مضمون کے اہم نکات
خبر واحد عقیدہ میں بھی حجت ہے:
حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ (463ھ) لکھتے ہیں:
ليس في الاعتقاد كله في صفات الله وأسمائه إلا ما جاء منصوصا في كتاب الله أو صح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أو أجمعت عليه الأمة وما جاء من أخبار الآحاد في ذلك كله أو نحوه يسلم له ولا يناظر فيه.
”اللہ تعالیٰ کے اسما وصفات کے سمیت عقیدہ میں صرف وہی حجت ہے، جس کی وضاحت کتاب اللہ میں موجود ہو یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح سند سے ثابت ہو یا اجماع امت سے ثابت ہو۔ عقیدے کی تمام یا کچھ مباحث میں اگر اخبار آحاد وارد ہوں، تو اسے قبول کیا جائے گا، اس (کے قبول و عدم قبول) میں بحث و مباحثہ نہیں ہوگا۔“ [جامع بيان العلم وفضله: 942/2]
نیز فرماتے ہیں:
الذي نقول به إنه يوجب العمل دون العلم كشهادة الشاهدين والأربعة سواء وعلى ذلك أكثر أهل الفقه والأثر وكلهم يدين بخبر الواحد العدل في الاعتقادات ويعادي ويوالي عليها ويجعلها شرعا ودينا في معتقده على ذلك جماعة أهل السنة ……
’’(خبرِ واحد کے بارے میں) ہمارا موقف یہ ہے کہ اس پر عمل کرنا واجب ہے، لیکن یہ علم (یقینی) کا فائدہ نہیں دیتی۔ جیسے گواہی دو کی ہو یا چار کی، ہوتی تو برابر ہی ہے۔ اکثر فقہا اور محدثین کا یہی موقف ہے۔ سب اہل علم عادل راوی کی خبرِ واحد کو عقیدہ میں حجت مانتے ہیں، اس کی وجہ سے عداوت اور محبت کرتے ہیں۔ اہل سنت کی ایک بڑی جماعت نے خبرِ واحد کو عقیدہ میں دین اور شریعت مانا ہے، ۔۔۔۔۔۔‘‘
[التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: 8/1]
اس پر تعلیق لگاتے ہوئے عبد السلام بن تیمیہ رحمہ اللہ (652ھ) لکھتے ہیں:
هذا الإجماع الذي ذكره في خبر الواحد العدل في الإعتقادات يؤيد قول من يقول: إنه يوجب العلم وإلا فما لا يفيد علما ولا عملا كيف يجعل شرعا ودينا يوالى عليه ويعادى.
’’علامہ ابن عبد البر رحمہ اللہ نے جو ذکر کیا ہے کہ عادل راوی کی خبرِ واحد کے عقائد میں حجت ہونے پر اجماع ہے، اس کی تائید اس قول سے بھی ہوتی ہے: یہ علم (یقینی) کا فائدہ بھی دیتی ہے، کیونکہ جو علم اور عمل کا فائدہ نہ دیتی ہو، اسے شرع یا دین کیسے کہا جا سکتا ہے کہ اسے محبت اور عداوت کا معیار بنایا جا سکے؟‘‘ [المُسَوَّدَة في أصول الفقه، ص 245]
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (751ھ) فرماتے ہیں:
لم يفرق هو ولا احد من أهل الحديث البتة بين أحاديث الأحكام وأحاديث الصفات، ولا يعرف هذا الفرق عن أحد من الصحابة ولا عن أحد من التابعين، ولا من تابعهم ولا عن أحد من أئمة الإسلام، وإنما يعرف عن رؤوس أهل البدع ومن تبعهم.
’’احادیثِ احکام اور احادیثِ صفات میں نہ امام شافعی رحمہ اللہ نے کوئی فرق کیا اور نہ کسی اور محدث نے اور نہ ہی یہ فرق کسی صحابی، تابعی، تبع تابعی یا امام سے ثابت ہے، بلکہ یہ تقسیم سرِاخیر اہل بدعت اور ان کے متبعین سے ہی ملتی ہے۔‘‘
[مختصر الصواعق المرسلة، ص 606-607]
اہل علم کے اقوال:
امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ (204ھ) فرماتے ہیں:
إذا حدث الثقة عن الثقة حتى ينتهي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فهو ثابت عن رسول الله صلى الله عليه وسلم.
’’جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک سند کے تمام راوی ثقہ ہوں، تو یہ حدیثِ نبوی ثابت ہوگی۔‘‘ (کتاب الأم: 201/7)
نیز فرماتے ہیں:
أجمع المسلمون قديما وحديثا على تثبيت خبر الواحد.
’’پہلے اور موجودہ تمام مسلمانوں کا خبرِ واحد کے حجیت ہونے پر اجماع ہے۔‘‘ [کتاب الرسالة، ص 457]
نیز فرماتے ہیں:
لم يزل سبيل سلفنا والقرون بعدهم إلى من شاهدنا هذا السبيل.
’’سلف امت اور قرونِ اولیٰ سے اب تک تمام مسلمانوں کا یہی موقف ہے۔‘‘ [کتاب الرسالة، ص 453]
امام ابو الحسن اشعری رحمہ اللہ (324ھ) فرماتے ہیں:
جملة ما عليه أهل الحديث والسنة الإقرار بالله وملائكته وكتبه ورسله وما جاء من عند الله وما رواه الثقات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يردون من ذلك شيئا.
’’مختصر یہ کہ اہل حدیث وسنت کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ اللہ، فرشتوں، کتابوں اور رسولوں کا اقرار کرتے ہیں، جو اللہ کی جانب سے یا ثقہ رواۃ کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہو، اس کا بھی اقرار کرتے ہیں، ان میں سے کسی بات کا انکار نہیں کرتے۔‘‘ (مقالات الإسلاميين، ص 290)
علامہ ابو العباس احمد بن ابی احمد طبری رحمہ اللہ (335ھ) فرماتے ہیں:
لا خلاف بين أهل الفقه في قبول خبر الآحاد إذا عدلت نقلته وسلم من النسخ حكمه، وإن كانوا متنازعين في شرط ذلك، وإنما دفع خبر الآحاد بعض أهل الكلام لعجزه والله أعلم عن علم السنن زعم أنه لا يقبل منها إلا ما تواترت به أخبار من لا يجوز عليه الغلط والنسيان، وهذا عندنا منه ذريعة إلى إبطال سنن المصطفى صلى الله عليه وسلم لوجهين؛ أحدهما: أن ما شرط من ذلك صفة الأمة المعصومة، والأمة إذا تطابقت على شيء وجب القول به وإن لم يأت خبر والثاني: أنه لو طولب بسنة يتحاكم إليها المتنازعان تواترت عليها أخبار نقلتها وسلمت من خوف النسيان طرقها لم يجد إليها سبيلا.
’’فقہا کا خبرِ واحد کی قبولیت میں کوئی اختلاف نہیں، جب اس کے ناقلین عادل ہوں اور اس کا حکم منسوخ نہ ہو، اگرچہ فقہا کا اس کی شرائط کے بارے اختلاف ہے۔ خبرِ آحاد کو بعض اہل کلام نے رد کیا ہے، واللہ اعلم وہ اس لیے کہ وہ سنن کا علم سے قاصر رہے ہیں، اس کا خیال ہے کہ احادیث میں سے صرف متواتر ہی کو قبول کیا جائے گا، کہ جس میں غلطی یا بھول کا اندیشہ نہ رہے۔ ہمارے مطابق یہ دو وجہ سے سننِ نبویہ علیہ الصلاة والسلام کو رد کرنے کا ذریعہ ہے: ① جو شرط بیان کی گئی ہے، وہ معصوم امت کی صفت ہے، جبکہ امت اگر کسی چیز پر متفق ہو جائے، تو اس پر عمل کرنا واجب ہو جاتا ہے، اگرچہ اس بارے کوئی حدیث نہ بھی ہو۔ ② اگر ایسی سنت ڈھونڈی جائے، جس کے ناقلین متواتر ہوں، تو دنیا میں سنت کا وجود ہی نہیں ملے گا۔‘‘ (الفقیہ والمتفقہ للخطیب: 281/1، وسندہ حسن)
علامہ ابن بطال رحمہ اللہ (449ھ) لکھتے ہیں:
هذا الباب يرد به على الرافضة وقوم من الخوارج زعموا بأن أحكام النبي وسننه منقولة عنه نقل تواتر، وأنه لا سبيل إلى العمل بما لم ينقل نقل تواتر، وقولهم في غاية الجهل بالسنن وطرقها، فقد صحت الآثار أن أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم أخذ بعضهم السنن من بعض ورجع بعضهم إلى ما رواه غيره عن النبي صلى الله عليه وسلم وانعقد الإجماع على القول بالعمل بأخبار الآحاد.
’’اس باب سے روافض اور خوارج کے ایک گروہ کا رد کیا جاتا ہے کہ جن کا کہنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام وسنن آپ سے تواتر کے ساتھ منقول ہیں، لہذا جو حدیث تواتر سے منقول نہ ہو، اس پر عمل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ان کی یہ بات سنن اور ان کی اسناد سے بے خبری کا نتیجہ ہے۔ صحیح روایات میں ثابت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایک دوسرے سے سنن کو حاصل کیا اور ایک دوسرے کی حدیث کی طرف رجوع کیا۔ یوں اخبارِ آحاد پر عمل کرنے پر اجماع ہو گیا۔‘‘ [شرح صحيح البخاري: 10/ 384-385]
علامہ ابن حزم رحمہ اللہ (456ھ) لکھتے ہیں:
قال أبو سليمان والحسين عن أبي علي الكرابيسي والحارث بن أسد المحاسبي وغيرهم أن خبر الواحد العدل عن مثله إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم يوجب العلم والعمل معا وبهذا نقول.
’’ابوسلیمان اور حسین رحمہ اللہ نے امام ابو علی کرابیسی اور حارث بن اسد محاسبی وغیرہ سے نقل کیا ہے کہ جو سند عادل روایوں پر مشتمل ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچے، وہ علم (یقینی) اور عمل کا فائدہ دیتی ہے۔ ہمارا بھی یہی موقف ہے۔‘‘
[الإحكام في أصول الأحكام: 119/1]
حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ (463ھ) لکھتے ہیں:
أجمع أهل العلم من أهل الفقه والأثر في جميع الأمصار فيما علمت على قبول خبر الواحد العدل وإيجاب العمل به إذا ثبت ولم ينسخه غيره من أثر أو إجماع، على هذا جميع الفقهاء في كل عصر من لدن الصحابة إلى يومنا هذا إلا الخوارج وطوائف من أهل البدع شرذمة لا تعد خلافا.
’’ہمارے علم کے مطابق ہر علاقے کے فقہا اور محدثین کا اجماع اور اتفاق ہے کہ عادل راوی کی خبرِ واحد مقبول ہے اور اس پر عمل کرنا واجب ہے، جب وہ روایت ثابت ہو اور کسی اور حدیث یا اجماع کی وجہ سے منسوخ بھی نہ ہو۔ یہ موقف صحابہ سے آج تک کے ہر زمانہ میں ہر علاقے کے تمام فقہا کا ہے، سوائے خوارج اور اہل بدعت کے بعض گروہوں کے۔ یہ چھوٹا سا طبقہ ہے، ان کے اختلاف کی کوئی حیثیت نہیں۔‘‘
[التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: 2/1]
ابو المظفر سمعانی رحمہ اللہ (489ھ) فرماتے ہیں:
إن الخبر إذا صح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ورواه الثقات والأئمة وأسنده خلفهم عن سلفهم إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وتلقته الأمة بالقبول فإنه يوجب العلم فيما سبيله العلم. هذا قول عامة أهل الحديث والمتقنين من القائمين على السنة، وإنما هذا القول الذي يذكر؛ أن خبر الواحد لا يفيد العلم بحال ولا بد من نقله بطريق التواتر لوقوع العلم به، شيء اخترعته القدرية والمعتزلة وكان قصدهم منه رد الأخبار وتلقفه منهم بعض الفقهاء الذين لم يكن لهم في العلم قدم ثابت ولم يقفوا على مقصودهم من هذا القول.
’’ایک حدیث اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو، اسے ثقہ راویوں اور ائمہ نے روایت کیا ہو، بعد والوں نے پہلےوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک سند بیان کی ہو اور اسے امت نے ہاتھوں ہاتھ لیا ہو، تو وہ علم (یقینی) کا فائدہ دیتی ہے۔ یہ سنت پر قائم اہل السنہ کا نظریہ ہے۔ اور وہ جو قول ذکر کیا جاتا ہے کہ خبر واحد اس وقت تک علم کا فائدہ نہیں دیتی، جب تک کہ اس کے ناقلین متواتر کی حد تک نہ پہنچ نہ جائیں، یہ نظریہ قدریہ اور معتزلہ نے اختراع کیا ہے، وہ لوگ اس کے ذریعے احادیث کو ٹھکرانے کا کام لیتے ہیں، ان سے یہ نظریہ بعض فقہاء نے اخذ کر لیا ہے، جن کے علم میں پختگی نہیں آئی ہے، اور وہ اس نظریے کے مقصود و معنی تک کو نہیں جانتے۔‘‘
[الانتصار لأصحاب الحديث، ص 34-35، صون المنطق للسيوطي، ص 212-213]
امام قوام السنہ ابو القاسم اصبہانی رحمہ اللہ (535ھ) فرماتے ہیں:
الخبر اذا صح كان كالمشاهدة، فان قيل: اخبار الاحاد كالشهادات، والشهادة لا يجوز ان يقطع على مغيبها بالاجماع، قيل : الشهادة تخالف اداء الحديث في مواضع، منها انها لا تقبل لابن الشاهد، ولا لابيه وامه، وليس كذلك الحديث؛ لانه اذا حدث عن ابنه او ابيه او امه يقبل حديثه.
’’جب روایت کی سند صحیح ہو، تو وہ مشاہدہ کی طرح ہوتی ہے۔ اگر کوئی کہے کہ اخبارِ آحاد گواہیوں کی طرح ہے اور اس پر اجماع ہے کہ گواہی قطعی نہیں ہوتی۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ گواہی اور بیانِ حدیث میں بہت فرق موجود ہیں، ایک تو یہ کہ گواہی بیٹے اور باپ اور ماں کی قبول نہیں کی جاتی، حدیث کا معاملہ مگر ایسا نہیں ہے، کیونکہ یہاں تو بیٹا باپ سے ماں سے بھی بیان کرے، تو قبول کی جائے گی۔‘‘ [الحجة في بيان المحجة: 379/1]
علامہ ابن العربی رحمہ اللہ (543ھ) فرماتے ہیں:
خبر الواحد اصل عظيم لا ينكره الا زائغ، وقد اجمعت الصحابة على الرجوع اليه، وقد جمعناه في جزء.
’’خبر واحد (دین کی) بہت بڑی بنیاد ہے، جس کا انکار صرف ٹیڑھے دل والا ہی کر سکتا ہے۔ تمام صحابہ بالاجماع خبر واحد کی طرف رجوع کرتے تھے، اس پر ہم نے ایک جزو (کتابچہ) مرتب کیا ہے۔‘‘ [أحكام القرآن: 73/2]
نیز لکھتے ہیں:
قد كان النبي صلى الله عليه وسلم يرسل كتبه مع الواحد، ويأمر الواحد أيضا بتبليغ كلامه، ويبعث الأمراء إلى البلاد وعلى السرايا؛ وذلك لأن الأمر لو وقف فيها على التواتر لما حصل علم، ولا تم حكم.
’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطوط ایک شخص کو دے کر ہی بھیجتے تھے اور ایک شخص ہی اپنے کلام کی تبلیغ کا حکم فرماتے۔ امرا کو علاقے کی طرف اور جنگی مہم پر مقرر کرتے۔ وہ اس لیے کہ اگر اس مسئلے میں متواتر پر ہی اعتماد کیا جاتا، تو علم کا حصول ممکن نہ تھا اور نہ ہی احکام کی تکمیل ہو پاتی۔‘‘ [أحكام القرآن: 607/2]
علامہ ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ (620ھ) لکھتے ہیں:
الإيمان بكل ما أخبر به الرسول ويجب الإيمان بكل ما أخبر به النبي صلى الله عليه وسلم وصح به النقل عنه فيما شاهدناه، أو غاب عنا، نعلم أنه حق، وصدق، وسواء في ذلك ما عقلناه وجهلناه، ولم نطلع على حقيقة معناه، مثل حديث الإسراء والمعراج وكان يقظة لا مناما فإن قريشا أنكرته وأكبرته، ولم تنكر المنامات، ومن ذلك أن ملك الموت لما جاء إلى موسى عليه السلام ليقبض روحه لطمه ففقأ عينه فرجع إلى ربه فرد عليه عينه، ومن ذلك أشراط الساعة، مثل خروج الدجال ونزول عيسى ابن مريم عليه السلام فيقتله، وخروج يأجوج ومأجوج، وخروج الدابة، وطلوع الشمس من مغربها، وأشباه ذلك مما صح به النقل.
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس چیز کی بھی خبر دی ہے، اس پر ایمان لانا واجب ہے، (اگر) اس روایت کی نقل صحیح ہو۔ ہم نے اس کا آنکھوں سے مشاہدہ کیا ہو یا وہ چیز ہم سے اوجھل ہو۔ ہم جانتے ہیں کہ وہ حق اور سچ ہے۔ وہ بات ہماری عقل میں آئے یا نہ آئے یا ہم اس کے حقیقی معنی سے آشنا نہ ہو سکیں۔ مثلاً اسرا اور معراج کی حدیث۔ معراج جاگتے ہوئے ہوئی، نہ کہ خواب میں، کیونکہ قریش نے اس واقعہ معراج کا انکار کیا اور اسے بہت بڑی بات خیال کیا، جبکہ قریش خوابوں کے منکر نہیں تھے۔ اسی طرح (اس حدیث کا بھی انکار کیا کہ) جب ملک الموت سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس روح قبض کرنے آیا تو موسیٰ علیہ السلام نے اسے تھپڑ مارا اور آنکھ پھوڑ دی۔ فرشتہ اللہ تعالیٰ کے پاس آیا تو اللہ نے آنکھ کو صحیح کر دیا۔ اسی طرح قیامت کی نشانیاں مثلاً؛ دجال کا خروج اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول اور ان کا دجال کو قتل کرنا، یاجوج و ماجوج اور دابة الارض کا خروج، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور اسی طرح کی دیگر صحیح احادیث۔‘‘ [لمعة الاعتقاد، ص 28]
حافظ مزی رحمہ اللہ (742ھ) لکھتے ہیں:
نقبل خبر الواحد ونستعمله، تلقاه العمل أو لم يتلقه، وهو مذهب أهل الحديث.
’’ہم خبر واحد کو قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں، اس پر عمل متواتر ہو یا نہ ہو، محدثین کا مذہب یہی ہے۔‘‘ (تهذيب الكمال: 37/1)
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (751ھ) فرماتے ہیں:
نحن نشهد بالله ولله شهادة على البت والقطع …… ومن هذا إخبار الصحابة بعضهم بعضا فإنهم كانوا يجزمون بما يحدث به أحدهم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم يقل أحد منهم لمن حدثه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم خبرك خبر واحد لا يفيد العلم حتى يتوافر، وتوقف من توقف منهم حتى عضده آخر منهم لا يدل على رد خبر الواحد عن كونه خبر واحد، وإنما كان يستثبت أحيانا نادرة جدا إذا استخبر .ولم يكن أحد من الصحابة ولا أهل الإسلام بعدهم يشكون فيما يخبر به أبو بكر الصديق عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا عمر ولا عثمان ولا علي ولا عبد الله بن مسعود وأبي بن كعب وأبو ذر ومعاذ بن جبل وعبادة بن الصامت وعبد الله بن عمر وأمثالهم من الصحابة، بل كانوا لا يشكون في خبر أبي هريرة مع تفرده بكثير من الحديث، ولم يقل له أحد منهم يوما واحدا من الدهر: خبرك خبر واحد لا يفيد العلم.
’’ہم اللہ کی پختہ قسم کے ساتھ گواہی دیتے ہیں:۔۔۔۔۔۔ اسی طرح صحابہ کرام کا ایک دوسرے کو (حدیث کی) خبر دینا کہ کوئی صحابی اگر حدیث بیان کرتا، تو صحابہ کرام اسے بالجزوم قبول کرتے تھے اور کوئی صحابی حدیث بیان کرنے والے صحابی سے یہ نہیں کہتا تھا کہ تمہاری حدیث خبرِ واحد ہے، یہ تب تک علم (یقینی) کا فائدہ نہیں دے گی، جب تک یہ متواتر نہ ہو جائے۔ صحابہ کرام میں سے جس نے اکیلے صحابی روایت میں توقف کیا، وہ صرف اس لیے کیا تھا کہ اس کو کسی اور صحابی کی تائید بھی ہو جائے۔ ان کا توقف خبرِ واحد کو رد کرنے پر دلالت نہیں کرتا، یہ تو بسا اوقات صرف انتہائی احتیاط کی وجہ سے تھا۔ کسی صحابی یا بعد کے مسلمان نے کبھی میں اس حدیث میں شک نہیں کیا، جس کی خبر انہیں ابو بکر صدیق، عمر، عثمان، علی، عبد اللہ بن مسعود، ابی بن کعب، ابو ذر، معاذ بن جبل، عبادہ بن صامت، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہم یا دیگر صحابہ نے دی ہو۔ بلکہ وہ تو سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں بھی شک نہیں کرتے تھے، باوجود اس کے کہ وہ بہت سے روایات میں منفرد تھے، انہیں کسی صحابی نے کبھی بھی یہ نہیں کہا کہ آپ کی حدیث خبرِ واحد ہے، علم (یقینی) کا فائدہ نہیں دیتی۔‘‘ [مختصر الصواعق المرسلة، ص 552]
نیز فرماتے ہیں:
هذا الذي اعتمده نفاة العلم عن أخبار رسول الله خرقوا به إجماع الصحابة المعلوم بالضرورة بإجماع التابعين وإجماع أئمة الإسلام، ووافقوا به المعتزلة والجهمية والرافضة والخوارج الذين انتهكوا هذه الحرمة، وتبعهم بعض الأصوليين والفقهاء، وإلا فلا يعرف لهم سلف من الأئمة بذلك بل صرح الأئمة بخلاف قولهم.
’’وہ لوگ جن کا نظریہ ہے کہ اخبارِ رسول علم کا فائدہ نہیں دیتی ہیں، انہوں نے یہ نظریہ صحابہ کے اجماع، تابعین اور ائمہ اسلام کے اجماع کے مقابلے میں گھڑ لیا ہے، یہ لوگ اس سلسلے میں معتزلہ، جہمیہ، روافض اور خوارج کے ہمنوا ہوئے ہیں، جنہوں نے اس حرمت کی پامالی کی ہے، پھر بعض اصولیوں اور فقہاء نے ان سے یہ نظریہ اخذ کر لیا ہے، سلف میں مگر ان کا کوئی ہمنوا نہیں ملتا، اس کے مخالف اقوال البتہ موجود ہیں۔‘‘ (مختصر الصواعق المرسلة، ص 553)
علامہ ابن ابی العز حنفی رحمہ اللہ (792ھ) لکھتے ہیں:
خبر الواحد إذا تلقته الأمة بالقبول، عملا به وتصديقا له: يفيد العلم اليقيني عند جماهير الأمة، وهو أحد قسمي المتواتر، ولم يكن بين سلف الأمة في ذلك نزاع.
’’خبر واحد کو امت کی طرف عملی اور تصدیقی طور پر تلقی بالقبول حاصل ہو تو جمہور اہل علم کے نزدیک وہ علم یقینی کا فائدہ دیتی ہے۔ یہ بھی متواتر کی دو قسموں میں سے ایک ہے۔ سلف امت میں اس بارے کوئی اختلاف نہیں۔‘‘
[شرح العقيدة الطحاوية، ص 355]
تنبیہ: خطیب ابوبکر بغدادی رحمہ اللہ (463ھ) لکھتے ہیں:
لا يقبل خبر الواحد في منافاة حكم العقل وحكم القرآن الثابت المحكم، والسنة المعلومة، والفعل الجاري مجرى السنة، وكل دليل مقطوع به، وإنما يقبل به فيما لا يقطع به.
’’خبر واحد اگر عقل، قرآن کی محکم آیت، سنتِ معلومہ، عمل متواتر اور کسی بھی قطعی دلیل کے معارض ہو تو اسے قبول نہیں کیا جائے گا، بلکہ صرف اس وقت قبول کیا جائے گا، جب وہ قطعی الثبوت (عقائد وغیرہ) کے بارے نہ ہو۔‘‘
[الكفاية في علم الرواية، ص 432]
حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ (597ھ) لکھتے ہیں:
ألا ترى أنه لو اجتمع خلق من الثقات فأخبروا أن الجمل قد دخل في سم الخياط لما نفعنا ثقتهم ولا أثرت في خبرهم، لأنهم أخبروا بمستحيل، فكل حديث رأيته يخالف المعقول، أو يناقض الأصول، فاعلم أنه موضوع فلا تتكلف اعتباره.
’’کیا آپ دیکھتے نہیں کہ اگر ثقہ راویوں کی ایک بڑی جماعت یہ خبر دے کہ اونٹ سوئی کے سوراخ میں داخل ہو گیا، تو ان راویوں کا ثقہ ہونا مفید نہ ہوگا اور نہ ہی اس خبر (کے رد کرنے) میں مانع ہوگا، کیونکہ ان رواة نے ایک محال چیز کی خبر دی ہے، لہذا ہر وہ حدیث، جو آپ کی نظر میں عقل یا اصول کے مخالف ہے، تو جان لیجئے کہ وہ موضوع ہے، اس کے شواہد تلاش کرنے کا تکلف نہ کیجئے۔“
[الموضوعات: 106/1]
علامہ عبدالقاہر بغدادی رحمہ اللہ (429ھ) لکھتے ہیں:
أما أخبار الآحاد فمتى صح إسنادها وكانت متونها غير مستحيلة في العقل كانت موجبة للعمل بها دون العلم وكانت بمنزلة شهادة العدول عند الحاكم في أنه يلزمه الحكم بها في الظاهر وإن لم يعلم صدقهم في الشهادة، وبهذا النوع من الخبر أثبت الفقهاء أكثر فروع الأحكام الشرعية في العبادات والمعاملات وسائر أبواب الحلال والحرام وضللوا من أسقط وجوب العمل بأخبار الآحاد في الجملة من الرافضة والخوارج وسائر أهل الأهواء.
’’اخبارِ آحاد کی جب سندیں صحیح ہوں اور ان کے متون کو عقل محال نہ سمجھے، تو ان پر عمل کرنا واجب ہے، لیکن یہ علم (یقینی) کا فائدہ نہیں دیتی۔ یہ گواہی کی طرح ہو گئیں، جو گواہی حاکم کے سامنے کوئی عادل آدمی دیتا ہے کہ حاکم کے لیے ظاہر کے دیکھتے ہوئے اس کے مطابق فیصلہ دینا ضروری ہو جاتا ہے، اگرچہ وہ اسے گواہی میں سچا نہ سمجھے۔ فقہاء نے عبادات، معاملات اور حلال و حرام کے شرعی احکام کے اکثر فروعی مسائل حدیث کی اسی قسم سے ثابت کیے ہیں۔ روافض، خوارج اور تمام اہل بدعت اخبارِ آحاد کو کلی طور پر ناقابلِ عمل قرار دے کر گمراہ ہو گئے ہیں۔‘‘
[الفرق بين الفرق، ص 312-313]
❀ خطیب بغدادی رحمہ اللہ اور حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ کی بات ذرا تفصیل طلب ہے، کیونکہ اس سے آگے سوال اور بھی ہیں، مثلاً: یہ سوال کہ کیا ہر وہ بات جو عقل کے خلاف نظر آئے ٹھکرا دی جائے گی؟ یا جو مجھے لگے کہ قرآن کے خلاف ہے، رد ہوگی؟ بھلے اس کو صحابہ و تابعین اور ائمہ محدثین قرآن کے خلاف نہ سمجھتے ہوں؟
کیا سلف میں خارقِ عادت امور کو ٹھکرانے کی روش رہی تھی؟ تو جواب یہ ہے کہ ہرگز نہیں، بلکہ خود مذکورہ دونوں بزرگوں نے کرامات نقل کی ہیں، ان پر اعتماد کیا ہے، معجزوں کو تسلیم کیا ہے، حالاں کہ معجزے اور کرامات عقل سے ماورا چیزیں ہوتی ہیں۔
زمانہ موجود کی بہت ساری عقول اور سائنس دان تک جادو کا انکار کرتے ہیں، ان کا ماننا ہے کہ جن وغیرہ کا وجود بالکل بھی نہیں ہوتا، نہ جادو کی کوئی حقیقت ہے، قرآن مگر جنوں کے نام پر ایک سورت لاتا ہے، جادو کا اقرار کرتا ہے، وہ بتاتا ہے کہ اللہ کے پیغمبروں کو بھی جادوگروں سے سامنا ہوتا رہا۔
تو اب کیا کیجئے؟ کیا مان لیجئے کہ ہزاروں لوگ بھی معقول کے خلاف بات بیان کر رہے، لہذا قرآن کے اس حصے کو محرف تسلیم کیا جائے یا ٹھکرا دیا جائے؟
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) لکھتے ہیں:
إن وجوب تصديق كل مسلم بما أخبر الله به ورسوله من صفاته ليس موقوفا على أن يقوم عليه دليل عقلي على تلك الصفة بعينها فإنه مما يعلم بالاضطرار من دين الإسلام أن الرسول إذا أخبرنا بشيء من صفات الله تعالى وجب علينا التصديق به وإن لم نعلم ثبوته بعقولنا ومن لم يقر بما جاء به الرسول حتى يعلمه بعقله فقد أشبه الذين قال الله عنهم: [قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ حَتّٰی نُؤۡتٰی مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِیَ رُسُلُ اللّٰہِ ؕ اَللّٰہُ اَعۡلَمُ حَیۡثُ یَجۡعَلُ رِسَالَتَہٗ ؕ] ومن سلك هذا السبيل فهو في الحقيقة ليس مؤمنا بالرسول ولا متلقيا عنه الأخبار بشأن الربوبية ولا فرق عنده بين أن يخبر الرسول بشيء من ذلك أو لم يخبر به فإن ما أخبر به إذا لم يعلمه بعقله لا يصدق به بل يتأوله أو يفوضه وما لم يخبر به إن علمه بعقله آمن به، وإلا فلا فرق عند من سلك هذا السبيل بين وجود الرسول وإخباره وبين عدم الرسول وعدم إخباره، وكان ما يذكره من القرآن والحديث والإجماع في هذا الباب عديم الأثر عنده وهذا قد صرح به أئمة هذا الطريق.
’’صفاتِ باری تعالیٰ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر پر مسلمان کی تصدیق کرنے کا وجوب عقل پر موقوف نہیں ہے کہ عقل اس صفت کی حقیقت پر دلالت کرے۔ کیونکہ یہ دین کا بنیادی اصول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمیں اللہ کی کسی صفت کے متعلق خبر دیں تو ہمارے لیے اس پر ایمان لانا واجب ہے، اگرچہ ہماری عقل اسے قبول نہ کرے۔ جو عقل کے قبول کرنے تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کی تصدیق نہ کرے، وہ ان لوگوں جیسا ہے، جن کے بارے اللہ کا فرمان ہے: [قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ حَتّٰی نُؤۡتٰی مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِیَ رُسُلُ اللّٰہِ ؕ اَللّٰہُ اَعۡلَمُ حَیۡثُ یَجۡعَلُ رِسَالَتَہٗ ؕ] ’’کفار نے کہا: ہم تب تک ایمان نہیں لائیں گے، جب تک ہمیں بھی وہ کچھ نہ دے دیا جائے، جو رسولوں کو دیا گیا ہے۔ (حالانکہ) اللہ ہی جانتا ہے کہ اس نے رسالت کسے سونپنی ہے۔‘‘ جو اس ڈگر پر چلتا، وہ درحقیقت نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا ہے اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رب تعالیٰ کے بارے بیان کردہ احادیث کو لیتا ہے۔ اس کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی بات کی خبر دیں یا نہ دیں، کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی بات اگر اس کی عقل میں نہ آئے، تو وہ اس کی تصدیق نہیں کرتا، بلکہ اس کی تاویل کرتا ہے یا تفویض سے کام لیتا ہے اور جس چیز کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ دی ہو، لیکن اس کی عقل میں آ گئی ہو، تو اس پر ایمان لاتا ہے۔ ایسے شخص کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی احادیث کا ہونا یا نہ ہونا برابر ہے، اس بارے میں قرآن، حدیث یا اجماع کے دلائل کوئی اثر نہیں رکھتے۔ اس رستے کے راہبروں نے اس بات کی صراحت بھی کر رکھی ہے۔‘‘ (شرح العقيدة الأصفهانية، ص 44)
❀ تو ظاہر ہے کہ ان بزرگوں نے عقلِ انفرادی کو ہرگز مراد نہیں لیا، بلکہ اجتماعی شعور مراد لیا ہے، اور اس چیز کو ایک قرینہ کے طور پر بیان کیا ہے کہ صحیح روایت عقل کے اجتماعی اصولوں پر پوری اترتی ہے، اس کے خلاف ہو ہی نہیں سکتی، وہ حدیث جس کی سند صحیح ہو، ائمہ علل کی چھلنی سے صحیح سلامت گزر کر آ جائے، وہ نہ تو قرآن کے مخالف ہوتی ہے، نہ حدیث کے اور نہ عقلِ صحیح کے مخالف ہوتی ہے۔
یا پھر نقل کے باب میں عقل کا استعمال، یعنی اگر ایک راوی کسی ایسے شخص سے بیان کر رہا ہو، جس سے اس کی ملاقات ہی نہیں، یا ایسے راوی سے بیان کر رہا ہے، جس سے ملاقات محال ہے تو عقل کا کلی اصول ہے کہ وہ روایت قبول نہیں کی جائے گی، بیان کرنے والا بھلے ثقہ ہی کیوں نہ ہو، لیکن جب ثقہ راوی ثقہ سے بیان کر رہا ہو، ان میں کوئی مخفی علت بھی نہ ہو، تدلیس نہ ہو، ائمہ علل نے اس کو قبول کیا ہو، تو پھر ایسی روایت کو عقل کے ترازو پر تول کر یا قرآن و اجماع وغیرہ کے مخالف کہہ کر ٹھکرایا نہیں جا سکتا۔
چلتے چلتے ایک اور بات بھی بیان کرتا چلوں کہ بعض فقہاء کے نزدیک خبرِ واحد کو کہ علم کا فائدہ نہیں دیتی، اس پر عمل مگر فرض ہے، لیکن ان کے قول کا ابتدائی حصہ کہ خبرِ واحد علم کا فائدہ نہیں دیتی، قابلِ مواخذہ ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
إن قيل: أما الجزم بصدقه فلا يمكن منهم، وأما العمل به وهو الواجب عليهم وإن لم يكن صحيحا في الباطن، وهذا سؤال ابن الباقلاني.
قلنا: أما الجزم بصدقه فإنه قد يحتفي به من القرائن ما يوجب العلم، إذ القرائن المجردة قد تفيد العلم بمضمونها، فكيف إذا احتفت بالخبر، والمنازع بنى على هذا أصله الواهي أن العلم بمجرد الأخبار لا يحصل إلا من جهة العدد، فلزمه أن يقول ما دون العدد لا يفيد أصلا، وهذا غلط خالفه فيه حذاق أتباعه، وأما العمل به فلو جاز أن يكون في الباطن كذبا وقد وجب علينا العمل به لانعقد الإجماع على ما هو كذب وخطأ في نفس الأمر، وهذا باطل، فإذا كان تلقي الأمة له يدل على صدقه لأنه إجماع منهم على أنه صدق مقبول فإجماع السلف والصحابة أولى أن يدل على صدقه، فإنه لا يمكن أحد أن يدعي إجماع الأمة إلا فيما أجمع عليه سلفها من الصحابة والتابعين، وأما بعد ذلك فقد انتشرت انتشارا لا تضبط أقوال جميعها.
’’علامہ باقلانی کہتے ہیں کہ خبرِ واحد کی تصدیق بالجزوم ممکن نہیں، لیکن اس پر عمل کرنا واجب ہے، بھلے وہ حقیقت میں صحیح نہ بھی ہو۔
اس کا جواب یہ ہے کہ خبر کے ساتھ جب قرائن کی تائید ہو جائے، تو وہ علم کا فائدہ دیتی ہے، کیونکہ بسا اوقات اگر خبر نہ بھی ہو، تب بھی صرف قرائن ہی علم کا فائدہ دے جاتے ہیں، تو جب وہ خبر سے مل جائیں گے، یقیناً علم کا فائدہ دیں گے، اصل میں خرابی ایک واہیات قاعدے سے پیدا ہوئی ہے اور وہ یہ کہ لوگوں نے سمجھ لیا کہ جب بہت سارے لوگ بیان کریں، بات تب ہی معتبر ہوگی، حالانکہ یہ غلط بات ہے، اہل فہم اس کا انکار کرتے ہیں۔ دیکھئے ایک چیز کو باطن میں اگر غلط مان لیجئے تو ماننا پڑے گا کہ اس کذب اور خطا پر اجماع ہو گیا ہے، اور یہ بات نفس الامر میں غلط ہے۔ جب امت ایک خبر کو تلقی بالقبول کا درجہ دے دیتی ہے تو وہ اس کی سچائی پر دلالت ہوتی ہے، کیوں کہ امت کا اجماع جھوٹ پر نہیں ہو سکتا، اور یہ سلف صحابہ کا اجماع تو اس باب میں اولیٰ ہے کہ اس کو سچ سمجھا جائے۔ کیوں کہ ایسا تو ممکن نہیں ہے کہ صحابہ اور سلف کے سوا کسی بات پر اجماع کا دعویٰ کیا جا سکے، کیوں کہ ان کے بعد تو امت میں اتنا انتشار پیدا ہو گیا تھا کہ اقوال کو منضبط کرنا ممکن ہی نہ رہا تھا۔‘‘ [مختصر الصواعق المرسلة لابن القيم، ص 560]
تنبیہ بلیغ:
سیدنا ابو موسیٰ عبد اللہ بن قیس اشعری رضی اللہ عنہ کے متعلق ہے:
استأذن على عمر بن الخطاب رضي الله عنه، فلم يؤذن له، وكأنه كان مشغولا، فرجع أبو موسى، ففرغ عمر، فقال: ألم أسمع صوت عبد الله بن قيس ائذنوا له، قيل : قد رجع، فدعاه فقال: كنا نؤمر بذلك، فقال: تأتيني على ذلك بالبينة، فانطلق إلى مجلس الأنصار، فسألهم، فقالوا: لا يشهد لك على هذا إلا أصغرنا أبو سعيد الخدري، فذهب بأبي سعيد الخدري، فقال عمر: أخفي هذا علي من أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم ألهاني الصفق بالأسواق يعني الخروج إلى تجارة.
’’انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے (سلام کہہ کر) اجازت مانگی، لیکن (سلام کے جواب کی صورت میں) اجازت نہ ملی، شاید عمر رضی اللہ عنہ مصروف ہوں، پھر ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ واپس آ گئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ غصے ہوئے اور کہا: کیا میں نے عبد اللہ بن قیس کو اجازت مانگتے ہوئے نہیں سنا، کہا گیا: وہ واپس چلے گئے ہیں، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں بلایا، تو انہوں نے جواب دیا: ہمیں (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے) یہی حکم دیا جاتا تھا۔
[صحیح البخاري: 2062، صحیح مسلم: 2154]
❀ اس روایت سے یہ شبہ ہو سکتا ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خبر واحد کو حجت نہیں مانتے تھے، یہ بات مگر درست نہیں ہے، کیونکہ سیدنا عمر کا مقصد احتیاط اور تثبت تھا، جیسا کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بھی یہ حدیث سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کی اور کہا: ابن خطاب! آپ اصحابِ رسول کے لیے عذاب نہ بنیں۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواب میں فرمایا: سبحان الله، إنما سمعت شيئا، فأحببت أن أتثبت.
’’سبحان اللہ! میں نے حدیث سن کر صرف اس کی مزید تائید حاصل کرنا چاہی ہے۔‘‘
[صحیح مسلم: 2154]
❀ یہ اسی قبیل سے ہے، جس قبیل سے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا بیان کہ اللہ کریم میں صرف مزید اطمینان چاہتا ہوں، مانتا تو ہوں ہی۔