مسلمان کو کپڑا پہنانا
① سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک سائل ان کے پاس آیا تو اس نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے کہا: کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں! انہوں نے پوچھا: روزے رکھتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے کہا: تم نے سوال کیا ہے اور سائل کا حق ہوتا ہے۔ اس لیے ہم پر حق ہے کہ ہم تجھ سے صلہ رحمی کریں۔ پس انہوں نے اسے کپڑا دیا۔ پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے:
ما من مسلم كسا مسلما ثوبا إلا كان فى حفظ الله ما دام عليه منه خرقة
”اگر کوئی مسلمان کسی مسلمان کو کپڑے پہنائے تو جب تک ان کپڑوں میں سے کوئی ایک ٹکڑا بھی اس کے جسم پر رہے گا تو وہ (پہنانے والا) اللہ کے حفظ و امان میں رہے گا“۔
ترمذی، کتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله 2484، روایت ضعیف ہے، اس کی سند میں خالد بن طہمان ضعیف الحدیث ہے۔
لوگوں سے خندہ پیشانی سے ملنے کے احکامات
① سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تحقرن من المعروف شيئا ولو أن تلقى أخاك بوجه طلق
”کسی بھی نیکی کو حقیر نہ سمجھنا خواہ تم اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے ہی ملو (یہ بھی نیکی ہے)۔“
مسلم، کتاب البر والصلة والآداب 2626.
② سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يحقرن أحدكم شيئا من المعروف، وإن لم يجد فليلق أخاه بوجه طلق، وإذا اشتريت لحما أو طبخت قدرا فأكثر مرقته واغرف لجارك منه
”تم میں سے کوئی شخص نیکی کے کسی بھی کام کو حقیر نہ سمجھے اور اگر اسے کوئی نیکی کا کام نہ ملے تو اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے ملاقات کر لے۔ اور جب تم گوشت خریدو یا ہنڈیا پکاؤ تو شوربہ زیادہ بنا لیا کرو اور اس میں سے کچھ اپنے پڑوسی کو بھی بھیج دیا کرو۔“
ترمذی، کتاب الأطعمة 1833، روایت صحیح ہے۔
③ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تحقرن من المعروف شيئا ولو أن تلقى أخاك بوجه طلق
”کسی نیکی کو حقیر نہ سمجھیں، اگرچہ وہ آپ کا اپنے (دینی) بھائی سے خندہ پیشانی سے ملاقات کرنا ہی کیوں نہ ہو۔“
مسلم، کتاب البر والصلة والآداب 2626، ترمذی، کتاب الأطعمة 1833۔
اہل خانہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا
① سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن من أكمل المؤمنين إيمانا أحسنهم أخلاقا وألطفهم بأهله
”مومنوں میں سے سب سے کامل ایمان والا وہ شخص ہے جو ان میں سے اچھے اخلاق والا اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ زیادہ نرمی اور مہربانی کرنے والا ہے۔“
ترمذی، کتاب الإیمان 2612، مسند احمد، باقی مسند الأنصار 6/ 47، روایت حسن ہے۔