حدیث نمبر: 538
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا الْعِلْمُ بِالتَّعَلُّمِ ، وَإِنَّمَا الْحِلْمُ بِالتَّحَلُّمِ ، مَنْ يَتَحَرَّ الْخَيْرَ يُعْطَهُ ، وَمَنْ يَتَّقِ الشَّرَّ يُوقَهُ ، ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ لَمْ يَسْكُنِ الدَّرَجَاتِ الْعُلَى ، وَلَا أَقُولُ لَكُمُ الْجَنَّةَ : مَنْ تَكَهَّنَ ، أَوِ اسْتَقْسَمَ ، أَوْ رَدَّهُ مِنْ سَفَرِهِ تَطَيُّرٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” علم سیکھنے سے حاصل ہوتا ہے اور بردباری ، بردباری اختیار کرنے سے آتی ہے ، جو شخص بھلائی کے حصول کی کوشش کرتا ہے اُسے وہ دیدی جاتی ہے ، جو شخص برائی سے بچتا ہے ، اُس ( برائی ) سے اُسے بچا لیا جاتا ہے ، تین چیزیں جس شخص میں ہوں گی ، وہ بلند درجات میں سکونت اختیار نہیں کر پائے گا ، میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ وہ جنت میں ( سکونت اختیار نہیں کر پائے گا ) جو شخص کہانت کرے یا تیروں سے فال نکالے ، یا کسی بدشگونی کو بنیاد بنا کر سفر سے واپس آ جائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن ابویزید ہے اور وہ کذاب ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 538
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 2663»