ماہِ محرم کے روزوں کی فضیلت اور شرعی حکم صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس کتاب الصوم سے ماخوذ ہے جسے شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے مرتب کیا ہے۔

ماہ محرم کے روزے

سوال:

کیا محرم کے سارے مہینے کے روزے رکھ سکتے ہیں؟

جواب:

نفلی روزوں کے لیے سب سے افضل مہینہ محرم ہے۔ اس مہینے میں جتنے روزے رکھنا ممکن ہو رکھے جا سکتے ہیں۔ جتنے زیادہ روزے اتنی زیادہ فضیلت۔
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أفضل الصيام بعد رمضان شهر الله المحرم وأفضل الصلاة بعد الفريضة صلاة الليل
”رمضان المبارک کے بعد افضل ترین روزے محرم کے ہیں اور فرائض کے بعد افضل ترین نماز تہجد کی۔“
(صحيح مسلم: 1163/202)

سوال:

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أفضل الصيام بعد رمضان شهر الله المحرم وأفضل الصلاة بعد الفريضة صلاة الليل
”رمضان المبارک کے بعد افضل ترین روزے محرم کے ہیں اور فرائض کے بعد افضل ترین نماز تہجد کی۔“
(صحيح مسلم: 1163/202)
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ رمضان کے بعد سب سے افضل روزے ماہ محرم کے ہیں، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے زیادہ روزے شعبان میں رکھے، ایسا کیوں؟
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
لقد كانت إحدانا تفطر في رمضان فما تقدر على أن تقضي حتى يدخل شعبان ما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم في شهر ما يصوم في شعبان كان يصومه كله إلا قليلا بل كان يصومه كله
”ہم (ازواج رسول صلی اللہ علیہ وسلم بیماری کی وجہ سے) رمضان کے روزے چھوڑتیں تو شعبان کا مہینہ آنے تک ان کی قضا نہ دے سکتیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جتنے روزے شعبان میں رکھا کرتے تھے اتنے کسی اور مہینے میں نہ رکھتے تھے، چند دن چھوڑ کر آپ شعبان کا پورا مہینہ ہی روزے رکھتے تھے، بلکہ پورا شعبان ہی روزے رکھتے تھے۔“
(صحيح البخاري: 1950، صحيح مسلم: 1146، المنتقى لابن الجارود: 400)

جواب:

ممکن ہے کہ محرم میں روزوں کی افضیلت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری عمر میں نازل ہوئی ہو، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم محرم میں زیادہ روزے نہ رکھ سکے ہوں، واللہ اعلم!