اونٹ اور گائے کے حصے
ہدی (حج کے جانور) اونٹ اور گائے میں سات سات افراد شریک ہو سکتے ہیں۔
دلائل حسبِ ذیل ہیں:
① سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
نحرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الحديبية البدنة عن سبعة، والبقرة عن سبعة
”ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلح حدیبیہ کے سال سات افراد کی طرف سے اونٹ اور سات ہی افراد کی طرف سے گائے ذبح کی۔“
صحيح مسلم، كتاب الحج، باب جواز الاشتراك في الهدي: 1318. سنن أبي داود، كتاب الضحايا، باب البقر والجزور عن كم تجزئ: 2809. جامع ترمذي، أبواب الأضاحي، باب ما جاء في الاشتراك في الأضحية: 152. سنن ابن ماجه، أبواب الأضاحي، باب عن كم تجزئ البدنة والبقرة: 3132
② سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم مهلين بالحج، فأمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نشترك فى الإبل والبقر، كل سبعة منا فى بدنة
”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں (حج کے ارادے سے) تکبیرات بلند کرتے نکلے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اونٹ اور گائے میں سات سات افراد شریک ہو جائیں۔“
صحیح مسلم کتاب الحج، باب جواز الاشتراك فى الهدى : 1318
ہدی (حج کے جانور میں سے) اونٹ اور گائے میں سات سات افراد شریک ہو سکتے ہیں، قربانی اور ہدی میں گائے میں بالاتفاق سات افراد شریک ہو سکتے ہیں اور ہدی کے اونٹ میں فقط سات افراد ہی شریک ہو سکتے ہیں، جبکہ قربانی کے اونٹ میں دس افراد شریک ہوں گے۔
قربانی کے اونٹ میں دس حصے:
قربانی کے جانوروں میں گائے میں سات اور اونٹ میں دس افراد شریک ہو سکتے ہیں۔
① سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فى سفر فحضر الأضحى، فاشتركنا فى البقرة سبعة وفي البعير عشرة
”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر میں تھے اور عید الاضحیٰ آگئی تو ہم گائے میں سات اور اونٹ میں دس افراد شریک ہوئے۔“
حسن : جامع ترمذي، أبواب الأضاحي، باب ما جاء في الاشتراك في الأضحية 1511۔ سنن ابن ماجه باب أبواب الأضاحي، باب عن كم تجزئ البدنة والبقرة : 3131۔ صحيح ابن خزيمة : 4007۔ صحيح ابن خزيمة: 2908۔ طبرانی کبیر: 11761۔ سنن نسائی، کتاب الضحايا، باب ما تجزئ عنه البدنة في الضحايا : 4397۔ علیاء بن احمر بشکری صدوق اور باقی تمام راوی ثقہ ہیں۔
فوائد:
① امام شوکانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
فيه دليل على أن البدنة تجزئ فى الأضحية عن عشرة
”یہ حدیث دلیل ہے کہ قربانی میں دس افراد کی طرف سے ایک اونٹ کفایت کرتا ہے۔“
نيل الأوطار: 198/5
② سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
كنا مع النبى صلى الله عليه وسلم بذي الحليفة، فأصاب الناس جوع فأصابوا إبلا وغنما، قال: وكان النبى صلى الله عليه وسلم فى أخريات القوم فعجلوا وذبحوا ونصبوا القدور، فأمر النبى صلى الله عليه وسلم بالقدور فأكفئت ثم قسم فعدل عشرة من الغنم ببعير
”ہم ذوالحلیفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، چنانچہ لوگوں کو بھوک لگی تو انھوں نے (مال غنیمت کے) اونٹ اور بکریاں لیں اور قبل از تقسیم عجلت کا مظاہرہ کیا اور (کچھ اونٹ اور بکریاں) ذبح کیں اور ہانڈیاں چڑھا دیں، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قوم کے پیچھے رہنے والوں میں شامل تھے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع موصول ہوئی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہانڈیاں الٹانے کا حکم دیا تو وہ الٹا دی گئیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (غنیمت کے جانور) تقسیم کیے اور دس بکریاں ایک اونٹ کے برابر قرار دیں۔“
صحيح بخاري، كتاب الشركة، باب قسمة الغنم: 2488. سنن نسائي، كتاب الضحايا، باب ما تجزئ عنه البدنة في الضحايا: 4396. صحيح ابن حبان: 5886۔ سنن بیھقی: 61/9
فوائد:
یہ حدیث دلیل ہے کہ ایک اونٹ دس بکریوں کے قائم مقام ہے اور قربانی میں ایک اونٹ میں دس افراد شریک ہو سکتے ہیں۔
امام شوکانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
وقد اختلف فى البدنة فقالت الشافعية والحنفية والجمهور: إنها تجزئ عن سبعة وقالت العترة وإسحاق بن راهويه وابن خزيمة: إنها تجزى عن عشرة وهذا هو الحق هنا لحديث بن عباس المتقدم فى باب أن البدنة من الإبل والبقر عن سبع شياء والأول هو الحق فى الهدي للأحاديث المتقدمة هنالك وأما البقرة فتجزى عن سبعة فقط إتفاقا فى الهدي والأضحية
”اونٹ کی قربانی کتنے افراد سے کفایت کرتی ہے؟ اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔ چنانچہ شافعیہ، حنفیہ اور جمہور علماء کہتے ہیں کہ اونٹ کی قربانی سات افراد کی طرف سے کافی ہے اور عترہ، اسحاق بن راہویہ اور ابن خزیمہ کا موقف ہے کہ اونٹ کی قربانی دس افراد کی طرف سے کافی ہے۔ یہ (ثانی الذکر علماء کا موقف) قربانی کے مسئلہ میں راجح ہے کہ عید الاضحیٰ کی قربانی میں اونٹ دس افراد سے کفایت کرتا ہے، جیسا کہ اس کے قرینِ صواب ہونے کی دلیل حدیثِ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے عنوان ”باب ان البدنة من الابل عن سبع شياه“ کے تحت بیان ہوئی ہے۔ اور اول الذکر (جمہور علماء) کا موقف اس مسئلہ میں درست ہے کہ ہدی (حج کی قربانی) میں اونٹ سات افراد سے کفایت کرتا ہے، البتہ قربانی اور ہدی میں گائے بالاتفاق سات افراد ہی سے کفایت کرتی ہے۔“
نيل الأوطار: 198/5. عون المعبود: 21/8. تحفة الأحوذي: 66/5
گائے اور اونٹ کے ایک سے زائد حصوں میں شریک ہونا:
اگر کوئی شخص گائے اور اونٹ کے ایک سے زائد حصوں میں شامل ہونا چاہے، مثلاً وہ دو یا دو سے زائد حصوں کی قربانی کرنا چاہے تو یہ عمل جائز ہے، کیونکہ قربانی میں گائے سات بکریوں کے اور اونٹ دس بکریوں کے قائم مقام ہے، تو جب دو یا دو سے زائد بکریوں کی قربانی جائز ہے تو گائے اور اونٹ کے دو سے زائد حصوں کی قربانی بھی جائز ہے۔
نیز جب اکیلے شخص کا مکمل اونٹ اور گائے قربانی کرنا جائز ہے تو ایک سے زائد حصوں کی قربانی بالاولیٰ جائز ہے۔ البتہ ڈیڑھ، اڑھائی یا ساڑھے تین، جب تقسیم میں نصف حصہ آئے یہ مختلف صورت ہے۔ اس سے اجتناب لازم ہے۔