عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي بَكْرٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مسواک منہ کو صاف کرنے کا ذریعہ ہے اور پروردگار کو راضی کرنے کا باعث ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ یہ پہلو ہے کہ عبداللہ بن محمد نامی راوی نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1113
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «مصنف ابن ابي شيبة كتاب الطهارات ما ذكر فى السواك 1771 السنن الكبرى للنسائي كتاب الطهارة الترغيب فى السواك حديث 4 مسند احمد بن حنبل مسند العشرة المبشرين بالجنة مسند الخلفاء الراشدين مسند ابي بكر الصديق رضى الله عنه 7 مسند الشافعي باب ما خرج من كتاب الوضوء حديث 38 مسند الحميدى احاديث عائشة ام المومنين رضى الله عنها عن رسول الله 159 مسند أبى يعلى الموصلي مسند أبى بكر الصديق رضى الله عنه حديث 102 المعجم الأوسط للطبراني باب الالف من اسمه احمد 276 شعب الإيمان للبيهقى فصل فى السواك لقراءة القرآن ، 2049»
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِالسِّوَاكِ ; فَإِنَّهُ مَطْيَبَةٌ لِلْفَمِ ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم پر مسواک کرنا لازم ہے ، کیونکہ یہ منہ کو صاف رکھتی ہے ، اور پروردگار کی رضا مندی کا باعث ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد میں اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1114
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ ، وَمَجْلَاةٌ لِلْبَصَرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ بَحْرُ بْنُ كُنَيْزٍ السَّقَّاءُ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ” مسواک منہ کو پاک کرنے کا ، اور پروردگار کی رضا مندی کا اور بینائی کو تیز کرنے کا باعث ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بحر بن کنیز سقاء ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1115
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِإِسْنَادَيْنِ ، فِي أَحَدِهِمَا ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ مُدَلِّسٌ وَرِجَالُ الْآخَرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مسواک ، منہ کو پاک کرنے کا ، اور پروردگار کی رضا مندی کا باعث ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، وہ ثقہ ہے ، لیکن تدلیس کرنے والا ہے ، جبکہ دوسری سند کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1116
درجۂ حدیث محدثین: إسناده اس
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ كُلِّ وُضُوءٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ مُدَلِّسٌ ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالتَّحْدِيثِ . وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا ، تو میں انہیں ہر وضو کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، جو ثقہ ہے ، لیکن تدلیس کرنے والا ہے ، اس روایت میں اس نے تحدیث کی صراحت کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1117
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ بِوُضُوءٍ ، وَمَعَ كُلِّ وُضُوءٍ بِسِوَاكٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَلِأَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ حَسَنُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی کرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا ، تو میں انہیں ہر نماز کے ہمراہ وضو کرنے اور ہر وضو کے ہمراہ مسواک کرنے کا حکم دیتا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ” صحیح “ میں اس کے علاوہ حدیث منقول ہے ، اس روایت میں ایک راوی محمد بن عمرو بن علقمہ ہے اور وہ ثقہ اور حسن الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1118
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : - إِنْ كَانَ قَالَهُ - : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ الْوُضُوءِ " . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : لَقَدْ كُنْتُ أَسْتَنُّ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ وَبَعْدَمَا أَسْتَيْقِظُ ، وَقَبْلَ أَنْ آكُلَ وَبَعْدَ مَا آكُلُ - حِينَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ مَا قَالَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ، اگرچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : ” اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا ، تو میں انہیں ہر وضو کے ہمراہ مسواک کرنے کا حکم دیتا “ ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں سونے سے پہلے ، بیدار ہونے کے بعد ، کچھ کھانے سے پہلے ، یا کھانے کے بعد مسواک کرتا ہوں ، اس کے بعد ، کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1119
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ قُثَمِ بْنِ تَمَّامٍ - أَوْ تَمَّامِ بْنِ قُثَمٍ - عَنْ أَبِيهِ قَالَ : أَتَيْنَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا لَكُمْ تَأْتُونِي قُلْحًا ؟ أَلَا تَسَوِّكُونَ ؟ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَفَرَضْتُ عَلَيْهِمُ السِّوَاكَ كَمَا فَرَضْتُ عَلَيْهِمُ الْوُضُوءَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو عَلِيٍّ الصَّيْقَلُ ، قِيلَ فِيهِ : أَنَّهُ مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
قثم بن تمام ، یا شاید تمام بن قثم ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا وجہ ہے ؟ کہ تم ایسے ہی ( یعنی منہ صاف کیے بغیر ) میرے پاس آ گئے ہو ، کیا تم لوگ مسواک نہیں کرتے ہو ؟ اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا ، تو میں اُن پر مسواک کو لازم قرار دیتا ، جس طرح میں نے اُن پر وضو کو لازم قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعلی صیقل ہے ، اس کے بارے میں یہ کہا: گیا ہے : یہ مجہول ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1120
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ تَمَّامِ بْنِ الْعَبَّاسِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا لَكُمْ تَدْخُلُونَ عَلَيَّ قُلْحًا ؟ اسْتَاكُوا فَلَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ طَهُورٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَاللَّفْظُ لَهُ . وَفِيهِ أَبُو عَلِيٍّ الصَّيْقَلُ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا تمام بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا وجہ ہے کہ تم لوگ میرے پاس ایسے ہی ( یعنی مسواک کیے بغیر ) آ گئے ہو ؟ تم لوگ مسواک کرو ! اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا ، تو میں انہیں ہر طہارت ( یعنی وضو ) کے وقت مسواک کا حکم دیتا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں اس کی سند میں ایک راوی ابوعلی صیقل ہے اور وہ مجہول ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1121
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنِ الْعَبَّاسِ قَالَ : كَانُوا يَدْخُلُونَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا يَسْتَاكُونَ فَقَالَ : " تَدْخُلُونَ عَلَيَّ قُلْحًا وَلَا تَسْتَاكُونَ . لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَفَرَضْتُ عَلَيْهِمُ السِّوَاكَ كَمَا فَرَضْتُ عَلَيْهِمُ الْوُضُوءَ " . وَقَالَتْ عَائِشَةُ : مَا زَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَذْكُرُ السِّوَاكَ حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَنْزِلَ فِيهِ قُرْآنٌ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو عَلِيٍّ الصَّيْقَلُ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ كَثِيرَةٌ فِي السِّوَاكِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ فِي الصَّلَاةِ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ( کچھ ) لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مسواک کیے بغیر حاضر ہوئے ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ میرے پاس ویسے ہی آ جاتے ہو ، تم مسواک نہیں کرتے ہو ، اگر مجھے اپنی امت کے مشقت کا شکار ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا ، تو میں ان پر مسواک کو لازم قرار دیتا ، جس طرح میں نے ان پر وضو کو لازم قرار دیا ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل مسواک کا ذکر کرتے رہتے تھے ، یہاں تک کہ ہمیں یہ اندیشہ ہوا ، کہ کہیں اس کے بارے میں قرآن نازل نہ ہو جائے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ ، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعلی صیقل ہے اور وہ مجہول ہے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں میں یہ کہتا ہوں : اور بھی بہت سی روایات ، مسواک کرنے سے متعلق باب میں ، اور نماز سے متعلق امور کے بارے میں باب میں آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1122
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف