حدیث نمبر: 1123
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا تَمَضْمَضَ أَحَدُكُمْ حُطَّ مَا أَصَابَ بِفِيهِ ، وَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ حُطَّ مَا أَصَابَ بِوَجْهِهِ ، وَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ حُطَّ مَا أَصَابَ بِيَدَيْهِ ، وَإِذَا مَسَحَ بِرَأْسِهِ تَنَاثَرَتْ خَطَايَاهُ مِنْ أُصُولِ الشَّعْرِ ، وَإِذَا غَسَلَ قَدَمَيْهِ حُطَّ مَا أَصَابَ بِرِجْلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ عُثْمَانَ فِي بَابِ مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب کوئی شخص کلی کرتا ہے ، تو اُس کے منہ کے گناہ ختم ہو جاتے ہیں ، جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے ، تو اُس کے وہ گناہ ختم ہو جاتے ہیں ، جو اس نے اپنے چہرے کے حوالے سے کئے تھے ، جب وہ اپنے بازو دھوتا ہے ، تو اس کے وہ گناہ ختم ہو جاتے ہیں ، جو اُس نے اپنے ہاتھوں کے ذریعے کیے تھے ، جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے ، تو اُس کے بالوں کی جڑوں سے اس کی خطائیں گر جاتی ہیں ، اور جب وہ اپنے دونوں پاؤں دھوتا ہے ، تو اس کے وہ گناہ ختم ہو جاتے ہیں ، جن کا ارتکاب اُس نے اپنے پاؤں کے ذریعے کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ علامہ ہیثمی بیان کرتے ہیں میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ” وضو کے بارے میں جو کچھ منقول ہے “ والے باب میں آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ علامہ ہیثمی بیان کرتے ہیں میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ” وضو کے بارے میں جو کچھ منقول ہے “ والے باب میں آئے گی ۔
حدیث نمبر: 1124
وَعَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَيُّمَا رَجُلٍ قَامَ إِلَى وُضُوئِهِ يُرِيدُ الصَّلَاةَ ، ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ نَزَلَتْ كُلُّ خَطِيئَةٍ مِنْ كَفَّيْهِ مَعَ أَوَّلِ قَطْرَةٍ ، فَإِذَا مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ نَزَلَتْ كُلُّ خَطِيئَةٍ مِنْ لِسَانِهِ وَشَفَتَيْهِ مَعَ أَوَّلِ قَطْرَةٍ ، فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ نَزَلَتْ كُلُّ خَطِيئَةٍ مِنْ سَمْعِهِ وَبَصَرِهُ مَعَ أَوَّلِ قَطْرَةٍ ، فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ إِلَى الْمَرْفِقَيْنِ وَرَجِلْيَهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ سَلِمَ مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ كَهَيْأَتِهِ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " . قَالَ : " فَإِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ اللَّهُ دَرَجَتَهُ ، وَإِنْ قَعَدَ قَعَدَ سَالِمًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ عَنْ شَهْرٍ ، وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِمَا ، وَالصَّحِيحُ أَنَّهُمَا ثِقَتَانِ ، وَلَا يَقْدَحُ الْكَلَامُ فِيهِمَا . ¤
محمد محی الدین
شہر بن حوشب بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص وضو کرنے کے لیے اٹھتا ہے اور وہ نماز ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ، پھر وہ اپنی ہتھیلیاں دھوتا ہے ، تو پہلے قطرے کے ساتھ اس کی ہتھیلیوں میں سے ہر گناہ ( نازل ہو جاتا ، یعنی ) نکل جاتا ہے ، جب وہ کلی کرتا ہے اور ناک میں پانی ڈالتا ہے اور ناک صاف کرتا ہے ، تو پہلے قطرے کے ساتھ اُس کی زبان اور ہونٹوں سے ہر گناہ نکل جاتا ہے ، جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے ، تو پہلے قطرے کے ساتھ اس کی سماعت اور بصارت سے ہر گناہ نکل جاتا ہے ، جب وہ کہنیوں تک اپنے دونوں بازو اور ٹخنوں تک ، اپنے دونوں پاؤں دھوتا ہے تو وہ ہر گناہ سے یوں پاک ہو جاتا ہے ، جیسے اُس دن تھا ، جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا ، پھر جب وہ نماز ادا کرنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے درجے کو بلند کرتا ہے ، اور اگر وہ بیٹھا رہتا ہے ( یعنی اگر وہ نماز ادا نہیں بھی کرتا ) تو وہ ایسی حالت میں بیٹھا ہوتا ہے ، کہ وہ سالم ( یعنی گناہوں سے پاک ) ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام أحمد کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے عبدالحمید بن بہرام نے شہر سے نقل کیا ہے ، اور ان دونوں سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ، صحیح یہ ہے کہ یہ دونوں ثقہ ہیں ، اور ان دونوں کے بارے میں کیا جانے والا کلام ، قدح کا باعث نہیں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام أحمد کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے عبدالحمید بن بہرام نے شہر سے نقل کیا ہے ، اور ان دونوں سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ، صحیح یہ ہے کہ یہ دونوں ثقہ ہیں ، اور ان دونوں کے بارے میں کیا جانے والا کلام ، قدح کا باعث نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 1125
وَعَنْ أَبِي مُسْلِمٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَبِي أُمَامَةَ وَهُوَ يَتَفَلَّى فِي الْمَسْجِدِ وَيَدْفِنُ الْقَمْلَ فِي الْحَصَى ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا أُمَامَةَ ، إِنَّ رَجُلًا حَدَّثَنِي عَنْكَ أَنَّكَ قُلْتَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ؛ غَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَفْرُوضَةِ - غَفَرَ اللَّهُ لَهُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ مَا مَشَتْ رِجْلَاهُ ، وَقَبَضَتْ عَلَيْهِ يَدَاهُ ، وَسَمِعَتْ إِلَيْهِ أُذُنَاهُ ، وَنَظَرَتْ إِلَيْهِ عَيْنَاهُ ، وَحَدَّثَ بِهِ نَفْسَهُ مِنْ سُوءٍ " . قَالَ : وَاللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا لَا أُحْصِيهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو مُسْلِمٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ بِثِقَةٍ وَلَا جَرْحٍ ، غَيْرَ أَنَّ الْحَاكِمَ ذَكَرَهُ فِي الْكُنَى ، وَقَالَ : رَوَى عَنْهُ أَبُو حَازِمٍ . وَهُنَا رَوَى عَنْهُ أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ . وَكَذَلِكَ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ . ¤
محمد محی الدین
ابومسلم بیان کرتے ہیں : میں سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، وہ اس وقت مسجد میں بیٹھے ہوئے جوئیں نکال رہے تھے اور جوؤں کو کنکریوں میں دفن کر دیتے تھے ، میں نے کہا: اے سیدنا ابوامامہ ! ایک شخص نے مجھے آپ کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے یہ کہا ہے : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص وضو کرتے ہوئے ، اچھی طرح وضو کرے ، اپنے دونوں بازؤں اور چہرے کو دھوئے ، اپنے سر اور کانوں پر مسح کرے پھر فرض نماز کی ادائیگی کے لئے کھڑا ہو جائے ، تو اللہ تعالی اس شخص کے اس دن کے ان گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہے ، جن کے لیے وہ اپنے قدموں پر چل کر گیا ، جنہیں اس نے اپنے ہاتھ کے ذریعے کیا ، جنہیں اس کے کانوں نے سنا ، یا جنہیں اس کی آنکھوں نے دیکھا ، جو اس نے برا سوچا ( اس کے اس دن کے ، ایسے تمام گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ) ۔ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے یہ بات اللہ کے نبی کی زبانی اتنی مرتبہ سنی ہے ، جسے میں شمار نہیں کر سکتا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومسلم ہے ، میں نے کسی کو اس راوی کے حالات توثیق یا جرح کے ہمراہ ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ، البتہ امام حاکم رحمہ اللہ نے اس کا ذکر کنیت سے متعلق باب میں کیا ہے اور یہ بات بیان کی ہے : ابوحازم نے اس سے روایت نقل کی ہے ، جبکہ یہاں جو روایت مذکور ہے ، وہ ابان بن عبداللہ نے اس سے نقل کی ہے ، ابن ابوحاتم نے بھی اسی طرح اس کا ذکر کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومسلم ہے ، میں نے کسی کو اس راوی کے حالات توثیق یا جرح کے ہمراہ ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ، البتہ امام حاکم رحمہ اللہ نے اس کا ذکر کنیت سے متعلق باب میں کیا ہے اور یہ بات بیان کی ہے : ابوحازم نے اس سے روایت نقل کی ہے ، جبکہ یہاں جو روایت مذکور ہے ، وہ ابان بن عبداللہ نے اس سے نقل کی ہے ، ابن ابوحاتم نے بھی اسی طرح اس کا ذکر کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 1126
وَعَنْ أَبِي غَالِبٍ أَنَّهُ لَقِيَ أَبَا أُمَامَةَ بِحِمْصَ فَسَأَلَهُ عَنْ أَشْيَاءَ ، حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَقُولُ : " مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَسْمَعُ أَذَانَ صَلَاةٍ ، فَقَامَ إِلَى وُضُوئِهِ - إِلَّا غُفِرَ لَهُ بِأَوَّلِ قَطْرَةٍ تُصِيبُ كَفَّهُ مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ ، فَبِعَدَدِ ذَلِكَ الْقَطْرِ ، حَتَّى يَفْرَغَ مِنْ وُضُوئِهِ - إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا سَلَفَ مِنْ ذُنُوبِهِ ، وَقَامَ إِلَى صِلَاتِهِ وَهِيَ نَافِلَةٌ " . قَالَ أَبُو غَالِبٍ : قُلْتُ لِأَبِي أُمَامَةَ : أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : أَيْ وَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا ، غَيْرَ مَرَّةٍ ، وَلَا مَرَّتَيْنِ ، وَلَا ثَلَاثٍ ، وَلَا أَرْبَعٍ ، وَلَا خَمْسٍ ، وَلَا سِتٍّ ، وَلَا سَبْعٍ ، وَلَا ثَمَانٍ ، وَلَا تِسْعٍ ، وَلَا عَشْرٍ وَعَشْرٍ وَصَفَّقَ بِيَدَيْهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . ¤
محمد محی الدین
ابوغالب بیان کرتے ہیں : ” حمص “ میں اُن کی ملاقات سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، انہوں نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے کچھ چیزوں کے بارے میں سوال کیا ، تو سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو بتایا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو مسلمان بندہ نماز کے لئے اذان سن کر وضو کرنے کے لیے اٹھتا ہے تو اس پانی میں سے اس کی ہتھیلی کو جو پہلا قطرہ لگتا ہے اس کے ہمراہ اس شخص کی مغفرت ہو جاتی ہے اور ان قطروں کے حساب سے ( اس کی مغفرت ہوتی ہے ) یہاں تک کہ جب وہ وضو سے فارغ ہوتا ہے ، تو اس کے گزشتہ تمام گناہوں کی مغفرت ہو چکی ہوتی ہے ، اور جب وہ نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے ، تو وہ اس کے لئے اضافی ( اجر و ثواب کے حصول کا باعث ) ہوتی ہے “ ۔ ابوغالب بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : کیا آپ نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ خوشخبری سنانے والا ، اور ڈرانے والا ، بنا کر مبعوث کیا ہے ، ایک مرتبہ نہیں ، دو مرتبہ نہیں ، تین مرتبہ نہیں ، چار مرتبہ نہیں ، پانچ مرتبہ نہیں ، چھ مرتبہ نہیں ، سات مرتبہ نہیں ، آٹھ مرتبہ نہیں ، نو مرتبہ نہیں ، دس مرتبہ نہیں ، دس ( مزید ) مرتبہ ( نہیں ، یعنی اس سے بھی زیادہ مرتبہ ، میں نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے ) اُنہوں نے اپنے دونوں ہاتھ ملا کر یہ بات کہی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 1127
قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا تَوَضَّأَ الْمُسْلِمُ فَغَسَلَ يَدَيْهِ كَفَّرْتُ بِهِ مَا عَمِلَتْ يَدَاهُ ، فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ كَفَّرْتُ عَنْهُ مَا نَظَرَتْ إِلَيْهِ عَيْنَاهُ ، وَإِذَا مَسَحَ بِرَأْسِهِ كَفَّرَ بِهِ مَا سَمِعَتْ أُذُنَاهُ ، فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ كَفَّرْتُ عَنْهُ مَا مَشَتْ إِلَيْهِ قَدَمَاهُ ، ثُمَّ يَقُومُ إِلَى الصَّلَاةِ فَهِيَ فَضِيلَةٌ " . ¤ وَأَبُو غَالِبٍ مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، وَقَدْ حَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ لِأَبِي غَالِبٍ وَصَحَّحَ لَهُ أَيْضًا . ¤ وَرَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقٍ صَحِيحَةٍ ، وَزَادَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْوُضُوءُ يُكَفِّرُ مَا قَبْلَهُ ثُمَّ تَصِيرُ الصَّلَاةُ نَافِلَةً " ، وَرَوَاهُ أَيْضًا مِنْ طَرِيقٍ صَحِيحَةٍ ، وَزَادَ : " إِذَا تَوَضَّأَ كَمَا أُمِرَ " . ¤
محمد محی الدین
ان ( صحابی یعنی سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ ) کے حوالے سے ” معجم صغیر “ میں
یہ روایت منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب مسلمان وضو کرتے ہوئے اپنے ہاتھ دھوتا ہے ، تو یہ چیز اُس کے ان ( گناہوں ) کا کفارہ بن جاتی ہے ، جو عمل اس کے ہاتھ نے کیا تھا اور جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے ، تو یہ چیز ان امور کا کفارہ بن جاتی ہے ، جس کی طرف اُس کی آنکھوں نے دیکھا تھا ، جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے ، تو یہ چیز اس کے ان امور کا کفارہ بن جاتی ہے ، جس کو اس کے کانوں نے سنا تھا اور جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے ، تو یہ چیز اس شخص کے ان گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے ، جن کی طرف وہ اپنے قدموں کے ذریعے چل کر گیا تھا ، پھر جب وہ نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے ، تو وہ ( یعنی نماز ) اُس کے لیے فضیلت کا باعث ہوتی ہے ۔ ابوغالب سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، امام ترمذی نے ابوغالب کے حوالے سے منقول روایت کو حسن قرار دیا ہے ، انہوں نے اس کے حوالے سے منقول ایک روایت کو ” صحیح “ بھی قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک ” صحیح “ سند کے ساتھ نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وضو اس کے پہلے کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے اور پھر نماز اس کے لیے نفل ( یعنی اضافی اجر و ثواب کے حصول کا باعث ) ہوتی ہے “ ۔ انہوں نے یہی روایت ایک اور ” صحیح “ سند کے ساتھ بھی نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” جب وہ اس طرح وضو کرے ، جس طرح اُسے حکم دیا گیا ہے “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
یہ روایت منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب مسلمان وضو کرتے ہوئے اپنے ہاتھ دھوتا ہے ، تو یہ چیز اُس کے ان ( گناہوں ) کا کفارہ بن جاتی ہے ، جو عمل اس کے ہاتھ نے کیا تھا اور جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے ، تو یہ چیز ان امور کا کفارہ بن جاتی ہے ، جس کی طرف اُس کی آنکھوں نے دیکھا تھا ، جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے ، تو یہ چیز اس کے ان امور کا کفارہ بن جاتی ہے ، جس کو اس کے کانوں نے سنا تھا اور جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے ، تو یہ چیز اس شخص کے ان گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے ، جن کی طرف وہ اپنے قدموں کے ذریعے چل کر گیا تھا ، پھر جب وہ نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے ، تو وہ ( یعنی نماز ) اُس کے لیے فضیلت کا باعث ہوتی ہے ۔ ابوغالب سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، امام ترمذی نے ابوغالب کے حوالے سے منقول روایت کو حسن قرار دیا ہے ، انہوں نے اس کے حوالے سے منقول ایک روایت کو ” صحیح “ بھی قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک ” صحیح “ سند کے ساتھ نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وضو اس کے پہلے کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے اور پھر نماز اس کے لیے نفل ( یعنی اضافی اجر و ثواب کے حصول کا باعث ) ہوتی ہے “ ۔ انہوں نے یہی روایت ایک اور ” صحیح “ سند کے ساتھ بھی نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” جب وہ اس طرح وضو کرے ، جس طرح اُسے حکم دیا گیا ہے “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
حدیث نمبر: 1128
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا تَوَضَّأَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ خَرَجَتْ ذُنُوبُهُ مِنْ سَمْعِهِ وَبَصَرِهِ وَيَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ ، فَإِنْ قَعَدَ قَعَدَ مَغْفُورًا لَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب مسلمان شخص وضو کرتا ہے ، تو اس کی سماعت ، بصارت ، دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں سے اس کے گناہ نکل جاتے ہیں اور اگر وہ بیٹھا رہے ( یعنی وضو کرنے کے بعد ، نماز ادا نہ بھی کرے ) تو وہ ایسی حالت میں بیٹھتا ہے کہ اس کی مغفرت ہو چکی ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 1129
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ فِي حَدِيثٍ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ ، فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ ، وَيُمَضْمِضُ فَاهُ ، وَيَتَوَضَّأُ كَمَا أُمِرَ - إِلَّا حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ مَا أَصَابَ يَوْمَئِذٍ مَا نَطَقَ بِهِ فَمُهُ ، وَمَا مَسَّ بِيَدِهِ ، وَمَا مَشَى إِلَيْهِ ، حَتَّى إِنَّ الْخَطَايَا لَتَحَادَرُ مِنْ أَطْرَافِهِ ، ثُمَّ هُوَ إِذَا مَشَى إِلَى الْمَسْجِدِ فَرِجْلٌ تَكْتُبُ حَسَنَةً وَأُخْرَى تُمْحِي سَيِّئَةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ لَقِيطٌ أَبُو الْمُشَاوِرِ ، رَوَى عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، وَرَوَى عَنْهُ الْجَرِيرِيُّ وَقُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ : يُخْطِئُ وَيُخَالَفُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک ” مرفوع “ حدیث کے طور پر ، یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب کوئی مسلمان وضو کرتا ہے اور اپنے ہاتھ دھوتا ہے اور منہ میں کلی کرتا ہے اور اس طرح وضو کرتا ہے جس طرح اسے حکم دیا گیا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے ان تمام گناہوں کو ختم کر دیتا ہے ، جس کا ارتکاب اس نے اس دن میں کیا تھا ، جسے وہ منہ کے ذریعے بولا: تھا ، یہ جو اس نے ہاتھ کے ذریعے مس کیا تھا ، یا جس کی طرف وہ چل کے گیا تھا ، یہاں تک کہ اس کے اطراف کے گناہ گر جاتے ہیں ، اور پر جب وہ پیدل چل کر ، مسجد کی طرف جاتا ہے ، تو ایک قدم نیکی نوٹ کرواتا ہے ، اور دوسرا گناہ مٹا دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لقیط ابومشاور ہے ، جس نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ، اور اس سے جریری اور قرہ بن خالد نے روایت نقل کی ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے اور یہ بات بیان کی ہے : یہ غلطی کر جاتا ہے ، اور اس کے برخلاف روایات نقل کی گئی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لقیط ابومشاور ہے ، جس نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ، اور اس سے جریری اور قرہ بن خالد نے روایت نقل کی ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے اور یہ بات بیان کی ہے : یہ غلطی کر جاتا ہے ، اور اس کے برخلاف روایات نقل کی گئی ہیں ۔
حدیث نمبر: 1130
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا تَوَضَّأَ الْمُسْلِمُ ذَهَبَ الْإِثْمُ مِنْ سَمْعِهِ وَبَصَرِهِ وَيَدَيْهِ وَرَجِلَيْهِ " قَالَ : فَجَاءَ أَبُو طَيْبَةَ وَهُوَ يُحَدِّثُنَا هَذَا ، فَقَالَ : مَا يُحَدِّثُكُمْ ؟ فَذَكَرْنَا لَهُ الَّذِي حَدَّثَنَا ، فَقَالَ رَجُلٌ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ يَذْكُرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَزَادَ فِيهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَبِيتُ عَلَى طُهْرٍ ، ثُمَّ يَتَعَارُّ مِنَ اللَّيْلِ ، فَيَذْكُرُ اللَّهَ ، وَيَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ - إِلَّا آتَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَقَالَ فِيهِ : " مَنْ بَاتَ طَاهِرًا عَلَى ذِكْرِ اللَّهِ " ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ فِيمَنْ يَبِيتُ عَلَى طَهَارَةٍ بَعْدَ هَذَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب مسلمان وضو کرتا ہے ، تو اُس کی سماعت ، اس کی بصارت ، اس کے دونوں ہاتھوں اور اس کے دونوں پاؤں سے گناہ رخصت ہو جاتے ہیں “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ایک مکتبہ ابوطیبہ آئے ، جو ہمیں یہ حدیث بیان کیا کرتے تھے ، تو انہوں نے دریافت کیا : یہ تمہیں کیا حدیث بیان کر رہے ہیں ؟ تو ہم نے انہیں اس حدیث کے بارے میں بتایا ، جو انہوں نے ہمیں بیان کی تھی ، تو ایک شخص نے یہ کہا: میں نے سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات ذکر کرتے ہوئے سنا ہے ، انہوں نے اس میں یہ چیز زائد نقل کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص باوضو حالت میں رات بسر کرتا ہے ، اور پھر رات کے دوران کسی وقت بیدار ہو کر ، اللہ کا ذکر کرتا ہے ، تو وہ اللہ تعالیٰ سے دنیا اور آخرت کی جس بھی بھلائی کو مانگتا ہے ، اللہ تعالیٰ وہ ( بھلائی ) اُس شخص کو عطا کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” جو شخص باوضو حالت میں ، اللہ کا ذکر کرتے ہوئے رات بسر کرتا ہے “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی سند حسن ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث ، اس کے بعد آ رہی ہے ، جو اُس شخص کے بارے میں ہے ، جو باوضو حالت میں رات گزارتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” جو شخص باوضو حالت میں ، اللہ کا ذکر کرتے ہوئے رات بسر کرتا ہے “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی سند حسن ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث ، اس کے بعد آ رہی ہے ، جو اُس شخص کے بارے میں ہے ، جو باوضو حالت میں رات گزارتا ہے ۔
حدیث نمبر: 1131
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : إِذَا وَضَعْتَ الطَّهُورَ مَوَاضِعَهُ قَعَدْتَ مَغْفُورًا لَكَ ( فَإِنْ كُنْتَ تُصَلِّي كَانَتْ لَكَ فَضِيلَةٌ ) . فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا أَبَا أُمَامَةَ ، أَرَأَيْتَ إِنْ قَامَ يُصَلِّي تَكُونُ لَهُ نَافِلَةٌ ؟ قَالَ : لَا ، إِنَّمَا النَّافِلَةُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَيْفَ تَكُونُ لَهُ نَافِلَةٌ وَهُوَ يَسْعَى فِي الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا ؟ كَيْفَ تَكُونُ لَهُ فَضِيلَةٌ وَأَجْرٌ ؟ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . وَلَهُ طَرِيقٌ رَوَاهَا أَحْمَدُ ، ذَكَرْتُهَا فِي الْخَصَائِصِ فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ( یا انہوں نے یہ روایت بیان کی : ) جب تم صحیح طرح سے وضو کرتے ہو ، تو تم ایسی حالت میں ہو جاتے ہو ، کہ تمہاری مغفرت ہو چکی ہوتی ہے ، اور اگر تم نماز ادا کرتے ہو ، تو یہ تمہارے لئے فضیلت ( یعنی اضافی اجر و ثواب کے حصول کا باعث ) ہو گی ۔ ایک شخص بولا: اے سیدنا ابوامامہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ اگر وہ شخص کھڑا ہو کر نماز ادا کرتا ہے ، تو کیا یہ اُس کے لیے نفل ہو گی ( یعنی اس کو نفل کہا: جا سکتا ہے ؟ ) ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! یہ نفل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تھی ، یہ آدمی کے لئے نفل کیسے ہو سکتی ہے ؟ جبکہ انسان گناہوں اور خطاؤں کا ارتکاب کرتا رہتا ہے ، یہ اس کیلئے کیسے فضیلت اور اجر ہو سکتی ہے ؟
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، یہ ایک اور سند کے ساتھ بھی منقول ہے ، جسے امام أحمد نے نقل کیا ہے ، میں نے وہ روایت ” نبوت کی علامات سے متعلق خصوصیات “ والے باب میں ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، یہ ایک اور سند کے ساتھ بھی منقول ہے ، جسے امام أحمد نے نقل کیا ہے ، میں نے وہ روایت ” نبوت کی علامات سے متعلق خصوصیات “ والے باب میں ذکر کی ہے ۔
حدیث نمبر: 1132
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَنَّ الْمُؤَذِّنَ أَذَّنَ بِصَلَاةِ الْعَصْرِ . قَالَ : فَدَعَا عُثْمَانُ بِطَهُورٍ فَتَطَهَّرَ ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ تَوَضَّأَ كَمَا أُمِرَ ، وَصَلَّى كَمَا أُمِرَ - كُفِّرْتُ عَنْهُ ذُنُوبُهُ " فَاسْتَشْهَدَ عَلَى ذَلِكَ أَرْبَعَةً مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَهِدُوا لَهُ بِذَلِكَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ - وَحَدِيثُ عُثْمَانَ فِي الصَّحِيحِ نَحْوُهُ وَمَعْنَاهُ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
اہل مدینہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : مؤذن نے عصر کی نماز کے لئے اذان دی ، راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے وضو کے لیے پانی منگوا کر وضو کیا ، اور پھر یہ بات بیان کی : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص اسی طرح وضو کرے ، جس طرح اسے حکم دیا گیا ، اور اسی طرح نماز ادا کرے ، جس طرح اسے حکم دیا گیا ہے ، تو اس شخص کے گناہ ختم ہو جاتے ہیں “ ۔ پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کے حوالے سے چار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے گواہی طلب کی ، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اس بات کی گواہی دی ( کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ) ۔
حدیث نمبر: 1133
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّهُ دَعَا بِمَاءٍ ، فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَظَهَرِ قَدَمَيْهِ ثُمَّ ضَحِكَ فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : أَلَا تَسْأَلُونِي مَا أَضْحَكَنِي ؟ فَقَالُوا : مَا أَضْحَكَكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَوَضَّأَ كَمَا تَوَضَّأْتُ ، ثُمَّ ضَحِكَ فَقَالَ : " أَلَا تَسْأَلُونِي مَا أَضْحَكَنِي " . فَقَالُوا : مَا أَضْحَكَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا دَعَا بِوُضُوءٍ ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ كُلَّ خَطِيئَةٍ أَصَابَهَا بِوَجْهِهِ ، فَإِذَا غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ كَانَ كَذَلِكَ ، ( وَإِنْ مَسَحَ بِرَأْسِهِ كَانَ كَذَلِكَ ) وَإِذَا طَهَّرَ قَدَمَيْهِ كَانَ كَذَلِكَ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ ، وَقَدْ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے پانی منگوا کر کلی کی ، ناک میں پانی ڈالا ، اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا ، دونوں بازوؤں کو تین مرتبہ دھویا ، اپنے سر اور پاؤں کے اوپر والے حصے کا مسح کیا ( شاید انہوں نے اس وقت موزے پہنے ہوئے تھے ) پھر وہ ہنس پڑے ، اُنہوں نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا : کیا تم لوگ مجھ سے یہ نہیں پوچھو گے ؟ کہ میں کیوں ہنسا ہوں ؟ ساتھیوں نے دریافت کیا : اے امیر المؤمنین ! آپ کس بات پر ہنسے ہیں ؟ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ( ایک مرتبہ ) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسی طرح وضو کیا ، جس طرح میں نے کیا ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ مجھ سے یہ نہیں پوچھو گے ؟ کہ میں کس وجہ سے ہنسا ہوں ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کس وجہ سے ہنسے ہیں ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : ” جب کوئی بندہ وضو کے لیے پانی منگواتا ہے ، اور پھر اپنا چہرہ دھوتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی وہ تمام خطائیں ختم کر دیتا ہے جن کا تعلق اس کے چہرے سے ہو ، جب وہ اپنے بازو دھوتا ہے ، تو بھی اسی طرح ہوتا ہے ، جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو بھی اسی طرح ہوتا ہے ، جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے ، تو بھی اسی طرح ہوتا ہے “ ۔ علامہ ہیثمی بیان کرتے ہیں میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ،
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ،
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 1134
وَعَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : مَا أَدْرِي كَمْ حَدَّثَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَزْوَاجًا وَأَفْرَادًا ، قَالَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ يَتَوَضَّأُ ، فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ ، فَيَغْسِلُ بِوَجْهِهِ حَتَّى يَسِيلَ الْمَاءُ عَلَى ذَقْنِهِ ، ثُمَّ غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ حَتَّى يَسِيلَ الْمَاءُ عَلَى مِرْفَقَيْهِ ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ حَتَّى يَسِيلَ الْمَاءُ مِنْ كَعْبَيْهِ ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي - إِلَّا غَفَرَ لَهُ اللَّهُ مَا سَلَفَ مِنْ ذَنْبِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرَوَاهُ بِإِسْنَادٍ آخَرَ فَقَالَ : عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عِمَارَةَ ، وَقَالَ : هَكَذَا رَوَاهُ إِسْحَاقُ الدَّبَرِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ . وَوَهِمَ فِي اسْمِهِ ، وَالصَّوَابُ ثَعْلَبَةُ بْنُ عَبَّادٍ . وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
ثعلبہ بن عباد ، اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : مجھے نہیں معلوم ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی مرتبہ یہ بات ارشاد فرمائی ہے ؟ طاق تعداد میں ، یا جفت تعداد میں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” جب کوئی بندہ وضو کرتے ہوئے ، اچھی طرح وضو کرے اور اپنے چہرے کو دھوئے ، یہاں تک کہ پانی اس کی ٹھوڑی پر بہہ جائے ، پھر وہ دونوں بازو دھوئے ، یہاں تک کہ پانی اس کی کہنیوں پر بہہ جائے ، پھر وہ اپنے پاؤں دھوئے ، یہاں تک کہ پانی اس کے ٹخنوں پر بہہ جائے ، پھر وہ کھڑا ہو کر نماز ادا کرے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، انہوں نے اس روایت کو ایک اور سند کے حوالے سے نقل کیا ہے ، اور یہ فرمایا ہے : یہ ثعلبہ بن عمارہ سے منقول ہے ، وہ فرماتے ہیں : اسحاق دبری نے اسے ، اسی طرح امام عبدالرزاق کے حوالے سے نقل کیا ہے اور راوی کے نام کے بارے میں انہیں وہم ہوا ہے ، کیونکہ درست نام ” ثعلبہ بن عباد “ ہے ، اس روایت کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، انہوں نے اس روایت کو ایک اور سند کے حوالے سے نقل کیا ہے ، اور یہ فرمایا ہے : یہ ثعلبہ بن عمارہ سے منقول ہے ، وہ فرماتے ہیں : اسحاق دبری نے اسے ، اسی طرح امام عبدالرزاق کے حوالے سے نقل کیا ہے اور راوی کے نام کے بارے میں انہیں وہم ہوا ہے ، کیونکہ درست نام ” ثعلبہ بن عباد “ ہے ، اس روایت کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 1135
وَعَنْ أَبِي عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ يَقُولُ : لَا أَقُولُ الْيَوْمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا لَمْ يَقُلْ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " رَجُلَانِ مِنْ أُمَّتِي يَقُومُ أَحَدُهُمَا مِنَ اللَّيْلِ ، فَيُعَالِجُ نَفْسَهُ إِلَى الطَّهُورِ وَعَلَيْهِ عُقَدٌ ، فَيَتَوَضَّأُ ; فَإِذَا وَضَّأَ يَدَهُ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ ، وَإِذَا وَضَّأَ وَجْهَهُ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ ، وَإِذَا مَسَحَ رَأْسَهُ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ ، وَإِذَا وَضَّأَ رِجْلَيْهِ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ ، فَيَقُولُ الرَّبُّ - عَزَّ وَجَلَّ - لِلَّذِي وَرَاءَ الْحِجَابِ : انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا يُعَالِجُ نَفْسَهُ ، مَا سَأَلَنِي عَبْدِي فَهُوَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَزَادَ فِيهِ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ جَهَنَّمَ " ، وَزَادَ : " رِجَالٌ مِنْ أُمَّتِي يَقُومُ أَحَدُهُمْ مِنَ اللَّيْلِ " فَذَكَرَهُ ، وَلَهُ سَنَدَانِ عِنْدَهُمَا ، رِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوعشانہ معافری بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا عقبہ بن عامر : کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : میں نبی اکرم ْ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی ایسی بات بیان نہیں کروں گا ، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد نہ فرمائی ہو ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میری امت کے دو افراد ہیں ، اُن میں سے ایک رات کے وقت اُٹھتا ہے اور خود کو طہارت کے لیے تیار کرتا ہے ، اُس پر گرہیں لگی ہوئی ہوتی ہیں ، وہ وضو کرتا ہے ، جب وہ ہاتھ پر وضو کرتا ہے ، تو ایک گرہ کھل جاتی ہے ، جب وہ بازو پر وضو کرتا ہے ، تو ایک گرہ کھل جاتی ہے ، جب وہ سر پر مسح کرتا ہے ، تو ایک گرہ کھل جاتی ہے ، جب وہ اپنے پاؤں پر وضو کرتا ہے ، تو ایک گرہ کھل جاتی ہے ، حجاب کے پیچھے سے پروردگار ( فرشتوں سے ) یہ فرماتا ہے : میرے اس بندے کی طرف دیکھو ! جو اپنے آپ کو ( میری عبادت کے لیے ) تیار کر رہا ہے ، میرا یہ بندہ مجھ سے جو مانگے گا ، وہ اسے ملے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے انہوں نے اس روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص میری طرف کوئی ایسی بات منسوب کرے ، جو میں نے نہ کہی ہو ، تو اسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے “ انہوں نے یہ الفاظ بھی زائد نقل کئے ہیں : ” میری اُمت سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد ہیں ، اُن میں سے ایک رات کے وقت اٹھتا ہے “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ، ان دونوں حضرات ( یعنی امام أحمد اور امام طبرانی ) نے اس روایت کو دو اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے ، جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے انہوں نے اس روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص میری طرف کوئی ایسی بات منسوب کرے ، جو میں نے نہ کہی ہو ، تو اسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے “ انہوں نے یہ الفاظ بھی زائد نقل کئے ہیں : ” میری اُمت سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد ہیں ، اُن میں سے ایک رات کے وقت اٹھتا ہے “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ، ان دونوں حضرات ( یعنی امام أحمد اور امام طبرانی ) نے اس روایت کو دو اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے ، جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 1136
وَعَنْ مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ - أَوْ كَعْبِ بْنِ مُرَّةَ - قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَيُّ اللَّيْلِ أَسْمَعُ ؟ قَالَ : " جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرِ " - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، إِلَى أَنْ قَالَ : " فَإِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ فَغَسَلَ يَدَيْهِ خَرَّتْ خَطَايَاهُ مِنْ يَدَيْهِ ، فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ خَرَّتْ خَطَايَاهُ مِنْ وَجْهِهِ ، فَإِذَا غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ خَرَّتْ خَطَايَاهُ مِنْ ذِرَاعَيْهِ ، وَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَّتْ خَطَايَاهُ مِنْ رِجْلَيْهِ " . قَالَ شُعْبَةُ : لَمْ يَذْكُرْ مَسْحَ الرَّأْسِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مرہ بن کعب رضی اللہ عنہ ، یا شاید سیدنا کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا : رات کے کون سے حصے میں دعا جلدی قبول ہوتی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : رات کا آخری نصف حصہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث نقل کی ہے جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب بندہ وضو کرتے ہوئے ہاتھ دھوتا ہے ، تو اس کے ہاتھوں سے اس کے گناہ گر جاتے ہیں ، جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے ، تو اس کے چہرے سے گناہ گر جاتے ہیں ، جب وہ اپنے بازو دھوتا ہے ، تو اس کے بازو سے اس کے گناہ گر جاتے ہیں ، جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے ، تو اس کے پاؤں سے ، اس کے گناہ گر جاتے ہیں “ ۔ شعبہ نامی راوی کہتے ہیں : اس حدیث میں انہوں نے سر پر مسح کرنے کا ذکر نہیں کیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 1137
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ أُمَّتِي أَحَدٌ إِلَّا وَأَنَا أَعْرِفُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ رَأَيْتَ ؟ وَمَنْ لَمْ تَرَ ؟ قَالَ : " مَنْ رَأَيْتُ وَمَنْ لَمْ أَرَ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الطَّهُورِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ” قیامت کے دن ، میں اپنی امت کے ہر ایک فرد کو پہچان لوں گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس شخص کو بھی جسے آپ نے دیکھا ہے ، اور اُس کو بھی ، جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں دیکھا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جسے میں نے دیکھا ہے اور جسے میں نے نہیں دیکھا ہے ( دونوں قسم کے افراد کو میں پہچان لوں گا ) کیونکہ وہ وضو کے آثار کی وجہ سے چمکدار پیشانیوں والے ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 1138
وَعَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ نَهْرٍ يُغْتَسَلُ مِنْهُ خَمْسَ مَرَّاتٍ ، فَمَا عَسَى أَنْ يُبْقِينَ عَلَيْهِ مِنْ دَرَنِهِ ؟ يَقُومُ إِلَى الْوُضُوءِ فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ ، فَيَتَنَاثَرُ كُلُّ خَطِيئَةٍ مَسَّ بِهَا يَدَيْهِ ، وَيُمَضْمِضُ فَيَتَنَاثَرُ كُلُّ خَطِيئَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا لِسَانُهُ ، ثُمَّ يَغْسِلُ وَجْهَهُ فَيَتَنَاثَرُ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَتْ بِهَا عَيْنَاهُ ، ثُمَّ يَمْسَحُ رَأْسَهُ فَيَتَنَاثَرُ كُلُّ خَطِيئَةٍ سَمِعَتْ بِهَا أُذُنَاهُ ، ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ فَيَتَنَاثَرُ كُلُّ خَطِيئَةٍ مَشَتْ بِهَا قَدَمَاهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ سُحَيْمٍ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میری اُمت کی مثال نہر کی مانند ہے ، جس میں پانچ مرتبہ غسل کیا جاتا ہے ، تو ایسے شخص پر کوئی میل باقی نہیں رہے گا ( اسی طرح میری امت کا کوئی شخص ) وضو کے لیے اٹھتا ہے اور دونوں ہاتھ دھوتا ہے ، تو اس کا ہر وہ گناہ گر جاتا ہے ، جس کو اس نے اپنے ہاتھوں کے ذریعے چھوا تھا ، جب وہ کلی کرتا ہے ، تو ہر وہ گناہ گر جاتا ہے ، جس کے بارے میں اس کی زبان نے کلام کیا تھا ، پھر وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے ، تو ہر وہ گناہ گر جاتا ہے ، جس کی طرف اس کی آنکھوں نے دیکھا تھا ، جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو ہر وہ گناہ گر جاتا ہے ، جسے اُس کے کانوں نے سنا تھا ، پھر جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے ، تو ہر وہ گناہ گر جاتا ہے ، جس کی طرف اُس کے پاؤں چل کر گئے تھے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن سحیم ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن سحیم ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
حدیث نمبر: 1139
وَعَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الْخَصْلَةَ الصَّالِحَةَ تَكُونُ فِي الرَّجُلِ ، فَيُصْلِحُ اللَّهُ بِهَا عَمَلَهُ كُلَّهُ ، وَطَهُورُ الرَّجُلِ لِصَلَاتِهِ يُكَفِّرُ اللَّهُ بِطَهُورِهِ ذُنُوبَهُ ، وَتَبْقَى صَلَاتَهُ لَهُ نَافِلَةً " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ بَشَّارُ بْنُ الْحَكَمِ ، ضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : أَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” کوئی نیک عادت ، جو کسی شخص میں موجود ہو ، تو اللہ تعالیٰ اس عادت کی وجہ سے اس شخص کے پورے عمل کو ٹھیک کر دیتا ہے ، اور آدمی کا نماز کے لیے وضو کرنا ، اللہ تعالیٰ اس کے وضو کرنے کی وجہ سے اس کے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے ، اور اس شخص کی نماز اس کے لیے نفل ( یعنی اضافی اجر و ثواب کے حصول کے باعث ) کے طور پر ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ ، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بشار بن حکم ہے ، جسے ابوزرعہ اور ابن حبان نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : مجھے یہ امید ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ ، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بشار بن حکم ہے ، جسے ابوزرعہ اور ابن حبان نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : مجھے یہ امید ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا ۔
حدیث نمبر: 1140
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَا أَوَّلُ مَنْ يُؤْذَنُ لَهُ بِالسُّجُودِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يَرْفَعُ رَأْسَهُ ، فَأَنْظُرُ بَيْنَ يَدَيَّ ، فَأَعْرِفُ أُمَّتِي مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ ، وَمِنْ خَلْفِي مِثْلُ ذَلِكَ ، وَعَنْ يَمِينِي مِثْلُ ذَلِكَ ، وَعَنْ شِمَالِي مِثْلُ ذَلِكَ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : كَيْفَ تَعْرِفُ أُمَّتَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ فِيمَا بَيْنَ نُوحٍ إِلَى أُمَّتِكَ ؟ قَالَ : " هُمْ غُرٌّ مُحَجَّلُونَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ ، لَيْسَ لِأَحَدٍ ذَلِكَ غَيْرُهُمْ ، وَأَعْرِفُهُمْ أَنَّهُمْ يُؤْتَوْنَ كُتُبَهُمْ بِأَيْمَانِهِمْ ، وَأَعْرِفُهُمْ تَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ ذُرِّيَّتُهُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . وَلَهُ طَرِيقٌ تَأْتِي فِي الْبَعْثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ” میں وہ پہلا شخص ہوؤں گا ، جسے قیامت کے دن سجدہ کرنے کی اجازت دی جائے گی ، اور میں وہ پہلا شخص ہوؤں گا ، جو اپنا سر ( قیامت کے دن سجدہ سے ) اٹھائے گا ، میں اپنے سامنے دیکھوں گا ، تو تمام امتوں کے درمیان ، اپنی امت کو پہچان لوں گا ، میرے پیچھے بھی اسی طرح ہو گا ، میرے دائیں طرف بھی اسی طرح ہو گا ، میرے بائیں طرف بھی اسی طرح ہو گا ( یعنی دیگر تمام امتوں کے درمیان ، میں اپنی امت کے افراد کو پہچان لوں گا ) ایک صاحب نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! آپ سیدنا نوح علیہ السلام سے لے کر ، اپنی امت تک کی دیگر تمام امتوں کے درمیان ، اپنی امت کو کیسے پہچانیں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وضو کے اثر کی وجہ سے ، وہ لوگ روشن اور چمکدار ہوں گے ، یہ نشانی اُن کے علاوہ کسی اور کی نہیں ہو گی ، میں انہیں پہچان لوں گا ، کہ اُن کے نامہ اعمال اُن کے دائیں ہاتھ میں ہوں گے ، اور میں انہیں پہچان لوں گا کہ اُن کے بچے اُن کے آگے بھاگ رہے ہوں گے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام طبرانی نے اسے معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس روایت کے اور طرق بھی ہیں ، جو آگے چل کر ” دوبارہ زندہ کیے جانے “ سے متعلق باب میں آئیں گے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام طبرانی نے اسے معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس روایت کے اور طرق بھی ہیں ، جو آگے چل کر ” دوبارہ زندہ کیے جانے “ سے متعلق باب میں آئیں گے ۔
حدیث نمبر: 1141
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ تَرَ مِنْ أُمَّتِكَ ؟ قَالَ : " غُرٌّ مُحَجَّلُونَ مِنَ الْوُضُوءِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَسَنُ بْنُ حُسَيْنٍ الْعَرَبِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے جن افراد کو نہیں دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُنہیں کیسے پہچانیں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ وضو کی وجہ سے روشن اور چمکدار ( پیشانیوں کے مالک ) ہوں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن حسین عربی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن حسین عربی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 1142
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ تَرَ مِنْ أُمَّتِكَ ؟ قَالَ : " غُرًّا " . أَحْسَبُهُ قَالَ : " مُحَجَّلُونَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! آپ اُس شخص کو کیسے پہچانیں گے ؟ اپنی امت کے جس شخص کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ دیکھا ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : چمک کی وجہ سے ( راوی بیان کرتے ہیں : ) میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : وضو کے آثار کی وجہ سے ، وہ روشن ہوں گے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 1143
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : جِئْتُ فِي اثْنَيْ عَشَرَ رَاكِبًا حَتَّى حَلَلْنَا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ أَصْحَابِي : مَنْ يَرْعَى لَنَا إِبِلَنَا وَنَنْطَلِقُ فَنَقْتَبِسُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا رَاحَ اقْبَسْنَاهُ مَا سَمِعْنَا ؟ فَقُلْتُ : أَنَا ، ثُمَّ قُلْتُ فِي نَفْسِي : لَعَلِّي مَغْبُونٌ ، أَيَسْمَعُ أَصْحَابِي مَا لَمْ أَسْمَعْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَحَضَرْتُ يَوْمًا ، فَسَمِعْتُ رَجُلًا يَقُولُ : قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ تَوَضَّأَ وُضُوءًا كَامِلًا ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ - كَانَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي كِتَابِ الْإِيمَانِ تَقَدَّمَ ، وَتَقَدَّمَ الْكَلَامُ عَلَيْهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں بارہ افراد سمیت آیا ، یہاں تک کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( کے شہر مبارک ) میں حاضر ہوئے میرے ساتھیوں نے کہا: کون شخص اونٹوں کی دیکھ بھال کرے گا ؟ تاکہ ہم جا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے استفادہ کریں ، جب ہم واپس آئیں گے ، تو اُسے وہ بتا دیں گے ، جو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا ، میں نے کہا: میں ایسا کروں گا ، پھر میں نے بعد میں سوچا ، اس حوالے سے میں تو نقصان میں رہوں گا ، کیونکہ میرے ساتھی جو بات سن لیں گے ، وہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنی ہو گی ، ایک دن میری موجودگی میں ، میں نے ایک شخص کو سنا ، وہ بیان کر رہا تھا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص پورا وضو کرے اور پھر نماز کے لیے کھڑا ہو جائے ، تو وہ اپنے گناہوں کے حوالے سے یوں ہو جاتا ہے ، جیسے اُس دن تھا ، جب اُس کی والدہ نے اُسے جنم دیا تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور یہ مکمل روایت کتاب الایمان میں گزر چکی ہے اور اس روایت پر کلام بھی گزر چکا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور یہ مکمل روایت کتاب الایمان میں گزر چکی ہے اور اس روایت پر کلام بھی گزر چکا ہے ۔
حدیث نمبر: 1144
وَعَنْ أَبِي لُبَابَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الطَّهُورِ فَقَالَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُمَضْمِضُ فَاهُ إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ كُلَّ خَطِيئَةٍ أَصَابَهَا بِلِسَانِهِ ذَلِكَ الْيَوْمَ ، وَلَا يَغْسِلُ يَدَيْهِ إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ ، وَلَا يَمْسَحُ بِرَأْسِهِ إِلَّا كَانَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ ، وَقَدْ جَمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابولبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے طہارت حاصل کرنے ( یعنی وضو کے ) کے بارے میں سوال کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو مسلمان ( وضو کرتے ہوئے ) اپنا منہ دھوتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے ہر اس گناہ کی مغفرت کر دیتا ہے ، جس کا ارتکاب اس شخص نے اس دن میں ، اپنی زبان کے ذریعے کیا ہو اور جب آدمی اپنے بازو دھوتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے اس دن کے ان گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہے ، جن کا ارتکاب اس کے ہاتھوں نے کیا ہو ، اور جب وہ اپنے سر پر مسح کرتا ہے ( تو گناہوں سے پاک ہونے کے حوالے سے ) وہ اُس دن کی مانند ہو جاتا ہے ، جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
حدیث نمبر: 1145
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ ، فَيُمَضْمِضُ إِلَّا خَرَجَ مَعَ قَطْرِ الْمَاءِ كُلُّ سَيِّئَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا لِسَانُهُ ، وَلَا يَسْتَنْشِقُ إِلَّا خَرَجَ مَعَ قَطْرِ الْمَاءِ كُلُّ سَيِّئَةٍ وَجَدَ رِيحَهَا بِأَنْفِهِ ، وَلَا يَغْسِلُ وَجْهَهُ إِلَّا تَنَاثَرَ مِنْ عَيْنَيْهِ مَعَ قَطْرِ الْمَاءِ كُلُّ سَيِّئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِهِمَا ، وَلَا يَغْسِلُ شَيْئًا مِنْ يَدَيْهِ إِلَّا خَرَجَ مَعَ قَطْرِ الْمَاءِ كُلُّ سَيِّئَةٍ بَطَشَ بِهَا ، وَلَا يَغْسِلُ شَيْئًا مِنْ رِجْلَيْهِ إِلَّا خَرَجَ مَعَ قَطْرِ الْمَاءِ كُلُّ سَيِّئَةٍ مَشَى بِهِمَا إِلَيْهَا ، فَإِذَا خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ خَطَاهَا حَسَنَةٌ ، وَمُحِيَ بِهَا عَنْهُ سَيِّئَةٌ ، حَتَّى يَأْتِيَ مَقَامَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو مسلمان نماز کے لیے وضو کرتا ہے ، تو جب وہ کلی کرتا ہے ، تو پانی کے قطروں کے ساتھ اس کا ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے ، جس کے بارے میں اس کی زبان نے کلام کیا تھا ، جب وہ ناک میں پانی ڈالتا ہے ، تو پانی کے قطروں کے ساتھ اس کا ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے جس کی بو کو اس نے اپنی ناک کے ذریعے محسوس کیا تھا ، جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے ، تو پانی کے قطروں کے ہمراہ اس کی آنکھوں سے ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے ، جس کی طرف اس نے ان دونوں آنکھوں کے ذریعے دیکھا تھا ، جب وہ اپنے دونوں بازو دھوتا ہے ، تو پانی کے قطروں کے ہمراہ ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے ، جس کو اس نے ہاتھ کے ذریعے پکڑا تھا ، جب وہ پاؤں دھوتا ہے ، تو پانی کے قطروں کے ہمراہ ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے ، جس کی طرف وہ اپنے پاؤں کے ذریعے چل کر گیا تھا ، پھر جب وہ مسجد کی طرف جاتا ہے ، تو ہر ایک قدم اٹھانے پر اس کے لیے ایک نیکی نوٹ کی جاتی ہے ، اور اس کے ایک گناہ کو مٹا دیا جاتا ہے ، یہاں تک کہ وہ اپنی جگہ پر پہنچ جائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، یہ ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، یہ ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔