شراب اور ہر نشہ آور چیز کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

شراب :

خمر (شراب) ایک الکوحلی مادہ ہے۔ جو نشہ پیدا کرتا ہے۔
یہ بات محتاج بیان نہیں ہے کہ شراب کے کتنے مضر اثرات انسان کے عقل و جسم اور اس کے دین و دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ اور ایک خاندان کے لیے وہ کیا کیا تباہیاں لاتی ہے۔ اور یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ قوم اور سماج کی مادی اخلاقی اور روحانی زندگی کے لیے یہ کس قدر خطر ناک اور مہلک ہے۔
ایک محقق نے بالکل صحیح کہا ہے کہ انسان کو شراب سے بڑھ کر کسی چیز نے گزند نہیں پہنچائی۔ اگر دنیا کے ہسپتالوں کا جائزہ لے کر ان لوگوں کے اعداد و شمار جمع کیے جائیں جو شراب کی وجہ سے جنون اور لاعلاج امراض کا شکار ہو جاتے ہیں، جو قتل و خون کرنے لگ جاتے ہیں اور جو اعصابی بیماریوں اور پیٹ وغیرہ کی تکلیف میں مبتلا ہو جاتے ہیں، نیز جو اپنی املاک سے ہاتھ دھو کر مفلس اور قلاش ہو کر رہ جاتے ہیں، تو اعداد و شمار ایسی خطرناک حد کو پہنچ جائیں گے کہ اس کے مقابلہ میں جو نصیحت بھی کی جائے ، کم ہی محسوس ہوگی۔
عرب زمانہ جاہلیت میں شراب کے متوالے اور رسیا تھے۔ ان کی زبان میں شراب کے تقریباً ایک سو نام تھے اور ان کی شاعری میں شراب کی اقسام اس کی خصوصیات اور جام و مینا اور محفل سرور کا ذکر بڑی کثرت سے کیا گیا ہے۔ جب اسلام کی آمد ہوئی تو اس نے تربیت کا نہایت حکیمانہ انداز اختیار کیا۔ اور تدریجاً اسے کلیتہ حرام قرار دیا۔
اس نے سب سے پہلے نشہ کی حالت میں نماز پڑھنے کی ممانعت کی۔ اس کے بعد یہ بات ذہن نشین کرائی کہ شراب کا گناہ اس کے فائدے سے بڑھ کر ہے۔ اور اخیر میں سورۂ مائدہ کی جامع آیت نازل ہوئی جس نے شراب کا قطعی حکم یوں بیان کر دیا :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ 90 إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ ۖ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ
”اے ایمان والو ! شراب اور جوا اور آستان اور پانسے کے تیر بالکل نجس شیطانی کام ہیں۔ ان سے بچو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعہ تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈالے اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے۔ پھر کیا تم ان چیزوں سے باز آجاؤ گے؟“
سورۃ المائدہ : 90-91
اس قطعی بیان کے بعد مؤمنوں کا جواب تھا۔ ”اے رب ! ہم اس سے باز آگئے۔ اے رب ! ہم باز آگئے۔“
ابو داود كتاب الاشربة باب تحريم الخمر – ح 3670 – ترمذی کتاب تفسیر القرآن باب و من سورة المائدة ح 3049 – نسائی کتاب الاشربة باب تحريم الخمر ، ح 5542
انہوں نے اس آیت کے نازل ہونے پر حیرت انگیز نمونہ پیش فرمایا۔ جو شخص ہاتھ میں جام لیے پی رہا تھا، یہ بات سنتے ہی اس نے منہ سے جام ہٹا دیا اور اسے زمین پر اُنڈیل دیا۔
بخاري كتاب الاشربة باب نزل تحريم الخمر ح 5582 – مسلم كتاب الاشربة باب تحريم الخمر، ح 1980 – المغنى
بہت سی حکومتوں نے شراب کے نقصانات کو جو افراد خاندانوں اور ملکوں کو بھگتنا پڑتے ہیں، تسلیم کر لیا ہے۔ اور بعض حکومتوں نے اسے قانون واقتدار کے بل پر ممنوع قرار دینے کی بھی کوشش کی۔ چنانچہ امریکہ نے شراب کو قانوناً ممنوع قرار دیا تھا لیکن اس میں اُسے بُری طرح ناکامی ہوئی، لیکن اسلام اور صرف اسلام شراب کے خلاف جنگ لڑنے اور اس کا خاتمہ کرنے میں پوری طرح کامیاب ہو گیا۔
اہل کنیسہ کے درمیان شراب کے بارے میں مسیحی مذہب کا موقف متعین کرنے میں اختلاف ہوا ہے۔ انہوں نے اس کا ماخذ انجیل کی اس عبارت کو قرار دیا ہے کہ ”قلیل مقدار میں شراب معدہ کے لیے مفید ہے۔“
اگر یہ کلام صحیح ہو اور واقعی وہ معدے کے لیے مفید ہو، تب بھی قلیل مقدار سے بھی بچنا ضروری ہوگا کیونکہ قلیل مقدار میں پیتے پیتے آدمی کثیر مقدار میں پینے لگے گا اور ایک جام دوسرے جام کی خواہش پیدا کرے گا۔ اس طرح وہ شراب کا عادی اور رسیا بن جائے گا۔

ہر نشہ آور چیز خمر (شراب) ہے :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو کوئی اہمیت نہیں دی کہ شراب کس چیز سے بنائی جاتی ہے بلکہ اس کے اثر یعنی نشہ کو قابل لحاظ سمجھا۔ لہذا جس چیز میں نشہ لانے کی قوت ہو وہ خمر (شراب) ہے۔ خواه لوگوں نے اس کا کوئی سا نام رکھا ہو اور خواہ وہ کسی چیز سے تیار کی گئی ہو، شراب کی اس حقیقت کے پیش نظر بیئر (Beer) اور اس کے مماثل چیزیں حرام ہیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جب پوچھا گیا کہ شہد، مکئی اور جو سے جو شراب بنائی جاتی ہے اس کا کیا حکم ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں بڑی جامع بات ارشاد فرمائی :
كل مسكر خمر وكل مسكر حرام
”ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“
مسلم کتاب الأشربة باب بیان أن کل مسکر خمر، ح : 2003، واللفظ له، وأخرجه البخاري في کتاب المغازي، باب بعث أبي موسی ومعاذ إلی الیمن، ح : 4343 باختلاف یسیر
اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے منبرِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اعلان فرمایا :
الخمر ما خامر العقل
”خمر (شراب) وہ ہے جو عقل کو ڈھانک دے۔“
بخاري کتاب الأشربة باب ما جاء في أن الخمر ما خامر العقل ح : 5588 ، مسلم، کتاب التفسیر، باب في نزول تحریم الخمر، ح : 3032

نشہ آور چیز حرام ہے، خواہ قلیل ہو یا کثیر :

اسلام نے قطعی طور پر شراب حرام کر دی اور کم یا زیادہ مقدار میں پینے کا کوئی لحاظ نہیں کیا تاکہ اس راہ میں انسان کے قدم ڈگمگا نہ جائیں اور وہ گراوٹ کو اختیار نہ کرے۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :
ما أسكر كثيره فقليله حرام
”جو چیز کثیر مقدار میں نشہ لائے اس کی قلیل مقدار بھی حرام ہے۔“
مسند أحمد (343/3) أبو داؤد کتاب الأشربة باب ما جاء في السکر، ح: 3681 ، ترمذي کتاب الأشربة باب ما جاء ما أسکر کثیرہ فقلیلہ حرام، ح: 1865 ، ابن ماجہ کتاب الأشربة باب ما أسکر کثیرہ فقلیلہ حرام ح : 3393
نیز فرمایا :
ما أسكر الفرق منه فملء الكف منه حرام
”جو چیز فرق (ایک ناپ کا پیمانہ جو سولہ رطل کا ہوتا ہے) کی مقدار میں نشہ آور ہو اس کی چلو بھر مقدار بھی حرام ہے۔“
مسند أحمد 131/6 أبو داؤد، حوالہ سابق، ح : 3687 ۔ ترمذي حوالہ سابق ح : 1866