حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب: قرآن اور صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس مرزا محمد علی انجینئر کے اعتراضات و اشکالات کا تحقیقی جائزہ سے ماخوذ ہے جسے ہارون بن شبیر احمد حفظہ اللہ نے تالیف کیا ہے اور نظرِ ثانی فضیلۃ الشیخ مولانا محمد رفیق طاہر حفظہ اللہ نے کی ہے۔
مضمون کے اہم نکات

جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب اور ذکر خیر

(عمومی فضیلت) آپ کا صحابی رسول ہونا:

اللہ تعالیٰ اپنی پاک کتاب قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
لَا يَسْتَوِي مِنْكُمْ مَنْ أَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ أُولَئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِنَ الَّذِينَ أَنْفَقُوا مِنْ بَعْدُ وَقَاتَلُوا وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
”جس شخص نے تم میں سے فتح (مکہ) سے پہلے خرچ کیا اور جہاد کیا وہ (اور جس نے خرچ اور جہاد فتح مکہ کے بعد کیا) برابر نہیں۔ ان کا درجہ ان لوگوں سے کہیں بڑھ کر ہے جنھوں نے بعد میں خرچ اور جہاد کیا، مگر اللہ نے دونوں سے ہی بھلائی کا وعدہ کیا ہے۔ اور جو کام تم کرتے ہو اللہ ان سے خوب واقف ہے۔“ (سورۃ الحدید:10)
اور ارشاد فرمایا:
مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا
”محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں، کافروں پر بہت سخت ہیں، آپس میں نہایت رحم دل ہیں، تُو انھیں اس حال میں دیکھے گا کہ رکوع کرنے والے ہیں، سجدے کرنے والے ہیں، اپنے رب کا فضل اور (اس کی) رضا ڈھونڈتے ہیں، ان کی شناخت ان کے چہروں میں سجدہ کرنے کے اثر سے موجود ہے، یہ ان کا وصف تورات میں ہے۔ اور انجیل میں ان کا وصف اس کھیتی کی طرح ہے جس نے اپنی کونپل نکالی، پھر اسے مضبوط کیا، پھر وہ موٹی ہوئی، پھر اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہو گئی، کاشت کرنے والوں کو خوش کرتی ہے، تاکہ وہ ان کے ذریعے کافروں کو غصہ دلائے، اللہ نے ان لوگوں سے جو ان میں سے ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے بڑی بخشش اور بہت بڑے اجر کا وعدہ کیا ہے۔“ (سورۃ الفتح:29)
ایک جگہ فرمایا:
وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (سورۃ التوبۃ:100)
”اور مہاجرین وانصار میں سے سبقت کرنے والے سب سے پہلے لوگ اور وہ لوگ جو نیکی کے ساتھ ان کے پیچھے آئے، (یعنی ان سے بعد میں ایمان لانے والے صحابہ) اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اس سے راضی ہو گئے اور اس نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کیے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔“
اور صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
وَاعْلَمُوا أَنَّ فِيكُمْ رَسُولَ اللَّهِ لَوْ يُطِيعُكُمْ فِي كَثِيرٍ مِنَ الْأَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ أُولَئِكَ هُمُ الرَّاشِدُونَ
”اور جان لو کہ تم میں اللہ کا رسول ہے، اگر وہ بہت سے کاموں میں تمہارا کہا مان لے تو یقیناً تم مشکل میں پڑ جاؤ، اور لیکن اللہ نے تمہارے لیے ایمان کو محبوب بنا دیا اور اسے تمہارے دلوں میں مزین کر دیا اور اس نے کفر اور گناہ اور نافرمانی کو تمہارے لیے ناپسندیدہ بنا دیا، یہی لوگ تو ہدایت والے ہیں۔“ (سورۃ الحجرات:7)
قرآن تو کہیں صحابہ کو کامیاب کہہ رہا ہے، کہیں ان سے مغفرت، جنت اور بڑی خیر وبھلائی کے وعدے کر رہا ہے، اور کہیں ان کی صفات بیان کر رہا ہے، کہیں ان سے راضی ہونے کی بشارتیں سنا رہا ہے، اور اعلان کر رہا ہے کہ صحابہ آپس میں بڑے رحم دل اور خیر خواہ ہیں۔ اب ایک یہ تاثر ہے جو ہمیں قرآن سے مل رہا ہے۔ اور دوسری طرف گندی اور نیچ سوچ کے مالکوں کی طرف سے وہ منفی تاثر ہے، جو صحابہ سے یا بعض صحابہ سے راضی نہیں، ان کے متعلق شکوک وشبہات پیدا کرتے ہیں، اور یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کی آپس میں لڑائیاں تھیں، دشمنی اور عداوت تھی۔ اب احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں صحابہ کرام کی شان وعظمت اور ذکر خیر ملاحظہ فرمائیں۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ……
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے زمانے کے لوگ سب سے بہترین لوگ ہیں، پھر ان کے بعد والے اور پھر ان کے بعد والے…………“
(صحیح بخاری:3651، صحیح مسلم:2533)
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ لَهُمْ: فِيكُمْ مَنْ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ، ثُمَّ يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ لَهُمْ: فِيكُمْ مَنْ رَأَى مَنْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ. فَيُفْتَحُ لَهُمْ، ثُمَّ يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ لَهُمْ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ رَأَى مَنْ صَحِبَ مَنْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگوں کی فوجیں جنگ کریں گی، ان سے کہا جائے گا: کیا تم میں ایسے لوگ ہیں جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہو؟ تو وہ کہیں گے: ہاں! تو (ان کی برکت کی وجہ سے) انھیں فتح حاصل ہو جائے گی، پھر لوگوں کی فوجیں جنگ کریں گی، ان سے پوچھا جائے گا: کیا تم میں ایسے لوگ ہیں جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو دیکھا ہو؟ وہ کہیں گے: ہاں! (اور ان کی برکت سے) انھیں فتح ملے گی، پھر لوگوں کی فوجیں جنگ کریں گی، ان سے پوچھا جائے گا: کیا تم میں ایسے لوگ ہیں جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو دیکھنے والوں کو دیکھا ہو، وہ کہیں گے: ہاں! تو انھیں فتح حاصل ہو جائے گی۔“ (صحیح بخاری:2897، صحیح مسلم:2532)
ایک حدیث میں ہے:
…….وَأَصْحَابِي أَمَنَةٌ لِأُمَّتِي، فَإِذَا ذَهَبَ أَصْحَابِي أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ۔
”اور میرے صحابہ میری امت کے لیے باعثِ امن ہیں، پس جب میرے صحابہ رخصت ہو جائیں گے تو میری امت پر وہ چیز آ جائے گی جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔“ (صحیح مسلم:2531)
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ۔
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے صحابہ کو برا بھلا مت کہو۔ اگر کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر ڈالے تو ان کے ایک مد غلہ کے برابر بھی نہیں ہو سکتا اور نہ ان کے آدھے مد کے برابر۔“
(صحیح بخاری:3673، صحیح مسلم:6488)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے حدیث مروی ہے:
لَا تَمَسُّ النَّارُ مُسْلِمًا رَآنِي، أَوْ رَأَى مَنْ رَآنِي۔
”جس مسلمان شخص نے مجھے دیکھا اسے جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی اور اسے بھی جس نے میرے کسی صحابی کو دیکھا۔“ (سنن ترمذی:3858)
اس حدیث کو امام ترمذی اور علامہ زبیر علی زئی رحمہما اللہ نے حسن کہا۔ اور اس کے راوی ”موسیٰ بن ابراہیم بن کثیر“ کو امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ثقہ اور امام ذہبی وابن حجر رحمہما اللہ نے صدوق قرار دیا ہے، نیز امام حاکم رحمہ اللہ نے ان کی حدیث کو صحیح کہا (الثقات لابن حبان: 449/7، تاریخ الاسلام للذهبي: 1220/4، تقریب التہذیب: 6942، المستدرک للحاکم: 1852)
لہٰذا یہ راوی حسن الحدیث ہے۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اپنے قول سے رجوع کرتے ہوئے اس راوی کو صدوق اور ان کی بیان کردہ روایت کو حسن قرار دیا۔ (سلسلۃ الصحیحۃ:1497)
اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان فرمائی:
أَكْرِمُوا أَصْحَابِي، فَإِنَّهُمْ خِيَارُكُمْ……
”میرے صحابہ کی عزت کرو کیونکہ وہ تم میں سب سے بہتر لوگ ہیں!“ (مسند ابی داؤد الطیالسی:31، شرح السنہ للبغوي:28/9)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا بڑا ہی خوبصورت قول ہے:
إِنَّ اللَّهَ نَظَرَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ، فَوَجَدَ قَلْبَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ، فَاصْطَفَاهُ لِنَفْسِهِ، فَابْتَعَثَهُ بِرِسَالَتِهِ، ثُمَّ نَظَرَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ بَعْدَ قَلْبِ مُحَمَّدٍ، فَوَجَدَ قُلُوبَ أَصْحَابِهِ خَيْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ، فَجَعَلَهُمْ وُزَرَاءَ نَبِيِّهِ يُقَاتِلُونَ عَلَى دِينِهِ۔
”اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں کی طرف دیکھا تو سب سے بہترین دل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پایا تو اسے اپنے لیے چن لیا اور انہیں رسالت دے کر مبعوث فرمایا، پھر اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بندوں کے دلوں کو دیکھا تو سب سے بہترین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو پایا تو انہیں اپنے نبی کے وزراء بنا دیا جو اسکے دین کی خاطر قتال کرتے ہیں۔“ (مسند احمد:3600)
اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ارشاد ہے:
لَا تَسُبُّوا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمُقَامُ أَحَدِهِمْ سَاعَةً خَيْرٌ مِنْ عَمَلِ أَحَدِكُمْ عُمُرَهُ۔
”جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو برا نہ کہو، ایک صحابی کا (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں) گھڑی بھر ٹھہرنا، تم میں سے کسی کی زندگی بھر کے عملوں سے بہتر ہے۔“
(سنن ابن ماجہ:162)

حدیث ”اول جیش من امتی“ اور جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت:

عَنْ أُمِّ حَرَامٍ أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ الْبَحْرَ قَدْ أَوْجَبُوا”. قَالَتْ أُمُّ حَرَامٍ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا فِيهِمْ؟ قَالَ: "أَنْتِ فِيهِمْ”. ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ مَدِينَةَ قَيْصَرَ مَغْفُورٌ لَهُمْ”. فَقُلْتُ: أَنَا فِيهِمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "لَا”۔
”حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میری امت کا پہلا گروہ جو بحری جہاد کرے گا ان پر جنت واجب ہے! تو میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں بھی ان میں شامل ہوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں تم انہی میں ہو! پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کا پہلا لشکر جو قیصر کے شہر کے خلاف جہاد کرے گا وہ مغفور ہے! تو میں نے پوچھا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں بھی ان میں ہوں؟ آپ نے جواب دیا نہیں۔“
(صحیح بخاری:2924)
اور وہ پہلا جہاد جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کی سرپرستی میں ہوا تھا، چنانچہ صحیح بخاری ہی میں ہے، جناب انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَهَبَ إِلَى قُبَاءٍ، يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ، وَكَانَتْ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، فَدَخَلَ يَوْمًا فَأَطْعَمَتْهُ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ يَضْحَكُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: "نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ مُلُوكًا عَلَى الْأَسِرَّةِ”. أَوْ قَالَ: "مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ”. شَكَّ إِسْحَاقُ، قُلْتُ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. فَدَعَا، ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ يَضْحَكُ، فَقُلْتُ: مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ مُلُوكًا عَلَى الْأَسِرَّةِ، أَوْ مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ”. فَقُلْتُ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. قَالَ: "أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ”. فَرَكِبَتِ الْبَحْرَ زَمَانَ مُعَاوِيَةَ، فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ، فَهَلَكَتْ۔
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قباء تشریف لے جایا کرتے تو حضرت ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے پاس بھی جاتے اور وہ آپکو کھانا کھلایا کرتی (وہ آپکی محرم تھیں)، اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں آئے تو انہوں نے آپ کو کھانا کھلایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، پھر آپ مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے، ام حرام رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ آپ نے جواب دیا: میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے پیش کیے گئے، جو اس سمندر کے اوپر (کشتیوں پر) سوار ہوں گے جیسے بادشاہ تخت پر ہوتے ہیں، میں (ام حرام) نے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے) کہا: میرے لیے اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے ان میں شامل کر دے، پس آپ نے دعا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر رکھ کر سو گئے، آپ پھر مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے، میں نے پھر سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے پیش کیے گئے، جو اس سمندر کے اوپر (کشتیوں پر) سوار ہوں گے جیسے بادشاہ تخت پر ہوتے ہیں، میں (ام حرام) نے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے) کہا: میرے لیے اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے ان میں شامل کر دے، مگر آپ نے فرمایا کہ تو پہلے لشکر والوں میں ہے، چنانچہ ام حرام رضی اللہ عنہا نے معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں سمندری سفر کیا (وہی جہادی سفر جس کے بارے میں بشارت ہے) اور خشکی پر اترنے کے بعد اپنی سواری سے گر پڑیں اور وفات پا گئیں۔“ (صحیح بخاری:6283)
اور دوسری روایت میں ہے:
فَخَرَجَتْ مَعَ زَوْجِهَا عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ غَازِيًا أَوَّلَ مَا رَكِبَ الْمُسْلِمُونَ الْبَحْرَ مَعَ مُعَاوِيَةَ۔
”پس ام حرام رضی اللہ عنہا اپنے خاوند عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے ساتھ جہاد کے لیے معاویہ رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں مسلمانوں کے سب سے پہلے بحری بیڑے میں شریک ہوئیں۔“ (صحیح بخاری:2800)
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ جنت کی بشارت حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا اور جناب معاویہ رضی اللہ عنہ پر خصوصی طور پر صادق آتی ہے، کیوں کہ ام حرام رضی اللہ عنہا کا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نام لے کر کہا کہ تم اس گروہ میں شامل ہو، اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر اس طرح کہ آپ ہی اس لشکر کے امیر تھے، تو آپ بدرجہ اولی اس فضیلت کے حقدار ہیں۔
امام مہلب بن ابی صفرہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس حدیث سے معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
(شرح صحیح البخاری لابن بطال:107/5)
امام ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے فرمایا:
”اس حدیث میں جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت ہے۔“ (التمہید:235/1)
اور امام ابوبکر الآجری رحمہ اللہ نے بھی اس حدیث کو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل میں ذکر کیا۔ (الشریعۃ للآجری:1922)
علامہ ابن العربی رحمہ اللہ نے فرمایا:
هذا الحديثُ أصلٌ في تفضيل معاوية۔
”یہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں بنیادی حدیث ہے۔“ (المسالک:106/5)
اس میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ آپ اس امت کے پہلے فرد ہیں جنہوں نے بحری جہاد شروع کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مستحسن قرار دیا، اور فضیلت اس طرح کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً، فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ۔
”جس شخص نے اسلام میں کوئی اچھا عمل شروع کیا تو اسے اس کا اور اس کے بعد اس پر عمل کرنے والوں کا بھی ثواب ملتا ہے، اور ان کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کی جاتی۔“ (صحیح مسلم:1017)

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت آپ کا ”کاتب وحی“ ہونا:

قرآن مجید دنیا کی تمام کتابوں سے بہتر، افضل، مقدس اور عظیم الشان کتاب اور اللہ کا پاک کلام ہے، جسے پڑھنا بھی شرف، سننا بھی شرف، یاد کرنا بھی شرف، سیکھنا بھی شرف اور سکھانا بھی بڑے اعزاز کی بات ہے، جو تمام نبیوں کے سردار سید ولد آدم، سب سے اعلی، پاک اور عظیم ہستی امام الانبیاء جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ہے، تو کیسی شان وعظمت ہو گی اس خوش قسمت کی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی وحی کو آپ کے حکم سے لکھتا تھا، یہ شرف جن صحابہ کو حاصل تھا انہی میں جناب معاویہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان فرمایا:
كُنْتُ أَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم قَدْ جَاءَ فَقُلْتُ: مَا جَاءَ إِلَّا إِلَيَّ فَاخْتَبَأْتُ عَلَى بَابٍ فَجَاءَ فَحَطَأَنِي حَطْأَةً فَقَالَ: اذْهَبْ فَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ! وَكَانَ يَكْتُبُ الْوَحْيَ……..
”میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، تو میں دروازے کے پیچھے چھپ گیا، (آپ ان دنوں بچے تھے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور مجھے تھپکی لگائی اور کہا کہ جاؤ معاویہ کو بلا کر لاؤ! اور آپ (معاویہ رضی اللہ عنہ) کاتب وحی تھے…………“
(دلائل النبوۃ للبیہقی:6/243)
امام ابن عساکر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں سب سے صحیح روایت یہ ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب تھے۔“ (تاریخ دمشق لابن عساکر:106/59)
اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی یہی کہا کہ: ”صحیح ترین روایت جو معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں مروی ہے وہ یہ ہے کہ آپ کاتب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔“ (سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ:694/7)

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی دعا:

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمِيرَةَ- وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ لِمُعَاوِيَةَ: "اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا، وَاهْدِ بِهِ”۔
”صحابی رسول حضرت عبدالرحمٰن بن ابی عمیرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں دعا کی: ”اے اللہ اسے ہادی ومہدی بنا اور اس کے ذریعے لوگوں کو ہدایت عطا فرما۔“ (سنن ترمذی:3842)
اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے ”حسن“ قرار دیا۔
امام جورقانی نے بھی ”حسن“ کہا: (الاباطیل والمناکیر والصحاح والمشاہیر:343/1)
امام ابن عساکر رحمہ اللہ کا بیان ہے: ”صحیح ترین روایت جو معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں مروی ہے وہ یہ ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب تھے، اور اس کے بعد حضرت عرباض رضی اللہ عنہ کی حدیث، اور اس کے بعد (جو صحیح حدیث) مروی ہے وہ ابن ابی عمیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: اے اللہ اسے ہادی ومہدی بنا۔“ [تاریخ دمشق:106/59]
امام ذہبی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ”قوی“ قرار دیا: [السیر:124/3]
امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ”صحیح“ قرار دیا: [البدایۃ:122/8]
امام ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ نے بھی ”حسن“ کہا: [الصواعق المحرقۃ:626/2]
علامہ البانی رحمہ اللہ نے ”صحیح“ کہا: [الصحیحۃ:618/4]
شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے بھی ”صحیح“ کہا: [مشکوٰۃ المصابیح:6244]
اور مولانا ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے ”حسن“ قرار دیا: [دفاع صحابہ:492]

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اور دعا:

عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ السُّلَمِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "اللَّهُمَّ عَلِّمْ مُعَاوِيَةَ الْكِتَابَ وَالْحِسَابَ وَقِهِ الْعَذَابَ۔”
”حضرت عرباض بن ساریہ السلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اے اللہ معاویہ کو کتاب (قرآن مجید) اور حساب کا علم عطا فرما اور اسے عذاب سے محفوظ رکھ۔“ (مسند احمد:17152، صحیح ابن حبان:7210)
اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے ”صحیح“ قرار دیا: [صحیح ابن خزیمہ:1938]
امام ابن حبان رحمہ اللہ نے بھی ”صحیح“ کہا: [صحیح ابن حبان:7210]
امام ابن عساکر رحمہ اللہ نے ”حسن“ کہا: [معجم ابن عساکر:1341]
امام ذہبی رحمہ اللہ نے فرمایا ”اس حدیث کا ایک قوی شاہد ہے“۔ [السیر:124/3]
امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے صحیح قرار دیا [البدایۃ:122/8]
علامہ البانی رحمہ اللہ نے ”حسن“ کہا: [الصحیحۃ:3227]
مولانا زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے ”حسن“ قرار دیا: [فضائل صحابہ:126]
شیخ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے بھی ”حسن“ کہا: [دفاع صحابہ:501]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کا تعلق اور نسبت اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا قول:

جناب معاویہ رضی اللہ عنہ نا صرف صحابی ہیں بلکہ آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت و رشتہ داری بھی حاصل ہے، آپ کی ہمشیرہ ام المومنین حضرت اُمّ حبیبہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں تھیں۔
اور اس بنیاد پر آپ رضی اللہ عنہ کو پوری امت کے ماموں قرار دیا جاتا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت (رشتہ داری) کے متعلق ایک حدیث میں ہے:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كُلُّ سَبَبٍ وَنَسَبٍ مُنْقَطِعٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا سَبَبِي وَنَسَبِي”
”جناب عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن تمام تعلق اور نسبتیں ٹوٹ جائیں گی ماسوائے میرے تعلق اور میری نسبت کے۔“ (المعجم الکبیر للطبرانی:243/11 وسندہ حسن)
علامہ البانی رحمہ اللہ نے ”سلسلۃ الصحیحۃ:2036“ میں اسے ذکر کیا ہے!
اس حدیث کے متعلق امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ کیا جناب معاویہ رضی اللہ عنہ اس حدیث کے مصداق ہیں؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جی ہاں! آپ رضی اللہ عنہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رشتہ داری بھی ہے اور نسبت بھی، اور فرمایا: ہم تو اللہ سے انکی عافیت کا ہی سوال کرتے ہیں۔“ (السنۃ لابی بکر بن الخلال:432/2)

امیر المؤمنین جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کا دور حکومت اور حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوَّلُ هَذَا الْأَمْرِ نُبُوَّةٌ وَرَحْمَةٌ، ثُمَّ يَكُونُ خِلَافَةً وَرَحْمَةً، ثُمَّ يَكُونُ مُلْكًا وَرَحْمَةً……
”جناب عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس امت کا پہلا حصہ نبوت اور رحمت ہے، پھر خلافت اور رحمت، اسکے بعد بادشاہت اور رحمت ہو گی۔“ (المعجم الکبیر للطبرانی:88/11)
اس حدیث میں بھی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت ہے۔ کیونکہ چاروں خلفاء (سیدنا ابوبکر، عمر، عثمان وعلی رضی اللہ عنہم) کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بادشاہ بنے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کی بادشاہت کو رحمت قرار دیا۔
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
وَاتَّفَقَ الْعُلَمَاءُ عَلَى أَنَّ مُعَاوِيَةَ أَفْضَلُ مُلُوكِ هَذِهِ الْأُمَّةِ فَإِنَّ الْأَرْبَعَةَ قَبْلَهُ كَانُوا خُلَفَاءَ نُبُوَّةٍ وَهُوَ أَوَّلُ الْمُلُوكِ؛ كَانَ مُلْكُهُ مُلْكًا وَرَحْمَةً كَمَا جَاءَ فِي الْحَدِيثِ: "يَكُونُ الْمُلْكُ نُبُوَّةً وَرَحْمَةً ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ وَرَحْمَةٌ ثُمَّ يَكُونُ مُلْكٌ وَرَحْمَةٌ ثُمَّ مُلْكٌ وَجَبْرِيَّةٌ ثُمَّ مُلْكٌ عَضُوضٌ” وَكَانَ فِي مُلْكِهِ مِنَ الرَّحْمَةِ وَالْحِلْمِ وَنَفْعِ الْمُسْلِمِينَ مَا يُعْلَمُ أَنَّهُ كَانَ خَيْرًا مِنْ مُلْكِ غَيْرِهِ…..
”علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ جناب معاویہ رضی اللہ عنہ اس امت کے سب سے افضل بادشاہ ہیں، پس ان سے پہلے جو چار گزرے وہ نبوت کے خلفاء تھے، اور وہ (معاویہ رضی اللہ عنہ) پہلے بادشاہ تھے، اور انکی بادشاہت رحمت والی بادشاہت تھی، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: يكون الملك نبوة ورحمة، ثم تكون خلافة ورحمة، ثم يكون ملك ورحمة………… اور آپ کی بادشاہت اس قدر رحمت، حلم اور مسلمانوں کے لیے فائدہ کا باعث تھی کہ جس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کی بادشاہت سب سے بہترین تھی۔“ (مجموع الفتاویٰ:478/4)

امام بخاری رحمہ اللہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت:

امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی عظیم الشان کتاب ”صحیح البخاری“ میں فضائل صحابہ کے چیپٹر میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے تحت یہ روایت نقل کی:
عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: أَوْتَرَ مُعَاوِيَةُ بَعْدَ الْعِشَاءِ بِرَكْعَةٍ وَعِنْدَهُ مَوْلًى لِابْنِ عَبَّاسٍ، فَأَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: دَعْهُ فَإِنَّهُ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔
”جناب ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے عشاء کے بعد ایک وتر پڑھا اور انکے پاس حضرت ابن عباس کا غلام تھا، (یہ دیکھ کر) وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا (اور یہ واقعہ سنایا) تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: انہیں چھوڑ دو کیوں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی ہے!“
(صحیح بخاری:3764)
اس کے بعد ان الفاظ سے روایت نقل کی:
قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: هَلْ لَكَ فِي أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ مُعَاوِيَةَ فَإِنَّهُ مَا أَوْتَرَ إِلَّا بِوَاحِدَةٍ؟ قَالَ: إِنَّهُ فَقِيهٌ۔
”جناب عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا گیا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے تو صرف ایک ہی وتر ادا کیا ہے، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: وہ تو فقیہ ہیں!“ (صحیح بخاری:3765)
اس روایت کو امام ”الجورقانی رحمہ اللہ“ نے بھی فضائل معاویہ رضی اللہ عنہ میں نقل کر کے آپکی فضیلت ثابت کی: [الاباطیل والمناکیر والصحاح والمشاہیر:343/1]
امام ابوالقاسم بغوی رحمہ اللہ نے بھی آپ رضی اللہ عنہ کے ذکر خیر میں اسے نقل کیا: [معجم الصحابۃ:2200]
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی اسے فضائل معاویہ رضی اللہ عنہ کے تحت ذکر کیا ہے: [منہاج السنۃ النبویۃ:235/6]
اور امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے بھی اسے جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل کے ضمن میں نقل کیا ہے۔ [البدایہ والنہایہ:122/8]

❀❀❀