عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : أَقْبَلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ عَلَى نَشَزٍ مِنَ الْأَرْضِ حَتَّى جَلَسْتُ مُسْتَقْبِلَ وَجْهِهِ - أَوْ وَجْهِي عِنْدَ رُكْبَتِهِ - فَاغْتَنَمْتُ خَلْوَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الذُّنُوبِ أَكْبَرُ ؟ فَأَعْرَضَ عَنِّي حَتَّى قُلْتُهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ بِوَجْهِهِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونچی جگہ پر تشریف فرما تھے ، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا ، میرا چہرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں کے مدمقابل آ رہا تھا ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خلوت کو غنیمت سمجھا اور دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اعراض کیا ، یہاں تک کہ میں نے تین مرتبہ اپنی بات دہرائی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سری بن اسماعیل ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 731
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جدا
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 161»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا فُتِحَتِ الْمَدَائِنُ أَقْبَلَ النَّاسُ عَلَى الدُّنْيَا وَأَقْبَلْتُ عَلَى عُمَرَ . ¤ فَكَانَ عَامَّةُ حَدِيثِهِ عَنْ عُمَرَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : جب مختلف شہر فتح ہو گئے ، تو لوگ دنیا کی طرف متوجہ ہو گئے اور میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف توجہ مبذول کر لی ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی نقل کردہ زیادہ تر احادیث سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 732
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 162»