مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابُ قَوْلِ الْعَالِمِ : سَلُونِي . باب: عالم کا یہ کہنا : تم لوگ مجھ سے سوال کرو !
عَنْ أَبِي فِرَاسٍ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ : " سَلُونِي عَمَّا شِئْتُمْ ؟ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ أَبِي ؟ قَالَ : " أَبُوكَ فُلَانٌ الَّذِي تُدْعَى إِلَيْهِ " ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ : فِي الْجَنَّةِ أَنَا ؟ قَالَ : " فِي الْجَنَّةِ " وَسَأَلَهُ رَجُلٌ : فِي الْجَنَّةِ أَنَا ؟ قَالَ : " فِي النَّارِ " فَقَالَ عُمَرُ : رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوفراس رضی اللہ عنہ جن کا تعلق اسلم قبیلے سے ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ جس چیز کے بارے میں چاہو مجھ سے سوال کر لو ! ایک صاحب بولے : یا رسول اللہ ! میرا باپ کون ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارا باپ فلاں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی شخص کا ذکر کیا ، جس کی نسبت سے اس شخص کو بلایا جاتا تھا ، ایک اور شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا : میں جنت میں جاؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم جنت میں جاؤ گے ، ایک اور شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا : کیا میں بھی جنت میں جاؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم جہنم میں جاؤ گے ! تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اللہ تعالیٰ کے کے پروردگار ہونے سے راضی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔