مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي خَلْوَةِ الْعَالِمِ . باب: عالم کی خلوت
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : أَقْبَلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ عَلَى نَشَزٍ مِنَ الْأَرْضِ حَتَّى جَلَسْتُ مُسْتَقْبِلَ وَجْهِهِ - أَوْ وَجْهِي عِنْدَ رُكْبَتِهِ - فَاغْتَنَمْتُ خَلْوَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الذُّنُوبِ أَكْبَرُ ؟ فَأَعْرَضَ عَنِّي حَتَّى قُلْتُهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ بِوَجْهِهِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونچی جگہ پر تشریف فرما تھے ، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا ، میرا چہرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں کے مدمقابل آ رہا تھا ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خلوت کو غنیمت سمجھا اور دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اعراض کیا ، یہاں تک کہ میں نے تین مرتبہ اپنی بات دہرائی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سری بن اسماعیل ہے اور وہ متروک ہے ۔