زیارت قبر نبوی سے متعلق ضعیف اور موضوع روایات کا تحقیقی جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الجواب الباہر فی زوار المقابر سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ شیخ عطا اللہ ثاقب نے کیا ہے۔

زیارت نبوی کے متعلق چند معتبر روایات

ائمہ اربعہ اور ان کے علاوہ ائمہ اسلام نے ان روایات پر اعتماد نہیں کیا جو بعض لوگ بیان کرتے ہیں۔ ان میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ:
من زارنى فى مماتى فكأنما زارنى فى حياتى
”جس نے میری وفات کے بعد میری زیارت کی گویا اس نے میری زندگی میں میری زیارت کی۔“
دوسری روایت میں ہے کہ
من زارنى وزار أبى یعنی ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام فى عام واحد ضمنت له على الله الجنة
”جس نے میری اور میرے والد کی ایک ہی سال میں زیارت کی تو میں اس کے جنتی ہونے کی ضمانت دیتا ہوں۔“
یہ اور اس قسم کی دوسری روایات ائمہ اسلام میں سے کسی نے ان کو روایت نہیں کیا، نہ ان پر اعتماد کیا اور نہ ہی یہ روایات صحاح کے مصنفین نے اپنی کتابوں میں درج کیں، اور نہ ہی اہل سنن نے ان کو نقل کیا۔ صحاح اور سنن ایسی کتب ہیں کہ جن کی روایات پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔ یہ روایات ضعیف ہی نہیں بلکہ موضوع ہیں، جیسا کہ علماء رجال نے لکھا ہے۔
جس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کی اس کا شمار ان لوگوں میں ہو گا جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ہجرت کی۔ ان نفوس قدسیہ کے مقابلہ میں اگر کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر دے تو ایسے شخص کا اجر صحابہ رضی اللہ عنہم کے ایک یا نصف مد (جو) کے برابر بھی نہیں ہو سکتا۔ اگر یہ شخص فرائض کی ادائیگی کرے تو بھی صحابہ رضی اللہ عنہم کا مقابلہ نہیں کر سکتا، چہ جائیکہ نفلی عبادت! اس کے برعکس اس شخص کا کیا حال ہو گا جو ایسا عمل کرے جو قرب الہی کا ذریعہ بھی نہیں، یا ایسا عمل کرے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا ہے؟
امام مالک رحمہ اللہ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ کسی شخص کو جائز نہیں کہ وہ یہ کہے کہ ”زرت قبر النبى صلى الله عليه وسلم“، یہ اور اس قسم کے دوسرے الفاظ کہنا مکروہ ہے، کیونکہ سنت خیر الوریٰ میں اس قسم کے الفاظ نہیں ملتے۔ اس کی تعلیل میں بہت سی وجوہ نقل کی گئی ہیں۔
زیارت قبور میں عام احادیث کی روشنی میں بعض لوگوں نے یہ لفظ کہنے کی اجازت دی ہے جو صحیح نہیں ہے۔