مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابُ سَبَبِ النَّهْيِ عَنْ كَثْرَةِ السُّؤَالِ . باب: بکثرت سوال کرنے کی ممانعت کے سبب کا بیان
حدیث نمبر: 719
عَنْ سَعْدٍ قَالَ : كَانَ النَّاسُ يَتَسَاءَلُونَ عَنِ الشَّيْءِ مِنْ أَمْرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ حَلَالٌ ، فَلَا يَزَالُونَ يَسْأَلُونَ فِيهِ حَتَّى يَحْرُمَ عَلَيْهِمْ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُمَا . ¤محمد محی الدین
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حکم کے حوالے سے کسی چیز کے بارے میں سوال کرتے رہتے تھے ، لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے رہے وہ کام حلال تھا ، لیکن وہ لوگ مسلسل اُس کے بارے میں سوال کرتے رہے ، یہاں تک کہ وہ ان پر حرام ہو گیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور سفیان نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ امام أحمد ، یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔