کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: بنی اسرائیل کے حوالے سے کوئی بات بیان کرنا
عنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " حَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ; فَإِنَّهُ كَانَ فِيهِمُ الْعَجَائِبُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي وَكِيعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بنی اسرائیل کے حوالے سے بات بیان کر دو ، کیونکہ ان میں حیران کن چیزیں ہیں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد جعفر بن محمد بن ابووکیع کے حوالے سے ، اُن کے والد سے نقل کی ہے ، میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 919
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 192»
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحَدِّثُنَا عَامَّةَ لَيْلِهِ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، لَا يَقُومُ إِلَّا لِعِظَمِ الصَّلَاةِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے زیادہ تر حصے میں ہمیں بنی اسرائیل کے بارے میں باتیں بیان کیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( وہ گفتگو ختم کر کے ) صرف اس لئے اٹھ گئے ، کیونکہ نماز ادا کرنی تھی ۔
یہ روایت امام بزار اور امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 920
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 1437/4 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 207/18 اورده المؤلف فى زوائد المسند 173 اورده المؤلف فى كشف الاستار 230»
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَصْحَابِهِ : " لَقَدْ قَبَضَ اللَّهُ دَاوُدَ ، فَمَا فَتَنُوا وَلَا بَدَّلُوا ، وَلَقَدْ مَكَثَ أَصْحَابُ الْمَسِيحِ عَلَى هَدْيِهِ وَسُنَّتِهِ مِائَتَيْ سَنَةٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے ارشاد فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا داؤد کو وفات دی ، تو وہ لوگ کسی آزمائش کا شکار نہیں ہوئے ، اور انہوں نے ( اپنے دین میں ) کوئی تبدیلی نہیں کی ، اسی طرح سیدنا مسیح علیہ السلام کے پیروکار ، دو سو سال تک اُن کی ہدایت اور سنت پر گامزن رہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 921
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ وَالزَّهْوَ ; فَإِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ قَدْ غَلَا كَثِيرٌ مِنْهُمْ ، حَتَّى كَانَتِ الْمَرْأَةُ الْقَصِيرَةُ تَتَّخِذُ خُفَّيْنِ مِنْ خَشَبٍ تَحْشُوهُمَا ، ثُمَّ تُدْخِلُ فِيهِمَا رِجْلَيْهَا ، ثُمَّ تَعْمِدُ إِلَى الْمَرْأَةِ الطَّوِيلَةِ فَتَمْشِي مَعَهَا ، فَإِذَا هِيَ قَدْ سَاوَتْ بِهَا [ أَوْ ] كَانَتْ أَطْوَلَ مِنْهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ : مَرْوَانُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَقَالَ الْأَزْدِيُّ : يَتَكَلَّمُونَ فِيهِ ، وَقَالَ الذَّهَبِيُّ : وَلَهُ نُسْخَةٌ فِيهَا مَنَاكِيرُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم غلو اور نمائش سے بچ کے رہو ! کیونکہ بنی اسرائیل میں سے بہت سے لوگوں نے غلو کیا ، یہاں تک کہ ایک چھوٹے قد کی عورت نے لکڑی کے موزے بنوائے ، اور پھر ان میں پاؤں داخل کیے ، پھر وہ ایک طویل القامت عورت کے پاس گئی اور اس کے ساتھ چلنے لگی ، تو وہ اس کے برابر ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) اُس سے زیادہ طویل لگ رہی تھی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مروان بن جعفر ہے ، جسے ابن ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے ، ازدی فرماتے ہیں : محدثین نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : اس کے حوالے سے ایک نسخہ منقول ہے جس میں منکر روایات ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 922
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 7094»