مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابُ سَبَبِ النَّهْيِ عَنْ كَثْرَةِ السُّؤَالِ . باب: بکثرت سوال کرنے کی ممانعت کے سبب کا بیان
حدیث نمبر: 721
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ ; فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ ، فَمَا أَمَرْتُكُمْ بِهِ مِنْ شَيْءٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ ، وَمَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤محمد محی الدین
سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب تک میں تمہیں ترک کیے رکھوں ، تم بھی مجھے ( ایسے ہی ) رہنے دیا کرو ! کیونکہ تم سے پہلے کے لوگ بکثرت سوال کرنے اور اپنے انبیاء سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے تھے ، جس چیز کے بارے میں ، میں تمہیں حکم دوں ، تم لوگ اپنی استطاعت کے مطابق اسے بجا لاؤ ! اور جس چیز سے میں تمہیں منع کر دوں ، اُس سے باز رہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔