عَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّمَا الْعِلْمُ بِالتَّعَلُّمِ ، وَالْفِقْهُ بِالتَّفَقُّهِ ، وَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ ، وَإِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ ، وَعُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَأَبُو زُرْعَةَ ، وَابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اے لوگو ! بیشک علم ، سیکھ کر حاصل ہوتا ہے ، اور سمجھداری ، سیکھ کر حاصل ہوتی ہے ، جس شخص کے بارے میں اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کر لے ، اُسے دین کی سمجھ بوجھ عطا کر دیتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے ، اللہ تعالیٰ سے علماء ڈرتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ، اور عتبہ بن ابوحکیم نامی راوی کو امام ابوحاتم ، امام ابوزرعہ اور امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ثقہ قرار دیا ہے ، تاہم ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ، اور عتبہ بن ابوحکیم نامی راوی کو امام ابوحاتم ، امام ابوزرعہ اور امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ثقہ قرار دیا ہے ، تاہم ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا الْعِلْمُ بِالتَّعَلُّمِ ، وَإِنَّمَا الْحِلْمُ بِالتَّحَلُّمِ ، مَنْ يَتَحَرَّ الْخَيْرَ يُعْطَهُ ، وَمَنْ يَتَّقِ الشَّرَّ يُوقَهُ ، ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ لَمْ يَسْكُنِ الدَّرَجَاتِ الْعُلَى ، وَلَا أَقُولُ لَكُمُ الْجَنَّةَ : مَنْ تَكَهَّنَ ، أَوِ اسْتَقْسَمَ ، أَوْ رَدَّهُ مِنْ سَفَرِهِ تَطَيُّرٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” علم سیکھنے سے حاصل ہوتا ہے اور بردباری ، بردباری اختیار کرنے سے آتی ہے ، جو شخص بھلائی کے حصول کی کوشش کرتا ہے اُسے وہ دیدی جاتی ہے ، جو شخص برائی سے بچتا ہے ، اُس ( برائی ) سے اُسے بچا لیا جاتا ہے ، تین چیزیں جس شخص میں ہوں گی ، وہ بلند درجات میں سکونت اختیار نہیں کر پائے گا ، میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ وہ جنت میں ( سکونت اختیار نہیں کر پائے گا ) جو شخص کہانت کرے یا تیروں سے فال نکالے ، یا کسی بدشگونی کو بنیاد بنا کر سفر سے واپس آ جائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن ابویزید ہے اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن ابویزید ہے اور وہ کذاب ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : فَعَلَيْكُمْ بِهَذَا الْقُرْآنِ ; فَإِنَّهُ مَأْدُبَةُ اللَّهِ فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ مَأْدُبَةِ اللَّهِ فَلْيَفْعَلْ ، فَإِنَّمَا الْعِلْمُ بِالتَّعَلُّمِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” تم پر اس قرآن کو سیکھنا لازم ہے ، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا دستر خوان ہے ، تم میں سے جو شخص یہ استطاعت رکھتا ہو کہ وہ اس دسترخوان میں سے کچھ حاصل کر سکے ، تو اُسے ایسا کر لینا چاہیے ، کیونکہ علم ، سیکھنے سے حاصل ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے ، جس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے ، جس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔