خاندانی منصوبہ بندی، عزل اور اسقاط حمل کے مسائل قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

خاندانی منصوبہ بندی (Family Planning)

نوع انسان کی بقاء کے لیے ازدواج اولین مقصد ہے اور اس بقاء کا انحصار سلسلہ تناسل کے جاری رہنے پر ہے۔ اسی لیے اسلام نے افزائش نسل کو نہایت پسندیدہ قرار دیا ہے۔ اسلام کی نظر میں لڑکے ہوں یا لڑکیاں سب خیر و برکت کا باعث ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ اسلام نے اس بات کی بھی اجازت دی ہے کہ معقول وجوہ اور قابل لحاظ ضرورتوں کی بنا پر خاندانی منصوبہ بندی کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ عہد رسالت میں سلسلہ پیدائش کو روکنے یا کم کرنے کے لیے عزل (یعنی انزال کے وقت منی رحم کے باہر خارج کرنے) کا طریقہ رائج تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی اپنے عہد رسالت میں اس طریقہ کو اختیار کرتے تھے چنانچہ صحیحین میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
كنا نعزل على عهد رسول الله والقرآن ينزل
”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عزل کیا کرتے تھے اس حالت میں کہ قرآن نازل ہو رہا ہوتا۔“
بخاری كتاب النكاح باب العزل ح : 5209 ، مسلم كتاب النكاح باب حكم العزل ح : 1440
اور صحیح مسلم میں ہے :
كنا نعزل على عهد رسول الله فبلغ ذلك رسول الله فلم ينهنا
”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں عزل کیا کرتے تھے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع نہیں فرمایا۔“
مسلم حوالہ سابق ح : 138/1440
ایک اور حدیث میں ہے :
فجاء رجل إلى النبى فقال يا رسول الله! إن لي جارية وأنا أعزل عنها وإني أكره أن تحمل وأنا أريد ما يريد الرجال وإن اليهود تحدث أن العزل الموؤدة الصغرى فقال لا كذبت اليهود لو أراد الله أن يخلقه ما استطعت أن تصرفه
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری ایک لونڈی ہے جس سے میں عزل کرتا ہوں۔ مجھے اس سے وہی رغبت ہے جو مردوں کو عورتوں سے ہوتی ہے لیکن میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ وہ حاملہ ہو جائے اور یہود عزل کو موؤدة صغری (ایک درجہ میں قتل اولاد) سے تعبیر کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود غلط کہتے ہیں۔ اگر اللہ بچہ پیدا کرنا چاہے تو تم اس کو ٹال نہیں سکتے۔“
ابو داؤد كتاب النكاح باب ما جاء في العزل ح : 2171
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ عزل کرنے کے باوجود ایسا اتفاق ہوتا ہے کہ منی کا ایک آدھ قطرہ نکل کر رحم میں پہنچ جاتا ہے اور لاعلمی میں حمل ٹھہر جاتا ہے۔ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مجلس میں عزل کا ذکر چھڑ گیا تو ایک شخص نے کہا کہ لوگ اسے موؤدة صغری سمجھتے ہیں۔ یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ”موؤدة (زندہ درگور کرنا بالفاظ دیگر قتل اولاد) کا اطلاق اسی صورت میں ہوسکتا ہے جبکہ جنین سات اطوار سے گزر جائے۔ منی کا خلاصہ نطفہ بن جائے، پھر جما ہوا خون، پھر گوشت کا لوتھڑا، پھر ہڈیاں، پھر گوشت پوست اور ان سب مدارج سے گزرنے کے بعد انسان کی شکل اختیار کر جائے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ”آپ نے بالکل صحیح کہا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو طویل عمر عطا فرمائے۔“
رواہ عبد الرزاق فى المصنف 141/7 ح : 12553 ، 12571 نحوه عن ابن عباس رضی اللہ عنہما قوله والله اعلم
اسے احاديث ميں مخفي طور پر زنده درگور كرنے كا جو كها گيا هے اس سے يه معلوم هوتا هے كه عزل بهي كراهت كے ساته جائز هے اور موجوده دور كے مصنوعي طريقوں كا انطباق اس پر نهيں هوتا. عزل ميں مني كے اندر رهنے كے چانس هوتے هيں جبكه مصنوعي طريقے ميں نهيں اور مصنوعي طريقوں كے معاشرے ميں پهيلنے كي وجه سے زنا كاري اور بدكاري عام هو چكي هے اس ليے ان سے اجتناب لازم هے. (ابو الحسن مبشر احمد رباني)

خاندانی منصوبہ بندی کے جواز کی صورتیں

خاندانی منصوبہ بندی کا جواز چند ضرورتوں کی بنا پر ہے۔ ایک ضرورت تو یہ ہے کہ ماں کی زندگی یا صحت کو مرض یا زچگی کی وجہ سے خطرہ لاحق ہو، یہ بات تجربہ سے معلوم ہو جائے یا قابل اعتماد ڈاکٹر بتا دے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ
”اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔“
(سورہ البقرة : 195)
وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا
”اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو یقیناً اللہ تم پر مہربان ہے۔“
(سورہ النساء : 29)
دوسری ضرورت یہ ہے کہ دنیوی حرج میں مبتلا ہو جانے کا اندیشہ ہو، جس کے نتیجہ میں دینی حرج پیدا ہو جائے اور آدمی اولاد کی خاطر حرام چیز کو قبول کرنے اور ناجائز باتوں کا ارتکاب کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
يُرِيدُ اللهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ
”اللہ تمہارے ساتھ آسانی کرنا چاہتا ہے تم پر سختی کرنا نہیں چاہتا۔“
(سورہ البقرة : 185)
مَا يُرِيدُ اللهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ حَرَجٍ
”اللہ تم پر تنگی مسلط کرنا نہیں چاہتا۔“
(سورہ المائدة : 6)
تیسری ضرورت اولاد کی صحت کے خراب ہو جانے یا ان کی صحیح تربیت نہ ہونے کا احتمال ہے۔ صحیح مسلم میں ہے :
عن أسامة بن زيد أن رجلا جاء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله إني أعزل عن امرأتي فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم لم تفعل ذلك فقال الرجل أشفق على ولدها أو قال على أولادها فقال رسول الله لو كان ضارا لضر فارس والروم
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں اپنی بیوی سے عزل کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایسا کیوں کرتے ہو؟ اس نے کہا: بچہ کو، یا یہ کہا کہ بچوں کو نقصان پہنچنے کے اندیشہ سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اگر نقصان پہنچنے کی بات صحیح ہوتی تو فارس و روم والوں کو ضرور نقصان پہنچتا۔“
مسلم كتاب النكاح باب جواز الغيلة ح : 1443
گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک افراد کا یہ طرز عمل امت کے لیے بحیثیت مجموعی مضر نہیں تھا اور مضر نہ ہونے کی دلیل یہ تھی کہ فارس و روم کی قوموں کو جو اس وقت کی بڑی طاقتور حکومتیں تھیں، اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچ رہا تھا۔
شرعاً جو ضرورتیں معتبر ہیں ان میں سے ایک ضرورت یہ ہے کہ دودھ پیتے بچہ کو نئے حمل کی وجہ سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو کیونکہ ایسی صورت میں اس بات کا امکان ہے کہ ماں کا دودھ خراب ہو جائے اور بچہ کمزور ہو جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم امت کو ایسی باتیں اختیار کرنے کی ہدایت فرماتے تھے جو امت کے حق میں مفید ہوں اور ان باتوں کو اختیار کرنے سے منع فرماتے تھے جو امت کے حق میں مضر ہوں۔ چنانچہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :
لا تقتلوا أولادكم سرا فإن الغيل يدرك الفارس فيدعثه عن فرسه
”اپنی اولاد کو خفیہ طریقہ پر ہلاک نہ کرو کیونکہ دودھ پیتے بچے کی موجودگی میں بیوی سے صحبت کرنے سے بچہ کو نقصان پہنچتا ہے، شہسوار بن کر ٹھوکر کھاتا ہے۔“
ابو داؤد كتاب الطب باب فى الغيلة ح : 3881 و اسناده ضعیف
لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ممانعت حرمت کے درجہ میں نہیں فرمائی، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دیگر قوموں نے یہ طریقہ اختیار کیا تھا اور انہیں اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچ رہا تھا۔ نیز اگر دودھ پلانے کی وجہ سے جماع کی قطعی ممانعت کر دی جاتی تو ان کے شوہروں کو اس سے تکلیف ہوتی، جبکہ دودھ پلانے کا سلسلہ دو سال تک جاری رہتا ہے۔ ان تمام باتوں کا لحاظ کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لقد هممت أن أنهى عن الغيلة ثم رأيت فارس والروم يفعلونه ولا يضر أولادهم شيئا
”میں چاہتا تھا کہ دودھ پیتے بچوں کی ماؤں سے مباشرت کرنے سے منع کروں لیکن فارس اور روم کے لوگوں کے بارے میں مجھے معلوم ہوا کہ وہ ایسا کرتے ہیں اور ان کے بچوں کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔“
مسلم كتاب النكاح باب جواز الغيلة ح : 1442
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے ان دونوں حدیثوں میں جمع و تطبیق کی صورت یہ بیان فرمائی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دونوں پہلو تھے۔ ایک یہ کہ دودھ پیتے بچہ کی موجودگی میں اس کی ماں سے مباشرت، بچہ کے حق میں نقصان دہ ہوگی، اگرچہ یہ نقصان بچہ کو قتل کرنے یا ہلاک کرنے کے مترادف نہیں ہے، تاہم نقصان کے اندیشہ کے پیش نظر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ممانعت فرمائی، لیکن یہ ممانعت حرمت کے درجہ میں نہیں تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سد ذریعہ کے طور پر اس سے روکنا چاہا لیکن دوسرا پہلو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ آیا کہ اس ذریعہ کا انسداد اس مفسدہ کا مقابلہ نہیں کرسکتا، جو مدت رضاعت میں مباشرت کی ممانعت کی صورت میں پیدا ہو سکتا ہے۔ خاص طور سے نوجوانوں اور شہوت و ہیجان نفسی کے مفسدہ میں مبتلا ہو جانے کا قوی اندیشہ ہے، لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے یہ ہوئی کہ یہ مصلحت سد ذریعہ کے مفسدہ کے مقابلہ میں راجح ہے۔ نیز اس دور کی دو بڑی قوموں کا طرز عمل بھی پیش نظر تھا جو اس سے احتراز نہیں کرتی تھیں۔ ان امور کے پیش نظر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ممانعت نہیں فرمائی۔
مفتاح دار السعادة، ج 2 ص 62 ، ج 4 ص 66
ہمارے زمانہ میں منع حمل کے نئے نئے ذرائع ایجاد ہوئے ہیں جن کو استعمال کر کے اس مصلحت کا تحفظ کیا جاسکتا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر تھی، یعنی دودھ پیتے بچہ کو نقصان پہنچنے سے بچانا اور اس مفسدہ سے بھی بچانا جو دوران رضاعت مباشرت کی ممانعت کی صورت میں پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رهے كه مؤلف كي يه بحث فيملي پلاننگ سے متعلق هے نه كه نس بندي سے متعلق اس ليے اس كو نس بندي كے جواز پر محمول كرنا صحيح نه هوگا. نس بندي در حقيقت خلق الله ميں تبديلي هے اس ليے اس كا گناه اور نا جائز هونا بالكل واضح هے الا يه كه آدمي كے ليے جبر و اضطرار كي صورت پيدا هو جائے.(مترجم)
اس کی روشنی میں ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اسلام کی نظر میں دو ولادتوں کے درمیان کی مثالی مدت اس شخص کے لیے ہے، جو رضاعت کی تکمیل کرنا چاہتا ہو، تیس (30) یا تینتیس (33) مہینے ہے۔
امام احمد رحمہ اللہ کے نزدیک عزل جائز ہے بشرطیکہ بیوی کی اجازت سے کیا جائے، کیونکہ اولاد اور تلذذ دونوں میں اس کا حق ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوی کی اجازت کے بغیر عزل کرنے سے منع فرمایا۔
بیہقی فی السنن الکبری : 231/2 و اسناده ضعیف
اس سے اسلام کا وہ ممتاز نقطہ نظر نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے جو اس نے عورتوں کے حقوق کے سلسلہ میں ایسے زمانہ میں اختیار کیا جبکہ لوگ حقوق نسواں سے بالکل آشنا نہ تھے۔

اسقاط حمل

اسلام نے مانع حمل طریقے اختیار کرنا، ایسی صورت میں جائز ٹھہرایا ہے جبکہ ضرورت اس کی متقاضی ہو۔ لیکن جب حمل قرار پاچکا ہو تو اس کو نقصان پہنچانا کسی صورت میں جائز نہیں ہے۔ فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ نفخ روح کے بعد جنین (ماں کے پیٹ میں بچہ) کا اسقاط حرام اور جرم ہے ایک مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں ہے۔ کیونکہ یہ صورت جنین کے حق میں، جو ایک زندہ وجود اور اپنی ساخت میں کامل ہے صریح ظلم ہے۔ اسی لیے فقہاء کہتے ہیں کہ حمل ساقط کرانے کی صورت میں اگر جنین زندہ پیدا ہو کر مر جائے تو دیت لازم آئے گی۔ اور اگر جنین مردہ پیدا ہو گیا تو جرمانہ ادا کرنا ہوگا، جس کی مقدار دیت سے کم ہوگی۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ جب قابل اعتماد ذرائع سے یہ اندازہ ہو جائے کہ جنین کو بچانے کی صورت میں لا محالہ ماں کی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑے گا اور اسقاط کے سوا کوئی دوسری صورت جان بچانے کی ممکن نہیں ہے تو ایسی صورت میں اسقاط ضروری ہو جاتا ہے۔
عام طور پر ايسا نهيں هوتا اگر كبهي كبهار شاذ و نادر كوئي اكا دكا واقعه ايسا رونما هوتا هے كه جس ميں يه طرز عمل اپنانا پڑتا هے. بعض لوگ مصنوعي اضطراري صورت پيدا كر كے اپني صحت اور حسن كے تحفظ كے ليے اسقاط كروا چهوڑتے هيں، جبكه ايسا صرف اس وقت درست هے جب واقعي ماں كي جان جا رهي هو. والله اعلم (محمد طاهر نقاش)
شریعت کا عام قاعدہ یہ ہے کہ دو ضرر رساں چیزوں میں سے کم ضرر رساں چیز کو اختیار کیا جائے۔ اس قاعدے کے پیش نظر بچہ کی جان کو بچانے کی خاطر ماں کی زندگی کو خطرہ میں نہیں ڈالا جا سکتا، کیونکہ ماں کی زندگی اصل ہے اور اس کا حق مقدم ہے۔ لہذا اس کی زندگی کو جنین پر ہرگز قربان نہیں کیا جاسکتا۔
فتاوی شیخ شلتوت : 464
اور امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :
منع حمل اور اسقاط میں فرق کیا جانا چاہیے، منع حمل قتل اولاد کے مترادف نہیں ہے کیونکہ قتل اولاد کا اطلاق اس صورت میں ہوتا ہے جبکہ بچہ وجود میں آچکا ہو۔ بچہ کے وجود میں آنے کے کئی مدارج ہیں۔ پہلا درجہ یہ ہے کہ رحم میں نطفہ قرار پا جائے اور اس میں زندگی کو قبول کرنے کی صلاحیت پیدا ہو جائے۔ ایسی صورت میں اس کو ضائع کرنا گناہ کا کام ہے۔ پھر جب خون کا لوتھڑا بن جائے تو اس کو ضائع کرنا اس سے زیادہ گناہ کی بات ہے۔ اور جب اس میں روح پھونکی جا چکی ہو اور وہ صحیح الخلقت انسان بن گیا ہو تو اس کو ضائع کرنا گناہ میں مزید اضافہ کا موجب ہے۔ اور حد درجہ گناہ یہ ہے کہ بچہ کو پیدائش کے بعد قتل کر دیا جائے۔
احیاء العلوم كتاب النكاح 2-53