عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي بَكْرٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مسواک منہ کو صاف کرنے کا ذریعہ ہے اور پروردگار کو راضی کرنے کا باعث ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ یہ پہلو ہے کہ عبداللہ بن محمد نامی راوی نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ یہ پہلو ہے کہ عبداللہ بن محمد نامی راوی نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِالسِّوَاكِ ; فَإِنَّهُ مَطْيَبَةٌ لِلْفَمِ ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم پر مسواک کرنا لازم ہے ، کیونکہ یہ منہ کو صاف رکھتی ہے ، اور پروردگار کی رضا مندی کا باعث ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد میں اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد میں اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ ، وَمَجْلَاةٌ لِلْبَصَرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ بَحْرُ بْنُ كُنَيْزٍ السَّقَّاءُ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ” مسواک منہ کو پاک کرنے کا ، اور پروردگار کی رضا مندی کا اور بینائی کو تیز کرنے کا باعث ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بحر بن کنیز سقاء ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بحر بن کنیز سقاء ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِإِسْنَادَيْنِ ، فِي أَحَدِهِمَا ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ مُدَلِّسٌ وَرِجَالُ الْآخَرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مسواک ، منہ کو پاک کرنے کا ، اور پروردگار کی رضا مندی کا باعث ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، وہ ثقہ ہے ، لیکن تدلیس کرنے والا ہے ، جبکہ دوسری سند کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، وہ ثقہ ہے ، لیکن تدلیس کرنے والا ہے ، جبکہ دوسری سند کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ كُلِّ وُضُوءٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ مُدَلِّسٌ ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالتَّحْدِيثِ . وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا ، تو میں انہیں ہر وضو کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، جو ثقہ ہے ، لیکن تدلیس کرنے والا ہے ، اس روایت میں اس نے تحدیث کی صراحت کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، جو ثقہ ہے ، لیکن تدلیس کرنے والا ہے ، اس روایت میں اس نے تحدیث کی صراحت کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ بِوُضُوءٍ ، وَمَعَ كُلِّ وُضُوءٍ بِسِوَاكٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَلِأَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ حَسَنُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی کرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا ، تو میں انہیں ہر نماز کے ہمراہ وضو کرنے اور ہر وضو کے ہمراہ مسواک کرنے کا حکم دیتا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ” صحیح “ میں اس کے علاوہ حدیث منقول ہے ، اس روایت میں ایک راوی محمد بن عمرو بن علقمہ ہے اور وہ ثقہ اور حسن الحدیث ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ” صحیح “ میں اس کے علاوہ حدیث منقول ہے ، اس روایت میں ایک راوی محمد بن عمرو بن علقمہ ہے اور وہ ثقہ اور حسن الحدیث ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : - إِنْ كَانَ قَالَهُ - : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ الْوُضُوءِ " . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : لَقَدْ كُنْتُ أَسْتَنُّ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ وَبَعْدَمَا أَسْتَيْقِظُ ، وَقَبْلَ أَنْ آكُلَ وَبَعْدَ مَا آكُلُ - حِينَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ مَا قَالَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ، اگرچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : ” اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا ، تو میں انہیں ہر وضو کے ہمراہ مسواک کرنے کا حکم دیتا “ ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں سونے سے پہلے ، بیدار ہونے کے بعد ، کچھ کھانے سے پہلے ، یا کھانے کے بعد مسواک کرتا ہوں ، اس کے بعد ، کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ قُثَمِ بْنِ تَمَّامٍ - أَوْ تَمَّامِ بْنِ قُثَمٍ - عَنْ أَبِيهِ قَالَ : أَتَيْنَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا لَكُمْ تَأْتُونِي قُلْحًا ؟ أَلَا تَسَوِّكُونَ ؟ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَفَرَضْتُ عَلَيْهِمُ السِّوَاكَ كَمَا فَرَضْتُ عَلَيْهِمُ الْوُضُوءَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو عَلِيٍّ الصَّيْقَلُ ، قِيلَ فِيهِ : أَنَّهُ مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
قثم بن تمام ، یا شاید تمام بن قثم ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا وجہ ہے ؟ کہ تم ایسے ہی ( یعنی منہ صاف کیے بغیر ) میرے پاس آ گئے ہو ، کیا تم لوگ مسواک نہیں کرتے ہو ؟ اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا ، تو میں اُن پر مسواک کو لازم قرار دیتا ، جس طرح میں نے اُن پر وضو کو لازم قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعلی صیقل ہے ، اس کے بارے میں یہ کہا: گیا ہے : یہ مجہول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعلی صیقل ہے ، اس کے بارے میں یہ کہا: گیا ہے : یہ مجہول ہے ۔
وَعَنْ تَمَّامِ بْنِ الْعَبَّاسِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا لَكُمْ تَدْخُلُونَ عَلَيَّ قُلْحًا ؟ اسْتَاكُوا فَلَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ طَهُورٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَاللَّفْظُ لَهُ . وَفِيهِ أَبُو عَلِيٍّ الصَّيْقَلُ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا تمام بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا وجہ ہے کہ تم لوگ میرے پاس ایسے ہی ( یعنی مسواک کیے بغیر ) آ گئے ہو ؟ تم لوگ مسواک کرو ! اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا ، تو میں انہیں ہر طہارت ( یعنی وضو ) کے وقت مسواک کا حکم دیتا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں اس کی سند میں ایک راوی ابوعلی صیقل ہے اور وہ مجہول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں اس کی سند میں ایک راوی ابوعلی صیقل ہے اور وہ مجہول ہے ۔
وَعَنِ الْعَبَّاسِ قَالَ : كَانُوا يَدْخُلُونَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا يَسْتَاكُونَ فَقَالَ : " تَدْخُلُونَ عَلَيَّ قُلْحًا وَلَا تَسْتَاكُونَ . لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَفَرَضْتُ عَلَيْهِمُ السِّوَاكَ كَمَا فَرَضْتُ عَلَيْهِمُ الْوُضُوءَ " . وَقَالَتْ عَائِشَةُ : مَا زَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَذْكُرُ السِّوَاكَ حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَنْزِلَ فِيهِ قُرْآنٌ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو عَلِيٍّ الصَّيْقَلُ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ كَثِيرَةٌ فِي السِّوَاكِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ فِي الصَّلَاةِ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ( کچھ ) لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مسواک کیے بغیر حاضر ہوئے ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ میرے پاس ویسے ہی آ جاتے ہو ، تم مسواک نہیں کرتے ہو ، اگر مجھے اپنی امت کے مشقت کا شکار ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا ، تو میں ان پر مسواک کو لازم قرار دیتا ، جس طرح میں نے ان پر وضو کو لازم قرار دیا ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل مسواک کا ذکر کرتے رہتے تھے ، یہاں تک کہ ہمیں یہ اندیشہ ہوا ، کہ کہیں اس کے بارے میں قرآن نازل نہ ہو جائے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ ، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعلی صیقل ہے اور وہ مجہول ہے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں میں یہ کہتا ہوں : اور بھی بہت سی روایات ، مسواک کرنے سے متعلق باب میں ، اور نماز سے متعلق امور کے بارے میں باب میں آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ ، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعلی صیقل ہے اور وہ مجہول ہے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں میں یہ کہتا ہوں : اور بھی بہت سی روایات ، مسواک کرنے سے متعلق باب میں ، اور نماز سے متعلق امور کے بارے میں باب میں آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔