حدیث نمبر: 900
عَنْ خَبَّابٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَمَّا هَلَكُوا قُصُّوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، وَاخْتُلِفَ فِي الْأَجْلَحِ الْكِنْدِيِّ ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَوْثِيقِهِ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خباب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بنی اسرائیل اُس وقت ہلاکت کا شکار ہوئے ، جب انہوں نے قصے بیان کرنا شروع کر دیے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اجلح کندی نامی راوی کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ، اکثر حضرات نے اُس کی توثیق کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اجلح کندی نامی راوی کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ، اکثر حضرات نے اُس کی توثیق کی ہے ۔
حدیث نمبر: 901
وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ مُعَاوِيَةَ أَنَّهُ رَكِبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَسْأَلُهُ عَنْ ثَلَاثِ خِلَالٍ . قَالَ : فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ فَسَأَلُهُ عُمَرُ : مَا أَقْدَمَكَ ؟ قَالَ : لِأَسْأَلَكَ عَنْ ثَلَاثِ خِلَالٍ . قَالَ : وَمَا هِيَ ؟ قَالَ : رُبَّمَا كُنْتُ أَنَا وَالْمَرْأَةُ فِي بِنَاءٍ ضَيِّقٍ فَتَحْضُرُ الصَّلَاةُ ، فَإِنْ صَلَّيْتُ أَنَا وَهِيَ كَانَتْ بِحِذَائِي ، فَإِنْ صَلَّتْ خَلْفِي خَرَجَتْ مِنَ الْبِنَاءِ . قَالَ : تَسْتُرُ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بِثَوْبٍ ، ثُمَّ تُصَلِّي بِحِذَائِكَ إِنْ شِئْتَ ، وَعَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ . قَالَ : نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْهُمَا . قَالَ : وَعَنِ الْقِصَصِ . قَالَ : مَا شِئْتَ - كَأَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَمْنَعَهُ - . قَالَ : إِنَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أَنْتَهِيَ إِلَى قَوْلِكَ ، قَالَ : أَخْشَى عَلَيْكَ أَنْ تَقُصَّ فَتَرْتَفِعَ فِي نَفْسِكَ ، ثُمَّ تَقُصُّ فَتَرْتَفِعَ فِي نَفْسِكَ ، حَتَّى يُخَيَّلَ إِلَيْكَ أَنَّكَ فَوْقَهُمْ بِمَنْزِلَةِ الثُّرَيَّا ، فَيَضَعَكَ اللَّهُ تَحْتَ أَقْدَامِهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَدْرِ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْحَارِثُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْكِنْدِيُّ ؛ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَرَوَى عَنْهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
حارث بن معاویہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ سوار ہو کر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تاکہ اُن سے تین چیزوں کے بارے میں دریافت کریں ، راوی بیان کرتے ہیں : جب وہ مدینہ منورہ آئے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا : تم کیوں آئے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : اس لئے تاکہ میں آپ سے تین چیزوں کے بارے میں دریافت کروں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ کیا ہیں ؟ حارث نے کہا: بعض اوقات میں اور ایک عورت کسی تنگ جگہ پر موجود ہوتے ہیں ، نماز کا وقت ہو جاتا ہے ، اگر میں اور وہ دونوں نماز ادا کرتے ہیں ، تو وہ میرے بالکل برابر ہوتی ہے ، اور اگر وہ مجھ سے پیچھے نماز ادا کرے ، تو وہ عمارت سے باہر ہو جاتی ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم کسی کپڑے کے ذریعے اپنے اور اُس کے درمیان پردہ ڈال لینا ، پھر اگر تم چاہو تو وہ تمہارے برابر کھڑی ہو کر نماز ادا کر سکے گی ، حارث نے دریافت کیا : عصر کے بعد کی دو رکعات ( کے بارے میں ، میں دریافت کرنا چاہتا ہوں ) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان سے منع کیا ہے ( راوی نے دریافت کیا : ) قصے بیان کرنے ( کے بارے میں ، میں دریافت کرنا چاہتا ہوں ) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جو تم چاہو ! ( یعنی تم قصے بیان کر سکتے ہو ) گویا انہوں نے اس بات کو ناپسندیدہ قرار دیا کہ انہیں اس سے منع کر دیں ، حارث نے کہا: میں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ میں آپ کے قول کی پیروی کروں گا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” مجھے تمہارے بارے میں یہ اندیشہ ہے کہ جب تم قصہ بیان کرو گے ( یعنی وعظ کرو گے ) تو تم خود کو بڑا سمجھو گے ، پھر تم قصہ بیان کرو گے تو خود کو ( مزید ) بلند سمجھو گے ، یہاں تک کہ تمہیں یہ محسوس ہو گا کہ تم ان لوگوں سے اتنے بلند ہو ، جتنا ثریا ستارہ بلند ہوتا ہے ، تو قیامت کے دن اسی مقدار کے حوالے سے اللہ تعالیٰ تمہیں اُن لوگوں کے قدموں کے نیچے رکھ دے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، حارث بن معاویہ کندی نامی راوی کو ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، ایک سے زیادہ افراد نے اس سے روایت نقل کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال میں سے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، حارث بن معاویہ کندی نامی راوی کو ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، ایک سے زیادہ افراد نے اس سے روایت نقل کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال میں سے ہیں ۔
حدیث نمبر: 902
وَعَنْ أَبِي صَالِحٍ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ [ الْغِفَارِيِّ أَنَّ سَلِيمَ ] بْنَ عُتْرٍ التُّجِيبِيَّ كَانَ يَقُصُّ عَلَى النَّاسِ وَهُوَ قَائِمٌ ، فَقَالَ لَهُ صِلَةُ بْنُ الْحَارِثِ الْغِفَارِيُّ - وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : وَاللَّهِ مَا تَرَكْنَا عَهْدَ نَبِيِّنَا ، وَلَا قَطَعْنَا أَرْحَامَنَا ، حَتَّى قُمْتَ أَنْتَ وَأَصْحَابُكَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوصالح سعيد بن عبدالرحمن غفاری بیان کرتے ہیں : سلیم بن عتر تجیبی کھڑا ہو کر لوگوں کو وعظ کر رہا تھا ، تو سیدنا صلہ بن حارث غفاری رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ، اُنہوں نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! ہم ( یعنی ہمارے زمانے کے عام لوگوں ) نے اپنے نبی کے عہد کو ترک نہیں کیا ، اور رشتہ داری کے حقوق کو پامال نہیں کیا ، یہاں تک کہ تم اور تمہارے ساتھی ہمارے درمیان کھڑے ہونے لگے ( یعنی جب تم جیسے لوگوں نے وعظ کرنا شروع کیا تو عام لوگ خرابی کا شکار ہو گئے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 903
وَعَنْ عَمْرِوِ بْنِ زُرَارَةَ قَالَ : وَقَفَ عَلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - وَأَنَا أَقُصُّ فَقَالَ : يَا عَمْرُو ، لَقَدِ ابْتَدَعْتَ بِدْعَةً ضَلَالَةً أَوْ إِنَّكَ لَأَهْدَى مِنْ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابِهِ ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُمْ تَفَرَّقُوا عَنِّي حَتَّى رَأَيْتُ مَكَانِي مَا فِيهِ أَحَدٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَلَهُ إِسْنَادَانِ أَحَدُهُمَا رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، رَوَاهُ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ . ¤
محمد محی الدین
عمرو بن زرارہ بیان کرتے ہیں : میں وعظ کر رہا تھا ، اسی دوران سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ میرے پاس آ کر کھڑے ہوئے اور بولے : تم نے گمراہی والی بدعت اختیار کی ہے ؟ یا تم خود کو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے اصحاب سے زیادہ ہدایت یافتہ سمجھتے ہو ؟ میں نے ان لوگوں کو دیکھا ہے ، جو میرے ( یعنی سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ) کے پاس سے تو اُٹھ گئے تھے ، یہاں تک کہ میرے گھر میں ان میں سے ایک بھی موجود نظر نہیں آیا ( اور یہ لوگ تمہارے گرد اکٹھے ہو کر بیٹھے ہوئے ہیں ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی دو اسناد ہیں ، جن میں سے ایک سند کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، یہ روایت اسود نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی دو اسناد ہیں ، جن میں سے ایک سند کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، یہ روایت اسود نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 904
وَعَنْ يَحْيَى الْبَكَّاءِ قَالَ : رَأَى ابْنُ عُمَرَ قَاصًّا فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَعَهُ ابْنٌ لَهُ ، فَقَالَ لَهُ ابْنُهُ : أَيُّ شَيْءٍ يَقُولُ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا يَقُولُ : اعْرِفُونِي اعْرِفُونِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَيَحْيَى الْبَكَّاءُ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
یحیی البکاء بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مسجد حرام میں ایک واعظ کو دیکھا ، اُن کے ساتھ اُن کے صاحبزادے بھی تھے ، اُن کے صاحبزادے نے اُن سے دریافت کیا : یہ ( واعظ ) شخص کس بارے میں گفتگو کر رہا ہے ؟ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ کہتا ہے : مجھے پہچانو ! مجھے پہچانو !
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی البکاء ہے جو متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی البکاء ہے جو متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 905
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ دِينَارٍ أَنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرَ فِي الْقَصَصِ فَأَبَى أَنْ يَأْذَنَ لَهُ ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَهُ فَأَبَى أَنْ يَأْذَنَ لَهُ ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَهُ فَقَالَ : إِنْ شِئْتَ وَأَشَارَ بِيَدِهِ - يَعْنِي الذَّبْحَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ . ¤
محمد محی الدین
عمر بن دینار بیان کرتے ہیں : سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے وعظ کہنے کی اجازت مانگی ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا ، انہوں نے پھر اجازت مانگئی ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا ، انہوں نے پھر اجازت مانگی ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر تم چاہتے ہو ۔ پھر انہوں نے اپنے ہاتھ کے زریعے اشارہ کر کے یہ کہا: کہ ذبح کر دیا جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف یہ ہے کہ عمرو بن دینار نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف یہ ہے کہ عمرو بن دینار نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 906
وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُقَصُّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا أَبِي بَكْرٍ . كَانَ أَوَّلَ مَنْ قَصَّ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ ، اسْتَأْذَنَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَنْ يَقُصَّ عَلَى النَّاسِ قَائِمًا فَأَذِنَ لَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سائب بن یزید بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں قصہ گوئی نہیں کی جاتی تھی ، اس کا آغاز سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ نے کیا ، انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے یہ اجازت مانگی کہ وہ لوگوں کے سامنے کھڑے ہو کر قصے بیان کریں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دیدی ۔
یہ روایت امام أحمد نے ( اپنی مسند میں ) اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے جو ثقہ ہے ، لیکن تدلیس کرنے والا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ( اپنی مسند میں ) اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے جو ثقہ ہے ، لیکن تدلیس کرنے والا ہے ۔
حدیث نمبر: 907
وَعَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْخَوْلَانِيِّ قَالَ : دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَسْجِدَ فَإِذَا كَعْبٌ يَقُصُّ . قَالَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : كَعْبٌ يَقُصُّ . قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا يَقُصُّ إِلَّا أَمِيرٌ ، أَوْ مَأْمُورٌ ، أَوْ مُخْتَالٌ " قَالَ : فَبَلَغَ ذَلِكَ كَعْبًا ، فَمَا رُؤِيَ بَعْدُ يَقُصُّ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالجبار خولانی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی مسجد میں داخل ہوئے ، تو وہاں کعب قصے بیان کر رہے تھے ، اُن صحابی نے دریافت کیا : یہ کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا : یہ کعب ہے ، جو قصے بیان کر رہے ہیں ، تو صحابی نے فرمایا : میں نے اللہ کے رسول کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” کوئی شخص قصے بیان نہ کرے ، صرف امیر یا مامور ( یعنی جس کو سرکاری طور پر اس کام کے لیے مقرر کیا گیا ہو ) یا متکبر شخص قصے بیان کریں گے “ اس بات کی اطلاع کعب نامی شخص کو ملی ، تو اس کے بعد انہیں کبھی قصے بیان کرتے ہوئے نہیں دیکھا گیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 908
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا يَقُصُّ إِلَّا أَمِيرٌ ، أَوْ مَأْمُورٌ ، أَوَمُتَكَلِّفٌ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ غَيْرَ قَوْلِهِ : " أَوْ مُتَكَلِّفٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ زِيرَكٌ أَبُو الْعَبَّاسِ الرَّازِيُّ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” صرف امیر یا مامور ، یا تکلف کرنے والا شخص قصہ بیان کریں گے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ” یا تکلف کرنے والا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زیرک ابوعباس رازی ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زیرک ابوعباس رازی ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ۔
حدیث نمبر: 909
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عِيَاضٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْقُصَّاصُ ثَلَاثَةٌ : أَمِيرٌ ، أَوْ مَأْمُورٌ ، أَوْ مُخْتَالٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن عیاض رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قصہ بیان کرنے والے تین افراد ہوں گے ، امیر یا مامور یا متکبر شخص ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن یحیی اسکندرانی ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن یحیی اسکندرانی ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ۔
حدیث نمبر: 910
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَقُصُّ إِلَّا أَمِيرٌ ، أَوْ مَأْمُورٌ ، أَوْ مُتَكَلِّفٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” صرف امیر یا مامور یا تکلف کرنے والا شخص قصہ بیان کرے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 911
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى قَاصٍّ يَقُصُّ فَأَمْسَكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قُصَّ ، فَلَأَنْ أَقْعُدَ غَدْوَةً إِلَى أَنْ تُشْرِقَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، إِلَّا أَنَّ لَفْظَ الطَّبَرَانِيِّ : " أَقُصُّ ، فَلَأَنْ أَقْعُدَ هَذَا الْمُقْعَدَ مِنْ حِينِ تُصَلِّي الْغَدَاةَ إِلَى أَنْ تُشْرِقَ الشَّمْسُ " - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ إِلَّا أَنَّ فِيهِ أَبَا الْجَعْدِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ; فَإِنْ كَانَ هُوَ الْغَطْفَانِيَّ ، فَهُوَ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَهُ فَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قصہ بیان کرنے والے شخص کے پاس تشریف لائے ، جو کچھ بیان کر رہا تھا ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر وہ شخص رک گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم قصہ بیان کرو ! صبح سے لے کر سورج کے نکلنے تک میں بیٹھا رہوں ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں چار غلام آزاد کر دوں ، اور عصر کے بعد سے لے کر سورج غروب ہونے تک میں بیٹھا رہوں ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں چار غلام آزاد کر دوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے ( اپنی مسند میں ) اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، البتہ امام طبرانی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : ” تم قصہ بیان کرو ! میں یہاں بیٹھ جاؤں ، اُس وقت سے جب تم صبح کی نماز ادا کرتے ہو ، اس وقت سے لے کر سورج کے چمکنے تک ( بیٹھا رہوں ) “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، تاہم اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے ابوالجعد نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ، اگر تو یہ غطفانی ہے ، تو پھر یہ صحیح کے رجال میں سے ایک ہے ، اور اگر یہ اُس کے علاوہ کوئی اور ہے ، تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے ( اپنی مسند میں ) اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، البتہ امام طبرانی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : ” تم قصہ بیان کرو ! میں یہاں بیٹھ جاؤں ، اُس وقت سے جب تم صبح کی نماز ادا کرتے ہو ، اس وقت سے لے کر سورج کے چمکنے تک ( بیٹھا رہوں ) “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، تاہم اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے ابوالجعد نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ، اگر تو یہ غطفانی ہے ، تو پھر یہ صحیح کے رجال میں سے ایک ہے ، اور اگر یہ اُس کے علاوہ کوئی اور ہے ، تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 912
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَأَنْ أَقْعُدَ فِي مِثْلِ هَذَا الْمَجْلِسِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ " . قَالَ شُعْبَةُ : فَقُلْتُ : أَيَّ مَجْلِسٍ يَعْنِي ؟ قَالَ : كَانَ قَاصًّا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ كُرْدُوسُ بْنُ قَيْسٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
اہل بدر سے تعلق رکھنے والے ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اس طرح کی محفل میں میرا بیٹھ جانا ، میرے نزدیک چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے ۔ “ شعبہ نامی راوی بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد کون سی محفل تھی ؟ تو انہوں نے جواب دیا : قصہ بیان کرنے ( یعنی وعظ کرنے کی محفل تھی ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی کردوس بن قیس ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی کردوس بن قیس ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 913
وَعَنْ كُرْدُوسِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ - قَالَ شُعْبَةُ : أَرَاهُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ - : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَأَنْ نُفَصِّلَ الْمُفَصَّلَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا بَابًا " . قَالَ شُعْبَةُ : فَقُلْتُ لِعَبْدِ الْمَلِكِ : أَيُّ مُفَصَّلٍ ؟ قَالَ : الْقَصَصُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ . وَكُرْدُوسٌ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ : فِيهِ نَظَرٌ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
کردوس بن عمرو بیان کرتے ہیں : میں نے اہل بدر سے تعلق رکھنے والے ایک صحابی کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ، شعبہ نامی راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے وہ صحابی سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ ہوں گے ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں مفصل کو وضاحت کے ساتھ بیان کروں ، یہ میرے نزدیک اتنی چیزوں سے زیادہ پسندیدہ ہے ۔ “ شعبہ کہتے ہیں : میں نے ( اپنے استاد ) عبدالملک سے دریافت کیا : کون سی مفصل ؟ انہوں نے جواب دیا : قصے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، کردوس نامی راوی کو ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : اس میں غور و فکر کی گنجائش ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، کردوس نامی راوی کو ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : اس میں غور و فکر کی گنجائش ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 914
وَعَنِ الْعَبَادِلَةِ : عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالُوا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْقَاصُّ يَنْتَظِرُ الْمَقْتَ ، وَالْمُسْتَمِعُ يَنْتَظِرُ الرَّحْمَةَ ، وَالتَّاجِرُ يَنْتَظِرُ الرِّزْقَ ، وَالْمُحْتَكِرُ يَنْتَظِرُ اللَّعْنَةَ ، وَالنَّائِحَةُ وَمَنْ حَوْلِهَا مِنِ امْرَأَةٍ عَلَيْهِمْ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُمَا . ¤
محمد محی الدین
حضرات عبادلہ ، یعنی سیدنا عبداللہ بن عمر ، سیدنا عبداللہ بن عباس ، سیدنا عبداللہ بن زبیر اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم ، یہ حضرات روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” قصہ بیان کرنے والا ناراضگی کا منتظر ہوتا ہے ، سننے والا رحمت کا منتظر ہوتا ہے ، تاجر رزق کا منتظر ہوتا ہے ، ذخیرہ اندوزی کرنے والا لعنت کا منتظر ہوتا ہے ، نوحہ کرنے والی عورت اور اُس کے اردگرد جتنی عورتیں موجود ہوتی ہیں ، اُن پر اللہ تعالیٰ ، فرشتوں اور انسانوں ، سب کی لعنت ہوتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بشر بن عبدالرحمان انصاری ہے اس نے عبداللہ بن مجاہد بن جبر کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے میں نے کسی کو ان دونوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بشر بن عبدالرحمان انصاری ہے اس نے عبداللہ بن مجاہد بن جبر کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے میں نے کسی کو ان دونوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حدیث نمبر: 915
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ لِابْنِ أَبِي السَّائِبِ قَاصِّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ثَلَاثًا ، لَتُتَابِعَنِّي عَلَيْهِنَّ أَوْ لَأُنَاجِزَنَّكَ ، قَالَ : وَمَا هُنَّ ؟ بَلْ أُتَابِعُكَ أَنَا يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : اجْتَنِبِ السَّجْعَ فِي الدُّعَاءِ ; فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابَهُ كَانُوا لَا يَفْعَلُونَ ذَلِكَ ، وَقُصَّ عَلَى النَّاسِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً ، فَإِنْ أَبَيْتَ فَثِنْتَيْنِ ، فَإِنْ أَبَيْتَ فَثَلَاثًا ، وَلَا تُلْحِنِ النَّاسَ هَذَا الْكِتَابَ ، وَلَا أَلْفَيَنَّكَ تَأْتِي الْقَوْمَ وَهُمْ فِي حَدِيثِهِمْ فَتَقْطَعَ عَلَيْهِمْ حَدِيثَهُمْ ، وَلَكِنِ اتْرُكْهُمْ ، فَإِذَا حَدَوْكَ عَلَيْهِ وَأَمَرُوكَ بِهِ فَحَدِّثْهُمْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ . ¤
محمد محی الدین
امام شعبی بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اہل مدینہ کے واعظ ابن ابوسائب سے تین مرتبہ یہ فرمایا تھا : یا تو تم ان چیزوں کے حوالے سے میری فرمانبرداری کرو ، یا میں تمہیں سزا دوں گی ، تو اس نے کہا: وہ چیزیں کیا ہیں ؟ اے ام المؤمنین ! میں آپ کی پیروی کروں گا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : تم دعا مانگتے ہوئے مسجع الفاظ سے اجتناب کرو ! کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب ایسا نہیں کیا کرتے تھے ، لوگوں کے سامنے ہفتے میں ایک مرتبہ وعظ کرو ، اگر نہیں مانتے جو دو مرتبہ کر لو ، اگر یہ بھی نہیں مانتے تو تین مرتبہ کر لو ، اور لوگوں کو یہ کتاب لحن کے ساتھ نہ سناؤ اور میں تمہیں ایسی حالت میں نہ پاؤں کہ تم لوگوں کے پاس آؤ ، وہ آپس میں بات چیت کر رہے ہوں اور تم ان کی بات چیت ختم کروا دو ، بلکہ انہیں ایسے ہی رہنے دو ، جب وہ تمہیں اس بارے میں کہیں اور تمہیں اس کا حکم دیں ، تو ان سے گفتگو شروع کرو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام ابویعلیٰ نے یہ روایت اس کی مانند نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام ابویعلیٰ نے یہ روایت اس کی مانند نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 916
وَعَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا حَدَّثْتُمُ النَّاسَ فَلَا تُحَدِّثُوهُمْ بِمَا يُفْزِعُهُمْ وَيَشُقُّ عَلَيْهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ كَامِلٍ ، قَالَ الْبُخَارِيُّ : عِنْدَهُ عَجَائِبُ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَأَبُو حَاتِمٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب تم لوگوں کے ساتھ گفتگو کرو تو ان کے ساتھ ایسی گفتگو نہ کرو جو انہیں پریشان کر دے اور ان پر گراں گزرے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ولید بن کامل ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اس نے عجیب و غریب روایات نقل کی ہیں ، ابن حبان اور ابوحاتم نے اُسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ولید بن کامل ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اس نے عجیب و غریب روایات نقل کی ہیں ، ابن حبان اور ابوحاتم نے اُسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 917
وَعَنِ الْأَعْمَشِ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ مَرَّ بِرَجُلٍ يُذَكِّرُ قَوْمًا فَقَالَ : يَا مُذَكِّرُ ، لَا تُقَنِّطِ النَّاسَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَلَكِنَّ الْأَعْمَشَ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
اعمش بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا ، جو ایک قوم کو وعظ و نصیحت کر رہا تھا ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے نصیحت کرنے والے شخص ! تم لوگوں کو مایوسی کا شکار نہ کرنا ! ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ اعمش نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ اعمش نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 918
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لَا تَمَلُّوا النَّاسَ ، فَيَمَلُّوا الذِّكْرَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تم لوگوں کو اُکتاہٹ کا شکار نہ کرو ! ورنہ وہ نصیحت سے اُکتا جائیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند صحیح ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند صحیح ہے ۔