مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ . باب: سونے سے وضو لازم ہونا
حدیث نمبر: 1287
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ نَامَ وَهُوَ جَالِسٌ فَلَا وُضُوءَ عَلَيْهِ ، فَإِذَا وَضَعَ جَنْبَهُ فَعَلَيْهِ الْوُضُوءُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ الْجُفْرِيُّ ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : لَهُ أَحَادِيثُ صَالِحَةٌ ، وَلَا يَتَعَمَّدُ الْكَذِبَ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص بیٹھے ہوئے سو جائے ، اُس پر وضو لازم نہیں ہو گا ، لیکن جب وہ اپنا پہلو ( زمین پر ) رکھ دے ، تو اُس پر وضو لازم ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر جفری ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : اس سے صالح احادیث منقول ہیں ، یہ جان بوجھ کر جھوٹ بیان نہیں کرتا ہے ۔