حدیث نمبر: 1121
وَعَنْ تَمَّامِ بْنِ الْعَبَّاسِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا لَكُمْ تَدْخُلُونَ عَلَيَّ قُلْحًا ؟ اسْتَاكُوا فَلَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ طَهُورٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَاللَّفْظُ لَهُ . وَفِيهِ أَبُو عَلِيٍّ الصَّيْقَلُ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا تمام بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا وجہ ہے کہ تم لوگ میرے پاس ایسے ہی ( یعنی مسواک کیے بغیر ) آ گئے ہو ؟ تم لوگ مسواک کرو ! اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا ، تو میں انہیں ہر طہارت ( یعنی وضو ) کے وقت مسواک کا حکم دیتا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں اس کی سند میں ایک راوی ابوعلی صیقل ہے اور وہ مجہول ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1121
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف