قبرستان میں جان بوجھ کر جانور ذبح نہیں کرنا چاہیے
سیدنا ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
نذر رجل على عهد رسول الله أن ينحر إبلا ببوانة فأتى النبى فقال إني نذرت أن أنحر إبلا ببوانة فقال النبى هل كان فيها وثن من أوثان الجاهلية يعبد قالوا لا قال هل كان فيها عيد من أعيادهم قالوا لا قال رسول الله أوف بنذرك فإنه لا وفاء لنذر فى معصية الله
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی نے نذر مانی کہ وہ مقام بوانہ پر ایک اونٹ ذبح کرے گا، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: بے شک میں نے بوانہ (نامی جگہ) میں اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہاں جاہلیت کا کوئی بت تھا کہ جس کی عبادت ہوتی رہی ہو؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا اس جگہ پر ان کے میلے لگتے تھے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: نہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی نذر پوری کر لے۔ بلاشبہ ایسی نذر کا کوئی پورا کرنا نہیں ہے جس میں اللہ کی نافرمانی ہو۔“
(سنن ابی داود: 3313 وسندہ صحیح)
اس سے معلوم ہوا کہ ہر وہ جگہ جہاں غیر اللہ کی عبادت، نذر و نیاز، پوجا پاٹ اور تقرب غیر اللہ کے اعمال و افعال سرانجام دیئے جاتے ہوں، وہاں قربانی اور ذبح سے بالکل بچنا چاہیے۔