کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: بکثرت سوال کرنے کی ممانعت کے سبب کا بیان
عَنْ سَعْدٍ قَالَ : كَانَ النَّاسُ يَتَسَاءَلُونَ عَنِ الشَّيْءِ مِنْ أَمْرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ حَلَالٌ ، فَلَا يَزَالُونَ يَسْأَلُونَ فِيهِ حَتَّى يَحْرُمَ عَلَيْهِمْ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُمَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حکم کے حوالے سے کسی چیز کے بارے میں سوال کرتے رہتے تھے ، لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے رہے وہ کام حلال تھا ، لیکن وہ لوگ مسلسل اُس کے بارے میں سوال کرتے رہے ، یہاں تک کہ وہ ان پر حرام ہو گیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور سفیان نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ امام أحمد ، یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 719
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «أورده المؤلف فى كشف الاستار 198»
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : مَا نَزَلَتْ آيَةُ التَّلَاعُنِ إِلَّا لِكَثْرَةِ السُّؤَالِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : لعان سے متعلق آیت ، بکثرت سوال کی وجہ سے نازل ہوئی تھی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 720
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 199»
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ ; فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ ، فَمَا أَمَرْتُكُمْ بِهِ مِنْ شَيْءٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ ، وَمَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب تک میں تمہیں ترک کیے رکھوں ، تم بھی مجھے ( ایسے ہی ) رہنے دیا کرو ! کیونکہ تم سے پہلے کے لوگ بکثرت سوال کرنے اور اپنے انبیاء سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے تھے ، جس چیز کے بارے میں ، میں تمہیں حکم دوں ، تم لوگ اپنی استطاعت کے مطابق اسے بجا لاؤ ! اور جس چیز سے میں تمہیں منع کر دوں ، اُس سے باز رہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 721
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 6017»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ ; فَإِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ اخْتِلَافُهُمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ ، فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ فَأْتُوهُ ، وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَاجْتَنِبُوهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِعَكْسِ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب تک میں تمہیں ترک کیے رکھوں ، تم بھی مجھے ( ایسے ہی ) رہنے دیا کرو ! جو لوگ تم سے پہلے تھے ، انہیں ان لوگوں کے اپنے انبیاء سے اختلاف کرنے نے ہلاکت کا شکار کر دیا ، جب میں تمہیں کوئی حکم دوں ، تو تم اسے بجا لاؤ ! اور جب میں تمہیں کسی چیز سے منع کروں ، تو تم اُس سے اجتناب کرو ! جہاں تک تم سے ہو سکے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں ، اس کے برعکس ( الفاظ کی ترتیب ) کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 722
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الأوسط 2715»