مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي السِّوَاكِ . باب: مسواک کا بیان
وَعَنِ الْعَبَّاسِ قَالَ : كَانُوا يَدْخُلُونَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا يَسْتَاكُونَ فَقَالَ : " تَدْخُلُونَ عَلَيَّ قُلْحًا وَلَا تَسْتَاكُونَ . لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَفَرَضْتُ عَلَيْهِمُ السِّوَاكَ كَمَا فَرَضْتُ عَلَيْهِمُ الْوُضُوءَ " . وَقَالَتْ عَائِشَةُ : مَا زَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَذْكُرُ السِّوَاكَ حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَنْزِلَ فِيهِ قُرْآنٌ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو عَلِيٍّ الصَّيْقَلُ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ كَثِيرَةٌ فِي السِّوَاكِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ فِي الصَّلَاةِ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - . ¤سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ( کچھ ) لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مسواک کیے بغیر حاضر ہوئے ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ میرے پاس ویسے ہی آ جاتے ہو ، تم مسواک نہیں کرتے ہو ، اگر مجھے اپنی امت کے مشقت کا شکار ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا ، تو میں ان پر مسواک کو لازم قرار دیتا ، جس طرح میں نے ان پر وضو کو لازم قرار دیا ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل مسواک کا ذکر کرتے رہتے تھے ، یہاں تک کہ ہمیں یہ اندیشہ ہوا ، کہ کہیں اس کے بارے میں قرآن نازل نہ ہو جائے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ ، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعلی صیقل ہے اور وہ مجہول ہے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں میں یہ کہتا ہوں : اور بھی بہت سی روایات ، مسواک کرنے سے متعلق باب میں ، اور نماز سے متعلق امور کے بارے میں باب میں آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔