مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابُ سَبَبِ النَّهْيِ عَنْ كَثْرَةِ السُّؤَالِ . باب: بکثرت سوال کرنے کی ممانعت کے سبب کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ ; فَإِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ اخْتِلَافُهُمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ ، فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ فَأْتُوهُ ، وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَاجْتَنِبُوهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِعَكْسِ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب تک میں تمہیں ترک کیے رکھوں ، تم بھی مجھے ( ایسے ہی ) رہنے دیا کرو ! جو لوگ تم سے پہلے تھے ، انہیں ان لوگوں کے اپنے انبیاء سے اختلاف کرنے نے ہلاکت کا شکار کر دیا ، جب میں تمہیں کوئی حکم دوں ، تو تم اسے بجا لاؤ ! اور جب میں تمہیں کسی چیز سے منع کروں ، تو تم اُس سے اجتناب کرو ! جہاں تک تم سے ہو سکے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں ، اس کے برعکس ( الفاظ کی ترتیب ) کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔