا کی طرف کی گئی ہے ،
یہ روایت زید بن جبیرہ بن محمود بن جبیرہ ، جن کا تعلق بنو عبدالاشہل سے ہے ، یہ ان کے حوالے سے ، اُن کے والد جبیرہ بن محمود سے منقول ہے ۔
حدیث نمبر: 1304
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ سَلَامَةَ بْنِ وَقَشٍ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُمَا دَخَلَا وَلِيمَةً وَسَلَمَةُ عَلَى وُضُوءٍ ، فَأَكَلُوا ثُمَّ خَرَجُوا ، فَتَوَضَّأَ سَلَمَةُ ، فَقَالَ لَهُ جُبَيْرَةُ : أَلَمْ تَكُنْ عَلَى وُضُوءٍ ؟ قَالَ : بَلَى ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَخَرَجْنَا مِنْ دَعْوَةٍ دَعَوْنَا لَهَا وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى وُضُوءٍ ، فَأَكَلَ ثُمَّ تَوَضَّأَ ، فَقُلْتُ لَهُ : أَلَمْ تَكُنْ عَلَى وُضُوءٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " بَلَى ، وَلَكِنَّ الْأَمْرَ يَحْدُثُ ، وَهَذَا مِمَّا ( قَدْ ) حَدَثَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ ، وَثَّقَهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَجَمَاعَةٌ ، وَاتُّهِمَ بِالْكَذِبِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن سلامہ بن وقش رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ، اُن کے بارے میں یہ بات منقول ہے : دونوں راوی بیان کرتے ہیں : وہ دونوں ولیمہ کی محفل میں داخل ہوئے ، تو سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ وضو کر رہے تھے ، لوگوں نے کھانا کھایا اور پھر چلے گئے ، سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ دوبارہ وضو کرنے لگے ، تو جبیرہ نے اُن سے کہا: کیا آپ باوضو نہیں تھے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! ( یعنی میں باوضو تھا ) لیکن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ ہم ایک دعوت سے نکلے ، جس میں ہمیں بلایا گیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باوضو تھے ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا کھانے کے بعد دوبارہ وضو کیا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ باوضو نہیں تھے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! ( یعنی میں باوضو تھا ) لیکن بعد میں نیا حکم آ جاتا ہے ، اور یہ نئے حکم میں سے ہے ( یعنی یہ کہ پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد دوبارہ وضو کیا جائے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے ، اسے عبدالملک بن سوید بن لیث نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جبکہ امام أحمد اور ایک جماعت نے اُسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، اس پر جھوٹ بولنے کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے ، اسے عبدالملک بن سوید بن لیث نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جبکہ امام أحمد اور ایک جماعت نے اُسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، اس پر جھوٹ بولنے کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 1305
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ الْبَلَوِيِّ - وَكَانَ اسْمَهُ إِيَاسُ بْنُ ثَعْلَبَةَ ، قَدْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ أَبِيهِ قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ نَتَوَضَّأَ مِنَ الْغَمْرِ ، وَلَا يُؤْذِيَ بَعْضُنَا بَعْضًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْوَاقِدِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن ابوامامہ بلوی ، جن ( یعنی ابوامامہ ) کا نام ایاس بن ثعلبہ ہے ، اور انہیں نبی کرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ، وہ ( یعنی عبداللہ ) اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : اللہ کے رسول نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ہم ” غمر “ ( یعنی کوئی پکی ہوئی چیز کھا لینے ) کے بعد وضو کر لیں ، اور ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کو اذیت نہ پہنچائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔