حدیث نمبر: 713
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَبْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ : قِيلَ وَقَالَ ، وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ ، وَإِضَاعَةِ الْمَالِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن سبرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو تین چیزوں سے منع کیا ہے ، قیل و قال ( یعنی غیر ضروری بحث ) بکثرت ( غیر ضروری ) سوال کرنے اور مال کو ضائع کرنے ( سے تمہیں منع کیا ہے ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن شبیب ہے جو انتہائی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن شبیب ہے جو انتہائی ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 714
وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ نَحْوِ هَذَا فِي الْعُقُوقِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کے لیے تین چیزوں کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے ، قیل و قال ( یعنی غیر ضروری بحث ) بکثرت ( غیر ضروری ) سوال کرنا اور مال کو ضائع کرنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمران القطان ہے ، جسے یحیی بن معین امام ابوداؤد اور امام نسائی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اس کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی احادیث نافرمانی سے متعلق باب میں آئیں گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمران القطان ہے ، جسے یحیی بن معین امام ابوداؤد اور امام نسائی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اس کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی احادیث نافرمانی سے متعلق باب میں آئیں گی ۔
حدیث نمبر: 715
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : أَوْصِنِي ، فَقَالَ : " دَعْ قِيلَ وَقَالَ وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ [ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ ] " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : آپ مجھے کوئی نصیحت کیجئے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیل و قال ( یعنی غیر ضروری بحث ) بکثرت ( غیر ضروری ) سوال کرنے اور مال کو ضائع کرنے کو ترک کر دو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سری بن اسماعیل ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سری بن اسماعیل ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 716
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ ، وَمَنَعَ وَهَاتِ ، وَوَأْدَ الْبَنَاتِ ، وَعُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ " . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ الْمُغِيرَةِ فِي الصَّحِيحِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ صَاحِبُ الْبَصْرِيِّ ، لَا يَحِلُّ الِاحْتِجَاجُ بِمَا انْفَرَدَ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے قیل و قال ، بکثرت سوال کرنا ، نہ دینا اور دینا ، لڑکیوں کو زندہ درگور کرنا اور ماؤں کی نافرمانی کرنا ( ان سب امور کو تمہارے لیے ) ناپسندیدہ قرار دیا ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن کثیر ہے ، جو بصری کا شاگرد ہے ، جس روایت کو نقل کرنے میں یہ منفرد ہو ، اس کے حوالے سے استدلال کرنا جائز نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن کثیر ہے ، جو بصری کا شاگرد ہے ، جس روایت کو نقل کرنے میں یہ منفرد ہو ، اس کے حوالے سے استدلال کرنا جائز نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 717
قَالَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - يَوْمًا وَأَكْثَرُوا عَلَيْهِ فَقَالَ : يَا حَارِ بْنَ قَيْسٍ - لِلْحَارِثِ بْنِ قَيْسٍ - مَا تَرَاهُمْ يُرِيدُونَ إِلَى مَا يَسْأَلُونَ [ عَنْهُ ] ؟ قَالَ : لِيَتَعَلَّمُوهُ ثُمَّ يَتْرُكُوهُ . قَالَ : صَدَقْتَ وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک دن ارشاد فرمایا : اُس دن لوگوں نے اُن سے بکثرت سوالات کئے تھے ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : اے حار بن قیس ! انہوں نے حارث بن قیس سے یہ فرمایا تھا ، تم ان لوگوں کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہو ؟ یہ لوگ جس چیز کے بارے میں سوال کر رہے ہیں ، اس کے حوالے سے ان کا ارادہ کیا ہے ؟ تو حارث بن قیس نے جواب دیا : تاکہ وہ اس کا علم حاصل کریں اور پھر اسے چھوڑ دیں ، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، تم نے سچ کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 718
وَعَنْهُ قَالَ : يَجِيءُ قَوْمٌ يَشْرَبُونَ الْعِلْمَ شُرْبًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
ان ( یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ فرماتے ہیں : ” ایسے لوگ آئیں گے ، جو علم کو پی لیا کریں گے ( یعنی وہ علم سیکھیں گے ، لیکن اس پر عمل نہیں کریں گے ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔