مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي السِّوَاكِ . باب: مسواک کا بیان
حدیث نمبر: 1120
وَعَنْ قُثَمِ بْنِ تَمَّامٍ - أَوْ تَمَّامِ بْنِ قُثَمٍ - عَنْ أَبِيهِ قَالَ : أَتَيْنَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا لَكُمْ تَأْتُونِي قُلْحًا ؟ أَلَا تَسَوِّكُونَ ؟ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَفَرَضْتُ عَلَيْهِمُ السِّوَاكَ كَمَا فَرَضْتُ عَلَيْهِمُ الْوُضُوءَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو عَلِيٍّ الصَّيْقَلُ ، قِيلَ فِيهِ : أَنَّهُ مَجْهُولٌ . ¤محمد محی الدین
قثم بن تمام ، یا شاید تمام بن قثم ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا وجہ ہے ؟ کہ تم ایسے ہی ( یعنی منہ صاف کیے بغیر ) میرے پاس آ گئے ہو ، کیا تم لوگ مسواک نہیں کرتے ہو ؟ اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا ، تو میں اُن پر مسواک کو لازم قرار دیتا ، جس طرح میں نے اُن پر وضو کو لازم قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعلی صیقل ہے ، اس کے بارے میں یہ کہا: گیا ہے : یہ مجہول ہے ۔